جب باچا خان نے فوج میں بھرتی کے لیے کمانڈر ان چیف کو خط لکھا

باچا خان اپنی سوانح عمری میں لکھتے ہیں کہ ابھی میٹرک کا امتحان جاری تھا کہ برٹش انڈیا کی فوج کی طرف سے خط کا جواب آگیا جس میں ریکروٹنگ دفتر رپورٹ کرنے کا کہا گیا۔

خان عبد الغفار خان، چارسدہ کے گاؤں اتمانزئی میں ایک بزرگ بہرام خان کے ہاں 1890میں پیدا ہوئے  تھے (تصویر: بشکریہ وکی پیڈیا)

یہ سکول کے دن تھے جب خان عبدالغفار خان عرف باچا خان نے پشاور کے میونسپل بورڈ ہائی سکول سے پرائمری کی تعلیم مکمل کی اور مشن سکول میں نویں جماعت میں داخلہ لیا۔ ان کے دوسرے بھائی ڈاکٹر خان صاحب طب کی تعلیم کے لیے ممبئی چلے گئے تھے۔

چارسدہ میں 1890 میں آنکھیں کھولنے والے باچا خان نے اپنی سوانح عمری میں لکھا ہے کہ بارانی کاکا باچا خان کے ملازم تھے اور مشن سکول میں زیادہ تر ان کے ساتھ ہوتے تھے۔ بارانی کاکا فوج سے بہت متاثر تھے۔

باچا خان مزید لکھتے ہیں کہ بارانی کاکا اس وقت برٹش انڈین فوج (یہ 19ویں صدی کے اوائل کا زمانہ تھا) کے سپاہیوں اور افسروں کی عزت اور احترام کی کہانیاں سنایا کرتے تھے۔

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی جانب سے باچا خان کی 38 ویں برسی منائی جا رہی ہے اور یہ پورا ہفتہ اسی برسی کے حوالے سے مختلف تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔

باچا خان لکھتے ہیں کہ بارانی کاکا کی کہانیاں سنتے سنتے ’میں فوج سے بہت متاثر ہوا تھا اور اسی وجہ سے فوج میں بھرتی ہونے کی خواہش پیدا ہوگئی تھی۔‘

یہی شوق تھا کہ باچا خان نے والدین سے مشورہ کیے بغیر انڈیا کے فوج کے کمانڈر ان چیف کو فوج میں ڈائریکٹ کمیشن پر بھرتی کے لیے خط لکھا دیا۔

سوانح عمری میں باچا خان نے لکھا ہے کہ جواب کا انتظار تھا اور ظاہری بات ہے فوج نے ہمارے خاندان کا بیک گراؤنڈ چیک کرنا تھا اور اسی دوران میں نویں سے 10 ویں کلاس میں چلا گیا۔

ابھی میٹرک کا امتحان جاری تھا کہ برٹش انڈیا کی فوج کی طرف سے باچا خان کے مطابق خط کا جواب آگیا جس میں انہیں دن 10 بجے ریکروٹنگ دفتر رپورٹ کرنے کا کہا گیا۔

سوانح عمری میں باچا خان لکھتے ہیں کہ وہ بہت خوش تھے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ فوج میں ڈائریکٹ کمیشن پر بھرتی ہر کسی کو اہم بنا دیتی تھی۔ میں تمام امتحانی پرچے دیے بغیر ریکروٹنگ سنٹر پہنچ گیا اور مجھے فوج میں بھرتی کر لیا گیا۔

اس وقت برٹش انڈین فوج کا دستہ ’دی گائڈ‘ اہم دستہ سمجھا جاتا تھا جو مردان میں تعینات تھا اور اس میں حتیٰ کہ بااثر شخصیات بھی اپنے بیٹوں کو بھرتی نہیں کرا سکتے تھے۔

مجھے اسی دستے میں بھرتی کیا گیا اور میرے ساتھ 20 دیگر فوجی پنجاب کی بااثر شخصیات کے بیٹے تھے اور مجھے بھرتی کرنے کی وجہ یہی تھی کہ میں ’ہینڈسم‘ تھا اور میرا قد چھ فٹ تین انچ تھا اور تقریباً میٹرک تک تعلیم مکمل کر لی تھی۔

باچا خان لکھتے ہیں کہ فوج میں بھرتی کی وجہ سے میرے والد بہت زیادہ خوش تھے لیکن پھر کہانی میں ایک موڑ تب آیا جب میں پشاور میں تعینات ایک فوجی افسر سے ملنے گیا۔

سوانح عمری میں باچا خان لکھتے ہیں کہ ہم گلی میں کھڑے تھے کہ ایک انگریز فوجی افسر گزر گئے اور اسی دوران میرے دوست بغیر ٹوپی کے تھے اور انہوں نے بہت فیشن سے سر کے بال کٹوا رکھے تھے۔

اسی دوران انگریز افسر میرے دوست سے مخاطب ہوکر غصے میں کہنے لگے، ’You damn sardar! You really want to be an Englishman?‘ اور یہ سنتے ہی میرے دوست کے چہرے کا رنگ پیلا پڑ گیا لیکن انہوں نے انگریز افسر کو جواب دینے کا حوصلہ نہیں کیا۔

فوج چھوڑنے کا فیصلہ

باچا خان کے مطابق یہی وہ حرکت تھی کہ میرے ذہن میں برٹش انڈین فوج کے بارے میں تاثر غلط ثابت ہوا جو بارانی کاکا مجھے سنایا کرتے تھے کہ فوج میں بہت عزت کی جاتی ہے اور تب میں نے برٹش انڈین فوج میں کسی قسم کی ملازمت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس فیصلے سے باچا خان کے مطابق میرے والد خفا بھی تھے کیوں کہ برٹش آرمی میں ڈائریکٹ کمیشن پر بھرتی بہت مشکل ہوتی تھی لیکن میں نے اپنے فیصلے کے بارے میں اپنے بڑے بھائی جو ممبئی میں تھے، کو خط لکھ دیا کہ فوج میں عزت نہیں بلکہ انتہا درجے کی تذلیل کی جاتی ہے۔

سوانح عمری کے مطابق، ’میرے بھائی ڈاکٹر خان صاحب کو میرا فیصلہ پسند آیا اور میرے والد کو خط لکھ کر یہی بتایا کہ میں نے جو فیصلہ کیا ہے وہ بالکل درست ہے اور والد سے درخواست کی کہ زبردستی مجھے فوج میں بھرتی نہ کرایا جائے۔‘

اس کے بعد باچا خان کے مطابق میں نے دوبارہ اپنی تعلیم جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور دوست کے ساتھ کیمپ بل پور (موجودہ اٹک) کے ہائی سکول میں داخلہ لیا لیکن وہاں کی شدید گرمی مجھے پسند نہیں آئی اور واپس آگیا۔

اس کے بعد باچا خان کے مطابق وہ تعلیم کی غرض سے قادیان ( انڈیا کا شہر) چلے گئے لیکن وہاں کا موسم بھی پسند نہیں آیا اور قادیان چھوڑنے کی ایک وجہ خواب بھی تھی۔

سوانح عمری میں باچا خان لکھتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ میں کسی گہرے کنویں میں گر گیا ہوں اور نکلنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ اسی دوران ایک شخص آکر مجھے ہاتھ دے کر کنویں سے نکال دیتا ہے۔

یہی شخص مجھے کہتا ہے کہ آپ نے خود کو کیوں اس کنویں میں گرا دیا ہے اور بتایا کہ کیا آپ کو یہ کنواں نظر نہیں آرہا تھا اور اسی وجہ سے دوست سمیت قادیان چھوڑ کر گاؤں واپس چلا گیا۔

والدہ نے برطانیہ جانے کی اجازت نہیں دی

اس کے بعد باچا خان کے مطابق میرا دوست ہائی سکول میں داخلے کے لیے پشاور چلا گیا اور میں نے علی گڑھ میں کالج میں داخلہ لیا جہاں ہاسٹل نہ ملنے کی وجہ سے ایک ہوٹل لے لیا اور وہاں قیام پذیر تھا۔

گرمیوں کی چھٹیوں میں باچا خان کے مطابق وہ جب گاؤں آگئے تو بھائی کی طرف سے میرے والد کو خط موصول ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ میں انجینیئرنگ کی ڈگری کے لیے برطانیہ چلا جاؤں۔

خط میں بھائی نے لکھا کہ ’میں اپنی طب کی تعلیم جاری رکھوں گا اور یہ (باچا خان) انجینیئرنگ کی ڈگری لے گا کیوں کہ یہ جیومیٹری میں بہت اچھا ہے۔‘

میرے والد نے باچا خان کے مطابق اس تجویز میرے ساتھ بات کی کی اور مجھے لندن بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا یہاں تک کہ کشتی میں میرے لیے ٹکٹ بک کیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

والد نے تین ہزار روپے دے دیے اور میں جانے کے لیے تیار تھا لیکن جب والدہ سے اجازت لینے گیا لیکن مجھے اجازت نہیں ملی۔

سوانح عمری میں باچا خان لکھتے ہیں، ’والدہ کو بتایا کہ کیا میں جا سکتا ہوں؟ یہ سنتے ہی والدہ رونے لگ گئیں۔ بہت منت سماجت کی لیکن بے سود ثابت ہوئی اور اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ گاؤں کے لوگوں نے والدہ کو بتایا تھا کہ ایک بیٹے کو باہر بھیج دیا اور اب دوسرا بھی جائے گا تو آپ اکیلی رہ جاؤ گی۔‘

بہت کوشش کے باوجود باچا خان کے مطابق انہیں والدہ کی جانب سے لندن جانے کی اجازت نہیں ملی اور یہی وجہ تھی کہ میں نے لندن جانے کا منصوبہ ترک کردیا اور اپنے وطن اور اپنے لوگوں کی خدمت کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا۔

اس کے بعد باچا خان نے برطانوی راج کے خلاف جدوجہد کا آغاز کردیا اور سوانح عمری میں انہوں نے لکھا ہے کہ انہوں نے اسی غرض سے پہلا دورہ باجوڑ، دیر، مہمند اور دیگر اضلاع کا کیا اور وہاں لوگوں سے ملاقاتیں کیں۔

اس ساری جدوجہد میں باچا خان نے لکھا ہے کہ انہیں برطانوی فوج کی جانب سے مختلف اوقات میں جیل میں بھی ڈالا گیا اور انہیں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ