پینٹاگون کے اعلیٰ مالیاتی عہدیدار نے بدھ کو قانون سازوں کو بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ پر اب تک تقریباً 25 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔
ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے اجلاس کے دوران قائم مقام انڈر سیکرٹری برائے مالیات جولز ہرسٹ سوم نے بتایا کہ اس رقم کا بڑا حصہ اسلحہ اور گولہ بارود پر خرچ کیا گیا، جبکہ فوجی کارروائیوں کے اخراجات اور ساز و سامان کی تبدیلی پر بھی خطیر رقم صرف کی گئی۔
28 فروری کو شروع ہونے والی اس جنگ کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں شدید کشیدگی پیدا ہوئی۔ اس تنازعے نے عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، خصوصاً آبنائے ہرمز کی بندش نے تیل کی قیمتوں اور درآمدی لاگت کو بڑھا دیا، جو ایندھن کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کو ایران جنگ شروع ہونے کے بعد بدھ کو پہلی بار قانون سازوں کے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ یہ ایک مہنگی جنگ ہے جو کانگریس کی منظوری کے بغیر شروع کی گئی۔
یہ سماعت ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی میں منعقد ہوئی جس کا مقصد 2027 کے فوجی بجٹ پر بات چیت تھا، جس کے تحت دفاعی اخراجات کو بڑھا کر ریکارڈ 1.5 ٹریلین ڈالر تک لے جانے کی تجویز ہے۔
پیٹ ہیگستھ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین سے توقع ہے کہ وہ مزید ڈرونز، میزائل دفاعی نظام اور جنگی جہازوں کی ضرورت پر زور دیں گے۔
ڈیموکریٹس کی جانب سے جنگ کے بڑھتے اخراجات، اہم امریکی اسلحے کے تیزی سے استعمال اور ایک سکول پر بمباری جس میں بچوں کی اموات ہوئیں، جیسے معاملات اٹھائے جانے کا امکان ہے۔
بعض ارکان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات اور ایرانی ڈرون حملوں کے خلاف فوج کی تیاری پر بھی سوال اٹھا سکتے ہیں، کیونکہ کچھ ڈرون امریکی دفاعی نظام کو عبور کر کے فوجیوں کو قتل یا زخمی کر چکے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
واشنگٹن سے ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے کہا: ’آپ کئی چھوٹی لڑائیاں جیت سکتے ہیں لیکن جنگ ہار سکتے ہیں، اسی لیے ابتدا ہی میں جنگ میں نہیں الجھنا چاہیے۔ میرے خیال میں حکمت عملی یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ تشدد اور دباؤ کے ذریعے دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالا جائے، جو ایک انتہائی خطرناک راستہ ہے۔‘
اگرچہ اس وقت ایک نازک جنگ بندی قائم ہے، مگر امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو بغیر کانگریسی نگرانی کے جنگ کا آغاز کیا تھا۔ ڈیموکریٹس کی جانب سے پیش کی گئی متعدد قراردادیں، جن کے ذریعے صدر ٹرمپ کو جنگ روکنے پر مجبور کیا جا سکتا تھا، منظور نہ ہو سکیں۔
رپبلکن ارکان کا کہنا ہے کہ وہ فی الحال جنگ کے دوران ٹرمپ کی قیادت پر اعتماد برقرار رکھیں گے، خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام اور ممکنہ مذاکرات کے پیش نظر، تاہم وہ بھی چاہتے ہیں کہ جنگ جلد ختم ہو اور اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو آئندہ ووٹنگ صدر کے لیے ایک اہم امتحان بن سکتی ہے۔
کمیٹی کے چیئرمین رپبلکن رکن مائیک راجرز نے سماعت کا آغاز دفاعی اخراجات بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے چین، روس اور ایران کی جانب سے دفاعی اخراجات میں اضافے کی نشاندہی کی۔
انہوں نے کہا: ’ہمارے پاس اتنا اسلحہ، جہاز، طیارے یا خودکار نظام موجود نہیں کہ ہر دشمن کے خلاف برتری حاصل کر سکیں جبکہ وہ اپنی جی ڈی پی کا زیادہ حصہ دفاع پر خرچ کر رہے ہیں۔‘
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اب تک اس جنگ پر قانون سازوں کے براہِ راست سوالات سے گریز کرتے رہے ہیں، تاہم انہوں نے اور جنرل کین نے پینٹاگون میں بریفنگز ضرور دی ہیں۔ ہیگستھ زیادہ تر قدامت پسند صحافیوں کے سوالات لیتے رہے ہیں اور مرکزی میڈیا کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔