یہ صدی کی سب سے بڑی ڈکیتی پر مبنی ایک نہایت تیز رفتار اور دل کی دھڑکنیں بڑھا دینے والا نیا تھرلر ہے۔
سوفی ٹرنر کو اپنی نئی ہیسٹ تھرلر ’سٹیل‘ میں ان کی اعلی اداکاری پر خوب سراہا جا رہا ہے، جہاں وہ ناظرین کو ابتدا ہی سے گرفت میں لے لیتی ہیں۔
انتیس سالہ اداکارہ نے اس نئی ٹی وی سیریز میں زارا ڈن کا کردار نبھایا ہے جو بدھ، اکیس جنوری 2026 کو ایمیزون پرائم ویڈیو پر ریلیز ہوئی۔
چھ اقساط پر مشتمل یہ کہانی زارا نامی ایک خاتون کے گرد گھومتی ہے جو ایک پنشن فنڈ سرمایہ کاری ادارے میں کام کرتی ہے اور حالات کے ایک غیر متوقع موڑ پر مجرموں کے ایک گروہ کی جو اس کے دفتر کو یرغمال بنا لیتے ہیں مدد سے کروڑوں پاؤنڈ کی ڈکیتی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
پروگرام میں سوفی ٹرنر کے ساتھ آرچی میڈیکوے، جیکب فارچون لوئیڈ، اینڈریو ہاورڈ، ایلی جیمز، جوناتھن سلنگر، ہیری مچل اور تھامس لارکن بھی شامل ہیں، جن کی موجودگی کہانی کو مزید وزن دیتی ہے۔
اگرچہ سیریز کو سکرین پر آئے ابھی زیادہ وقت نہیں ہوا، اکثر ناقدین اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ جو کچھ پیش کیا گیا ہے وہ متاثر کن ہے۔ دی ٹائمز کے لکھاری ٹائمز گلین فیلڈ نے پروگرام کو چار ستارے دیتے ہوئے سرخی لگائی کہ سوفی ٹرنر کی ہیسٹ تھرلر ٹی وی کو انتہا تک لے جاتی ہے۔
ان کے بقول یہ صرف ایک ڈکیتی کی کہانی نہیں بلکہ ایک نفیس تھرلر ہے جو اپنی ہیئت بدلتا رہتا ہے اور ناظر کو مسلسل باندھے رکھتا ہے؛ سٹیل شاید صنف کی نئی تعریف نہ کرے مگر یہ بخوبی جانتا ہے کہ ناظر کی گرفت کیسے مضبوط رکھنی ہے، داؤ کیسے بڑھانا ہے اور سب سے بڑھ کر تفریح کیسے فراہم کرنی ہے۔
دی ٹیلی گراف کی انیتا سنگھ کے مطابق سٹیل کی پہلی قسط شان دار حد تک تناؤ سے بھرپور ہے، جہاں لندن کے سکوائر مائل میں ہونے والی ڈکیتی کو نہایت باریکی سے دکھایا گیا ہے، مجرموں کے ٹیوب، بس اور ٹیکسی کے ذریعے سٹی کے ملازمین کے لباس میں سفر سے لے کر لفٹ میں نیم خودکار ہتھیار جوڑنے اور پھر ایک پنشن سرمایہ کاری فرم سے اربوں پاؤنڈ لوٹنے تک۔ ان کے چہرے عجیب اور خوفناک لگتے ہیں، جیسے یا تو سب غیر معمولی طور پر بدصورت ہوں یا پھر چہرے پر مصنوعی نقاب لگے ہوں۔
دی گارڈین کی لوسی مینگن لکھتی ہیں کہ تمام ایکشن کے باوجود ’سٹیل‘ سوچنے کی گنجائش نکال لیتا ہے اور کہانی کی رفتار کم کیے بغیر اس خیال پر غور کرتا ہے کہ دولت کی محبت ہر برائی کی جڑ ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کے نزدیک مالیاتی دنیا کو ایک ایسے نظام کے طور پر دکھایا گیا ہے جو دراصل جوا کھیلنے پر قائم ہے، جہاں چند لوگ دوسروں کے پیسے سے کھیلتے ہیں اور اس کے بدلے غیر متناسب انعام پاتے ہیں۔
اخبار میٹرو کے مائلو پوپ کے مطابق اس میں وہ تمام عناصر موجود ہیں جن کی ایک تھرلر سے توقع کی جاتی ہے، گھبراہٹ میں کیے گئے فیصلے، اسلحے کا استعمال اور اوپر سے ایک جری رومانوی زاویہ، مگر اس کے ساتھ ساتھ مصنف سوٹیرس نیکیاس کی سکرین رائٹنگ نے ابتدائی دو اقساط میں ایسی برق رفتار شروعات کی کہ ناقد خود حیران رہ گئے۔
کولائیڈر کی تھیریس لیکسن کے مطابق ایک اچھی ہیسٹ فلم جیسی کوئی چیز نہیں، نہ ہی ایک مضبوط حکومتی سازش پر مبنی فلم کی کوئی مثال، اور جب یہ تینوں عناصر اکٹھے ہو جائیں تو نتیجہ ’سٹیل‘ کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
پرائم ویڈیو کی یہ نئی کرائم تھرلر ایک پیچیدہ ڈکیتی کو دکھاتی ہے جس کے اثرات سڑک پر چلنے والے عام آدمی سے لے کر حکومت کے اعلیٰ ترین ایوانوں تک محسوس ہوتے ہیں۔
ایس اے نیکیاس کی تخلیق اور سوفی ٹرنر کی اداکاری سے مزین یہ چھ اقساط پر مشتمل منی سیریز موڑ پر موڑ پیش کرتی ہے اور بطور اداکار ٹرنر کی صلاحیتوں کا ایک مضبوط مظاہرہ ثابت ہوتی ہے، اگرچہ یہ بے عیب نہیں، مگر دیکھنے والے کو آخر تک باندھے رکھتی ہے۔
فنانشل ٹائمز کی رپورٹر ریبیکا نکلسن کے مطابق ابتدا میں یہ متاثر کن ہیسٹ تھرلر یوں محسوس ہوتی ہے جیسے وہ یا تو نئی انڈسٹری بننا چاہتی ہو یا ڈائی ہارڈ کی طرز پر آگے بڑھے گی، مگر انجام کار یہ دونوں کے بیچ ایک جگہ ٹھہرتی ہے جہاں سازشی ایکشن اس کے ابتدائی تصور پر حاوی ہو جاتا ہے۔
سوفی ٹرنر، جو گیم آف تھرونز میں بھی دیکھی جا چکی ہیں، یہاں زارا کا کردار ادا کرتی ہیں، جو لندن کے سکوائر مائل میں واقع ایک فرضی پنشن سرمایہ کاری کمپنی لوچ مل کیپیٹل میں ایک نچلے درجے کی ملازمہ ہے۔
دفتر کا ایک عام دن، شدید ہینگ اوور اور ایک انٹرن کو دفتر دکھانے کی ذمہ داری کے ساتھ شروع ہو کر اس وقت انتہائی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے جب وہ خود کو ایک ’ہائی آکٹین‘ مسلح ڈکیتی کے مرکز میں پاتی ہے، جسے عجیب و غریب نقاب پوش افراد انجام دے رہے ہوتے ہیں۔
جیسے جیسے جرم کی تفصیلات سامنے آتی ہیں، یہ تاثر مضبوط ہوتا جاتا ہے کہ زارا کا کردار محض اتفاقی نہیں بلکہ بظاہر دکھائی دینے سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔
پرائم ویڈیو کی ’سٹیل‘ کا موازنہ لازمی طور پر انڈسٹری سے کیا جائے گا، مگر یہ کہ یہ ان بلندیوں تک نہیں پہنچتی، اس کے باوجود اپنی جگہ ایک کامیاب اور بھرپور ایکشن تھرلر کے طور پر خود کو منوا لیتی ہے۔