امریکہ میں نیکسٹ ٹاپ ماڈل مقابلے (America’s Next Top Model) کی سابق فاتح انڈیا گینٹس نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے مقابلہ جیتنے پر ملنے والی ایک لاکھ ڈالر کی نقد رقم محض ایک سال میں خرچ کر ڈالی۔ بعد ازاں انہیں اپنی جیتی ہوئی رقم پر عائد ٹیکس ادا کرنے کے لیے قسطوں کا منصوبہ اپنانا پڑا۔
انتیس سالہ مواد تخلیق کرنے والی ماڈل نے، جنہوں نے 2017 میں اس شو کے تیئسویں دور میں کامیابی حاصل کی تھی، اتوار کو ٹک ٹاک پر ایک ویڈیو میں اپنی داستان بیان کی۔ انہوں نے یاد کیا کہ جیت کے وقت انہیں ایک چیک دیا گیا جس پر ’100,000 ڈالر‘ درج تھا اور اس میں سے کوئی ٹیکس منہا نہیں کیا گیا تھا۔
تاہم انہوں نے بتایا کہ جب ایک سال بعد اس رقم پر ٹیکس ادا کرنے کا وقت آیا تو وہ پوری رقم پہلے ہی خرچ ہو چکی تھیں۔
ان کے بقول، ’یہ بات سننے میں عجیب لگتی ہے، مگر میں نے نیو یارک شہر کے ایک دلکش اپارٹمنٹ کا ایک سال کا کرایہ پیشگی ادا کر دیا تھا۔ میرا ارادہ تھا کہ میری روم میٹ ہر ماہ مجھے کرایہ ادا کرے گی۔ صرف اس مد میں ساٹھ ہزار ڈالر سے زائد خرچ ہو گئے۔ اس کے علاوہ میں نے ایک بروکر کی خدمات بھی حاصل کیں۔‘
گینٹس نے بتایا کہ ان کے والدین نے مشورہ دیا تھا کہ انعامی رقم کا 30 فیصد ٹیکس کی ادائیگی کے لیے الگ رکھ دیں۔ مگر انہیں گمان تھا کہ شو جیتنے کے بعد ماڈلنگ کے میدان میں انہیں وافر مواقع ملیں گے اور آمدنی کا سلسلہ جاری رہے گا۔
انہوں نے کہا، ’میں سمجھتی تھی کہ اس کامیابی کے بعد ایک لاکھ ڈالر کے چیک ادھر اُدھر سے آتے رہیں گے۔ مجھے لگا کہ بے شمار کام ملیں گے۔ میں نے سوچا کہ جس طرزِ زندگی کی ایک فاتحہ سے توقع کی جاتی ہے، اسے برقرار رکھنا ضروری ہے۔ نیو یارک میں اچھا اپارٹمنٹ، عمدہ لباس، اچھے ریستوران، بالوں کی آرائش — یہ سب لازم تھا تاکہ میں باوقار نظر آؤں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے مزید کہا کہ انہیں یقین تھا کہ خواہ خرچ کچھ زیادہ بھی ہو جائے تو بھی وہ 35 سے 40 ہزار ڈالر تک کے ٹیکس بآسانی ادا کر سکیں گی۔ ’میں نے سمجھا کہ انعامی رقم میں سے کچھ الگ رکھنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ آمدنی تو بہت ہونے والی ہے۔ مگر حقیقت اس کے برعکس نکلی۔‘
ایک اور ویڈیو میں انہوں نے واضح کیا کہ نیو یارک سے لاس اینجلس منتقل ہونے کے اخراجات سمیت تمام رقم ٹیکس کی ادائیگی سے پہلے ہی ختم ہو چکی تھی، جس کے باعث انہیں طویل عرصے تک قسطوں میں ٹیکس ادا کرنا پڑا۔
گانٹس نے اعتراف کیا کہ اگر آج انہیں ایک لاکھ ڈالر ملیں تو وہ اسے مختلف انداز میں استعمال کریں گی، مثلاً سرمایہ کاری کر کے مزید آمدنی پیدا کرنے کی کوشش کریں گی۔
ان کے الفاظ میں، ’انیس یا بیس برس کی عمر میں میری سوچ آج جیسی نہیں تھی۔ غلطیوں سے سیکھنا ہی میرا طریقہ ہے۔ میں نے مالی معاملات اور منصوبہ بندی کے بارے میں بہت کچھ سیکھ لیا ہے۔‘
وہ اس پروگرام کی واحد فاتح نہیں جنہوں نے اپنی جیتی ہوئی رقم کے بارے میں گفتگو کی ہو۔ پہلے سیزن کی فاتحہ ایڈرین کری کو Wilhelmina Models کے ساتھ معاہدہ، میگزین میری کلیر میں تصویری اشاعت اور ریولون کے ساتھ اشتہاری معاہدہ دیا گیا تھا۔ تاہم ان کا دعویٰ تھا کہ انہیں وہ بڑا معاہدہ نہیں ملا جس کا وعدہ ججوں اور میزبان ٹائرا بینکس کی جانب سے کیا گیا تھا۔
انہوں نے 2023 میں انٹرٹینمنٹ ویکلی کو بتایا تھا کہ اصل میں انہیں ریولون کے دفتر لے جا کر ایک کمرے میں بٹھایا گیا، جہاں میک اپ آرٹسٹ نے ان کے چہرے پر میک اپ کیا اور تقریباً سات لوگوں کی ایک ٹیم نے یہ عمل دیکھا۔ ’کون اس کے لیے ان کی طرح اتنی سختی سے لڑے گا؟‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس عمل سے انہیں اپنی ’تذلیل‘ محسوس ہوئی تھی، جس کے لیے انہوں نے کہا کہ انہیں صرف 15,000 ڈالر ادا کیے گئے۔
© The Independent