پاکستان فوج نے جمعرات کو بتایا ہے کہ بلوچستان کے ضلع ژوب میں 25 فروری کو کیے جانے والے آپریشن میں 10 عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 24 فروری کو ژوب میں ہی کیے جانے والے آپریشن کے بعد چھپ جانے والے عسکریت پسندوں کی تلاش کے لیے ایک آپریشن کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق 24 فروری 2026 کو بلوچستان کے ضلع ژوب کے علاقے سمبازہ میں کی گئی کارروائی میں آٹھ عسکریت پسند مارے گئے تھے۔
اس سے قبل پاکستان فوج نے 25 فروری کو ایک بیان میں بتایا تھا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں خفیہ معلومات کی بنیاد پر کیے جانے والے الگ الگ آپریشن میں کل 34 عسکریت پسند مارے گئے تھے۔
عسکریت پسندی پاکستان کے لیے ایک بڑھتا ہوا مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ عالمی نگرانی تنظیم اے سی ایل ای ڈی کے مطابق 2022 کے بعد ہر سال حملوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تنظیم کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 2022 میں 658 عسکریت پسند حملے ہوئے جن میں 2025 میں تقریباً چار گنا اضافہ اور 2,425 حملے ہوئے جبکہ اسی عرصے میں ٹی ٹی پی کے حملے 118 سے بڑھ کر 838 ہو گئے، جو سات گنا سے زیادہ اضافہ ہے۔
اس تازہ کارروائی کے حوالے سے آئی ایس پی آر نے بتایا ہے کہ 25 فروری کو سکیورٹی فورسز نے ژوب میں ایک جامع آپریشن کیا تاکہ علاقے میں چھپے عسکریت پسند کو ڈھونڈا جا سکے۔
بیان کے مطابق اس آپریشن کے دوران اہلکاروں نے مختلف مقامات پر عکسریت پسندوں کی نشاندہی کی اور انہیں نشانہ بنایا جس میں 10 ’انڈین سپانسرڈ‘ عسکریت پسند مارے گئے۔