بلوچستان میں فورسز کی کارروائیاں، 15عسکریت پسند مارے گئے: فوج

پاکستان فوج کے مطابق کہ ضلع ہرنائی اور بسیمہ میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کیے گئے الگ الگ آپریشنز میں ’انڈین حمایت یافتہ‘ 15 عسکریت پسند مارے گئے جبکہ اسلحہ اور بارودی مواد بھی برآمد کر لیا گیا۔

بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں 30 ستمبر 2025 کو سیکورٹی اہلکار ایک فوجی گاڑی کے پاس ہتھیار کے ساتھ کھڑے ہیں (فائل فوٹو/ اے ایف پی)

پاکستانی فوج نے ہفتے کو بتایا کہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بنیادوں پر کیے گئے دو مختلف آپریشنز میں ’انڈین حمایت یافتہ‘ 15 عسکریت پسند مارے گئے۔

حالیہ دنوں میں دارالحکومت اسلام آباد سمیت صوبہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں شدت پسندی کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں اور سکیورٹی فورسز ان واقعات میں ملوث عناصر کی سرکوبی کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے ہفتے کو جاری بیان میں بتایا گیا کہ ضلع ہرنائی میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کیا گیا، جس کے دوران سکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد ’انڈیا کے حمایت یافتہ فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے‘ 12 عسکریت پسند مارے گئے۔

’فتنہ الخوارج‘ کی اصطلاح پاکستانی حکومت اور فوج کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے استعمال کرتی ہے، جن کے بارے میں اسلام آباد کا موقف ہے کہ ان کی قیادت افغانستان میں موجود ہے اور انہیں انڈیا کی سرپرستی حاصل ہے۔ تاہم کابل اور نئی دہلی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فوج کے بیان کے مطابق ایک اور انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن ضلع بسیمہ میں کیا گیا، جہاں سکیورٹی فورسز نے ’فتنہ الہندوستان سے وابستہ دہشت گردوں‘ کی موجودگی کا سراغ لگا کر انہیں مختلف ہتھیاروں سے نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد تین عسکریت پسند مارے گئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق مارے جانے والے عسکریت پسندوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا، جو دہشت گردی کی مختلف کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’علاقے میں مزید کسی بھی انڈین حمایت یافتہ دہشت گرد کی موجودگی کے خاتمے کے لیے سرچ اور کلیئرنس آپریشن جاری ہیں۔‘

آئی ایس پی آر کے مطابق: ’سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظوری سے شروع کیے گئے وژن عزم استحکام کے تحت غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان