پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق ان افراد کو روزگار کا جھانسہ دے کر پنجاب سے گوادر بلایا گیا تھا، جس کے بعد ملزمان نے یرغمالیوں کو ایک بنگلے میں قید کرکے ان کے اہلِ خانہ سے مزید رقم منگوانے کے لیے دباؤ ڈالا۔
دس روز قبل مبینہ طور پر اغوا ہونے والے گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر، پرووائس چانسلر اور دیگر دو اہلکار مستونگ سے بازیاب ہو کر اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔ حکام نے بازیابی کی تصدیق کر دی ہے۔