فارمولا ون میں خاتون چیمپئن تیار کرنے کی کوششیں

اس پروگرام میں بارہ کے قریب کم عمر لڑکیوں نے پہلی بار تیز رفتار کارٹنگ ٹریک پر گاڑیاں چلائیں۔ یہ اقدام فارمولا ون میں صنفی خلا کو کم کرنے کی ایک کوشش کے طور پر کیا گیا۔

انگلینڈ کے شہر ناٹنگھم میں اکتوبر کے مہینے میں لڑکیوں کے لیے ایک خصوصی کارٹنگ ٹیسٹ ڈے کا انعقاد کیا گیا جس کا مقصد موٹر اسپورٹس، خصوصاً مردوں کے زیرِ تسلط کھیل فارمولا ون میں خواتین کی شمولیت کو فروغ دینا تھا۔

اس پروگرام میں بارہ کے قریب کم عمر لڑکیوں نے پہلی بار تیز رفتار کارٹنگ ٹریک پر گاڑیاں چلائیں۔ یہ اقدام فارمولا ون میں صنفی خلا کو کم کرنے کی ایک کوشش کے طور پر کیا گیا، جہاں گزشتہ تقریباً پچاس برسوں سے کوئی خاتون ڈرائیور مستقل طور پر مقابلہ نہیں کر سکی۔ اطالوی ڈرائیور لیلا لومبارڈی 1976 میں فارمولا ون گراں پری میں حصہ لینے والی آخری خاتون تھیں۔

خواتین ڈرائیوروں کی حوصلہ افزائی کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’مور دین ایکوئل‘ کے مطابق لڑکیاں اوسطاً لڑکوں کے مقابلے میں دو سال تاخیر سے کارٹنگ شروع کرتی ہیں، جس کی وجہ سے وہ ترقی کے سفر میں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ کم عمری میں موٹر اسپورٹس تک محدود رسائی، سماجی رویے، مالی مشکلات اور رول ماڈلز کی کمی خواتین کے آگے بڑھنے میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

موٹر اسپورٹس یوکے کے کوچنگ منیجر کیمرون بگس کے مطابق، ’یہ وہ ابتدائی قدم ہیں جو کسی لڑکی کو اس کھیل میں آگے لے جا سکتے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ نچلی سطح سے لے کر اعلیٰ درجے تک ایک واضح راستہ بنایا جائے۔‘

شرکت کرنے والی بچیوں میں جوش و جذبہ نمایاں تھا۔ 11 سالہ میگن نے بتایا کہ وہ دوسرے چکر میں سب سے آگے رہی جس پر اسے فخر ہے، جبکہ ایرن نے کہا کہ وہ فارمولا ون دیکھتی ہے اس لیے ٹریک پر گاڑی چلانے کا طریقہ کچھ حد تک جانتی تھی۔

ادھر 15 سالہ اسکائی پارکر، جو پہلے ہی کارٹنگ اور فارمولا فور میں حصہ لے رہی ہیں، نے فارمولا ون ورلڈ چیمپئن بننے کے عزم کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اب خواتین کی تعداد بڑھ رہی ہے مگر فارمولا ون میں اب بھی کسی خاتون رول ماڈل کی کمی محسوس ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق فارمولا ون ایک انتہائی مہنگا کھیل ہے، جس کی وجہ سے بھی بہت سی باصلاحیت لڑکیاں آگے نہیں بڑھ پاتیں۔ تاہم ناٹنگھم میں ہونے والے اس پروگرام میں شریک بچیوں کے چہروں پر صرف خوشی اور اعتماد نظر آیا۔

آٹھ سالہ تھیا کا دیگر لڑکیوں کے لیے پیغام تھا: ’شرمانا نہیں، بہادر بنو اور مزے سے گاڑی چلاؤ۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سٹائل