پاکستان نے بدھ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو (یو این) اپنی پابندیوں کی رجیم کے تحت ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزد کرنے کے لیے تیزی سے آگے بڑھا جائے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کو دہشت گردی کی کارروائیوں کی وجہ سے ’بین الاقوامی امن اور سلامتی کو لاحق خطرات‘ پر بریفنگ میں بتایا کہ بی ایل اے کو کونسل کی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کی درخواست پہلے ہی زیر غور ہے۔
31 جنوری 2026 کو بلوچستان کے 12 مختلف مقامات پر کالعدم علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ’آپریشن ہیروف 2.0‘ کے تحت ’مربوط حملے‘ کیے، جنہیں سکیورٹی فورسز کے مطابق ناکام بنا کر 100 سے زائد عسکریت پسندوں کو مار دیا گیا۔ اس سے قبل جمعے کو پاکستانی فوج نے بتایا تھا کہ صوبے میں سکیورٹی فورسز کی دو مختلف کارروائیوں میں ’41 انڈین حمایت یافتہ دہشت گرد‘ مارے گئے۔
اتوار (یکم فروری) کو بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے بتایا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے پچھلے 40 گھنٹوں میں 145 عسکریت پسندوں کو مارا، جو بقول ان کے ’دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ کے دوران اتنے کم عرصے میں اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔‘
حالیہ حملوں میں 48 پاکستانی شہری بھی جان سے گئے، جن میں پانچ خواتین اور تین بچوں سمیت 31 عام شہری بھی شامل تھے۔
سلامتی کونسل کے ارکان نے منگل کو بلوچستان میں ہونے والے حالیہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے زور دیا تھا کہ ’ان قابلِ نفرت دہشت گردانہ کارروائیوں کے مرتکبین، منصوبہ سازوں، مالی معاونین اور سرپرستوں کو جواب دہ ٹھہرا کر انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔‘
بلوچستان: کالعدم بی ایل اے کے حملوں میں مبینہ طور پر خواتین بھی شامل
— Independent Urdu (@indyurdu) January 31, 2026
کالعدم علیحدگی پسند گروپ بلوچستان لبریشن آرمی کی شیئر کردہ ویڈیوز میں خواتین کو ہفتے کو بلوچستان بھر میں مربوط حملوں میں مبینہ طور پر حصہ لیتے دکھایا گیا ہے۔#Pakistan #Balochistan #IndependentUrdu pic.twitter.com/9YBd0Fi3t1
گذشتہ سال اگست میں امریکی محکمہ خارجہ نے بی ایل اے اور اس کے مجید بریگیڈ کو اپنی غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ ’ہمیں امید ہے کہ کونسل اس وقت زیر غور فہرست سازی کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے بی ایل اے کو 1267 پابندیوں کے نظام کے تحت نامزد کرنے کے لیے تیزی سے کام کرے گی۔‘
اپنے خطاب میں پاکستانی سفیر نے بلوچستان میں حالیہ حملوں کی مذمت میں ایک پریس بیان جاری کرنے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین کا شکریہ ادا ان کی تعریف کرتے ہوئے اسے ’پاکستان کے ساتھ بین الاقوامی حمایت اور یکجہتی کا اظہار‘ قرار دیا۔
#PakistanAtUNSC
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) February 5, 2026
Pakistan urges the UN Security Council to act swiftly to designate BLA as a terrorist group under the 1267 sanctions regime; thanks the Council members for press statement and expression and solidarity with Pakistan
Ambassador Asim Iftikhar Ahmad, Permanent… pic.twitter.com/6sviayHYis
انہوں نے کہا کہ ’ہم اپنی سرزمین سے بیرونی طور پر اسپانسر شدہ اس لعنت کو ختم کرنے اور اپنی سرحدوں کے اس پار بیٹھے کفیلوں، مالی معاونت کرنے والوں، مدد کرنے والوں کو بے نقاب کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔‘
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے۔
پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ ’انسداد دہشت گردی کی عالمی کوششوں میں ایک فرنٹ لائن ریاست کے طور پر ہم نے 90 ہزار اموات اور بے پناہ معاشی نقصانات کے ساتھ بے پناہ جانی اور مالی قربانیاں دی ہیں۔
مندوب نے انسداد دہشت گردی کی سابقہ کوششوں میں پاکستان کے کردار کو دہراتے کرتے ہوئے کہا کہ القاعدہ کو ’پاکستان کی اہم کوششوں کی وجہ سے افغانستان میں بڑی حد تک تباہ کر دیا گیا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے عسکریت پسند داعش کی علاقائی گروہوں سے نمٹنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
تاہم سفیر احمد نے خبردار کیا کہ حالیہ برسوں میں خصوصاً کابل پر افغان طالبان کے قبضے کے بعد سلامتی کی صورت حال خراب ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’بیرونی طور پر سپانسر شدہ اور غیر ملکی امداد سے چلنے والے پراکسی دہشت گرد گروپس جیسے فتنہ الخوارج تحریک طالبان ُاکستان (ٹی ٹی پی) اور فتنہ الہندوستان بی ایل اے (بلوچ لبریشن آرمی) اور اس کی مجید بریگیڈ کو زندگی کی نئی زندگی مل گئی ہے۔
بلوچستان میں تازہ ترین تشدد کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی ایل اے نے متعدد مقامات پر مربوط حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
بلوچستان پر حملہ کرنے والے عام دہشت گرد نہیں تھے، انڈیا ان کے پیچھے ہے: وزیر داخلہ محسن نقوی#IndependentUrdu #Balochistan #India #Attack #mohsinnaqvi pic.twitter.com/8y7T5fFu9A
— Independent Urdu (@indyurdu) February 1, 2026
انہوں نے کہا کہ ’ابھی اس ہفتے کے آخر میں بی ایل اے نے صوبہ بلوچستان میں متعدد مقامات پر دہشت گردانہ حملوں کی ذمہ داری قبول کی جس کے نتیجے میں 5 خواتین اور تین بچوں سمیت 48 معصوم شہریوں کی شہادت ہوئی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہماری بہادر سکیورٹی فورسز کے موثر جوابی کارروائی کے دوران بی ایل اے کے 145 دہشت گردوں کو مارا دیا گیا۔‘
سفیر احمد نے اقوام متحدہ کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے افغانستان سے نکلتے ہوئے علاقائی خطرے کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا۔
’یہ دہشت گرد گروہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور اس سے آگے کے لیے خطرہ ہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد پیچھے رہ جانے والے جدید ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے خلاف بھی خبردار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’افغانستان میں غیر ملکی افواج کی طرف سے چھوڑے گئے اربوں ڈالر کے جدید ترین ہتھیاروں اور آلات کو دہشت گردوں کے ہاتھ میں جانے سے روکنا ناگزیر ہو گیا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو دہشت گردی کے عصری خطرات سے نمٹنے کے لیے اجتماعی، جامع اور مربوط ردعمل کے ذریعے، بشمول گلوبل کاؤنٹر تیررازم سٹریٹجی کا نفاذ۔
پاکستانی سفیر انسداد دہشت گردی کے لیے منتخب طریقوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’انسداد دہشت گردی کی پالیسیوں میں اب تک صرف ایک مذہب کے ماننے والوں کو شامل کیا گیا ہے۔‘
انہوں نے انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ریاستی دہشت گردی کے لیے زیرو ٹالرنس ہونا چاہیے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ’غیر ملکی قبضے کے خلاف لوگوں کی جائز جدوجہد کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔‘
انہوں نے کہا کہ اس سال کے آخر میں انسداد دہشت گردی کی عالمی حکمت عملی کے آئندہ 9ویں جائزے نے ’ہمارے اجتماعی عزم کی تجدید‘ اور موجودہ خلا کو دور کرنے کا موقع فراہم کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کثیرالجہتی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا جس کا مقصد اجتماعی کوششوں اور تعاون کے ذریعے اس لعنت سے نمٹنے اور اس کے خاتمے کے لیے جامع حکمت عملی وضع کرنا ہے۔