انڈیا: ’ہندو ہجوم نے تشدد کیا اور گوبر کھلایا‘، پادری کا الزام

پادری بپن بہاری نائک کے مطابق ایک حملے نے ان کے خاندان کی زندگی بدل دی اور ان کے لوگوں کو خوفزدہ کر دیا۔

چار اپریل 2019 کو نئی دہلی میں خواتین ملک میں نفرت اور تشدد کے ماحول کے خلاف نعرے لگا رہی ہیں (روئٹرز)

پادری بپن بہاری نائک اور ان کے پیروکار اتوار کی عبادت کے لیے ابھی انڈیا کی مشرقی ریاست اوڈیشہ کے ایک گھر میں جمع ہی ہوئے تھے کہ لاٹھیاں اٹھائے ہوئے ایک درجن افراد زبردستی اندر گھس آئے۔ انہیں گھسیٹ کر باہر لے گئے اور مارنا شروع کر دیا۔ اس دوران ان کی بیوی اور بچے خوف کے عالم میں یہ سب دیکھتے رہے۔

نائک کے مطابق انہیں چار جنوری کو ضلع دھن کنال میں ان کے گاؤں کی گلیوں میں ننگے پاؤں گھسیٹا گیا۔ لاٹھیوں سے پیٹا گیا اور جان سے مار دینے کی دھمکیاں دی گئیں۔ یہ سب ایک ہجوم نے کیا جس نے ان پر لوگوں کا مذہب تبدیل کروانے کا الزام لگایا۔ ایسا الزام جسے دائیں بازو کے ہندوؤں کی جانب سے انڈیا کی مسیحی اقلیت کو نشانہ بنانے کے لیے بار بار استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

35 سالہ پادری، جو ایک آزاد پروٹسٹنٹ جماعت کی قیادت کرتے ہیں، کہتے ہیں: ’ہم ایک گھر میں عبادت کر رہے تھے۔ ہم گذشتہ دو برس سے باقاعدگی سے وہیں جمع ہو رہے تھے۔‘

پادری نے کہا کہ ’انہوں نے مجھے کھینچ کر باہر نکالا اور مارنا پیٹنا شروع کر دیا۔‘ انہوں نے مزید بتایا کہ جب عبادت کرنے والے دوسرے لوگوں نے بیچ بچاؤ کی کوشش کی تو ان پر بھی حملہ کیا گیا۔

پادری بپن بہاری نائیک کا کہنا ہے کہ عبادت کرنے والی ایک خاتون کے سر پر وار کیا گیا، جس سے ان کا خون بہنے لگا۔ نائیک بتاتے ہیں کہ جب ان پر تشدد کیا جا رہا تھا تو ان کی اہلیہ اور دو بچوں نے حملہ آوروں سے رکنے کے لیے منت سماجت کی۔

انہوں نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے کہا: ’ہم تمہیں بھی ماریں گے۔ آگے مت آؤ۔‘

یہ واقعہ انڈیا میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر میں حالیہ برسوں کے دوران تیزی سے اضافے کے بڑھتے ہوئے شواہد کے ماحول میں پیش آیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ رجحان اب مسلمان اور مسیحی برداری پر جسمانی تشدد کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔

پادری نائیک نے الزام لگایا کہ ان پر حملہ کرنے والوں کا تعلق ’بجرنگ دل‘ سے تھا، جو دائیں بازو کی ایک ہندو تنظیم ہے۔ پولیس نے تصدیق کی ہے کہ وہ ہجوم کی ’وابستگیوں‘ کی تحقیقات کر رہی ہے۔

بجرنگ دل انڈیا کی وشوا ہندو پریشد (وی ایچ پی) یا ورلڈ ہندو کونسل کا یوتھ ونگ ہے۔ یہ ایک سخت گیر، دائیں بازو کا گروہ ہے جو گائے کو ذبح کرنے، مذہب کی تبدیلی اور ان معاملات کے خلاف مہم چلانے کے لیے جانا جاتا ہے، جسے وہ مغربی ثقافتی اثر و رسوخ قرار دیتا ہے۔

یہ وسیع تر سنگھ پریوار نیٹ ورک کے تحت کام کرتا ہے، جس کی قیادت راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کرتی ہے۔ آر ایس ایس نریندر مودی کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی نظریاتی سرپرست ہے۔ یہ تنظیم نوجوانوں کے لیے تربیتی کیمپ اور مذہبی مہمات چلاتی ہے اور اس کا نام مذہبی تشدد کے کئی واقعات سے بھی جڑا رہا ہے۔

پادری بپن بہاری نائیک بتاتے ہیں کہ حملہ شروع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد گھر میں موجود ایک شخص نے پولیس کو فون کیا۔ پولیس اہلکار تقریباً 45 منٹ میں وہاں پہنچے لیکن مبینہ طور پر مداخلت کیے بغیر ہی واپس چلے گئے۔ پادری نے کہا: ’انہوں نے ہمیں دیکھا اور ہم نے بھی انہیں دیکھا، لیکن پھر وہ یہ کہتے ہوئے واپس چلے گئے کہ انہیں کوئی نظر نہیں آیا۔‘

دی انڈپینڈنٹ کی جانب سے رابطہ کرنے پر ضلع دھن کنال کے ایک سینیئر پولیس افسر نے پولیس کی غفلت کے الزامات کی تردید کی۔

پادری نائیک کا کہنا ہے کہ اس کے بعد ہجوم انہیں تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر تک ننگے پاؤں گاؤں کے مرکز تک لے گیا، جہاں انہیں باندھ کر ان کے چہرے، کمر اور ہاتھوں پر بار بار تشدد کیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نائیک بتاتے ہیں کہ ان پر حملہ کرنے والوں نے چرچ کی عبادات میں استعمال ہونے والے گلاس میں پانی کے ساتھ گائے کا گوبر ملایا اور انہیں زبردستی پلانے کی کوشش کی۔ گائے کا گوبر بہت سے ہندوؤں کے لیے مذہبی اہمیت رکھتا ہے اور کسی کو اسے کھانے یا پینے پر مجبور کرنا تذلیل کا ایک طریقہ سمجھا جاتا ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’انہوں نے مجھ سے پوچھ گچھ کی، میرا پتہ پوچھا، انہوں نے مجھ سے سب کچھ پوچھا۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ بعد میں انہیں گھسیٹ کر ہنومان مندر لے جایا گیا، جو طاقت سے منسوب ایک ہندو دیوتا کا مندر ہے اور مورتی کے سامنے جھکنے کا حکم دیا گیا۔ جب انہوں نے انکار کیا تو انہیں پیچھے سے لات ماری گئی اور وہ زمین پر گر پڑے۔

انہوں نے کہا کہ ہجوم نے مطالبہ کیا کہ وہ جے شری رام کا نعرہ لگائیں، جو مذہبی عقیدت کا اظہار یا نعرہ ہے جسے ہندو قوم پرست گروہ تیزی سے اپنے جوشیلے نعرے کے طور پر اپنا رہے ہیں۔

پادری نائیک نے بتایا: ’انہوں نے کہا کہ اگر تم جے شری رام کا نعرہ لگاؤ گے تو ہم تمہیں چھوڑ دیں گے، لیکن مجھے بائبل کی سطور یاد آ گئیں جنہوں نے مجھے تقویت دی۔‘

اس کے بعد، وہ بتاتے ہیں کہ ان کے چہرے پر سندور ملا گیا اور جوتوں کا ہار ان کے گلے میں ڈالا گیا جس کے بعد انہیں دوبارہ پیٹا گیا اور جلوس کی شکل میں واپس لایا گیا۔

وہ کہتے ہیں کہ انہیں ان کی جماعت کے لوگوں کا نام نہ بتانے کی صورت میں جسمانی نقصان پہنچانے کی دھمکی دی گئی۔ مبینہ طور پر انہیں اس گھر کو نذر آتش کرنے کا حکم بھی دیا گیا جہاں عبادت کی گئی تھی۔

جب دو گھنٹے بعد پولیس بالآخر ان کی اہلیہ کے ہمراہ موقعے پر پہنچی، تو نائیک کا کہنا ہے کہ اہلکار انہیں ہجوم سے نکال کر گاڑی میں لے گئے۔

تھانے میں، نائیک کو پتہ چلا کہ ان کے خلاف لوگوں کا زبردستی مذہب تبدیل کروانے کے الزام میں جوابی شکایت درج کروائی گئی ہے۔ وہ اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔

پادر بپن بہاری نائیک کے مطابق: ’وہ کہہ رہے تھے کہ میں بنگلہ دیشی ہوں، ایک غیر ملکی ہوں۔‘ 

انہوں نے مزید بتایا کہ پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے خلاف تشدد کے حوالے دیے گئے، جسے کچھ حملہ آوروں نے اس حملے کے جواز کے طور پر پیش کیا۔

 انہوں نے کہا: ’ہمیں اسے بھی جلا دینا چاہیے، بالکل اسی طرح جیسے انہوں نے بنگلہ دیش میں ہمارے بھائی کو جلایا تھا۔‘ 

بنگلہ دیش میں حال ہی میں اقلیتی ہندو برادریوں پر حملوں سمیت بدامنی دیکھنے میں آئی ہے، جس سے دو جنوبی ایشیائی پڑوسیوں کے درمیان سفارتی کشیدگی پیدا ہوئی۔

پادری کی اہلیہ کی شکایت پر 13 جنوری کو ایف آئی آر درج کی گئی۔ یہ وہ دستاویز ہے جس سے انڈیا میں مجرمانہ تحقیقات کا آغاز ہوتا ہے۔

پولیس سپرنٹنڈنٹ ابھینو سونکر نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ ’اس کیس میں کم از کم نو افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ تفتیش جاری ہے اور وہ دیگر ملزمان کی تلاش میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شکایت کنندہ نے مقدمہ درج کرواتے وقت نائیک کو زبردستی گائے کا گوبر کھلانے کا کوئی ذکر نہیں کیا اور پولیس نے اس بارے میں سب سے پہلے میڈیا رپورٹس سے سنا۔

اس واقعے کے بعد سے ایسی تصاویر آن لائن شیئر کی جا رہی ہیں جن میں مبینہ طور پر نائیک کو زبردستی گوبر کھلاتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جس سے اس کیس پر زیادہ توجہ مبذول ہوئی ہے، تاہم بعد میں تصدیق ہوئی کہ وہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کی گئیں اور تصویر میں موجود شخص پادری نہیں۔

دی انڈپینڈنٹ نے تبصرے کے لیے بجرنگ دل سے رابطہ کیا ہے۔

اگرچہ انڈیا کا آئین عبادت کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، لیکن مسیحی رہنماؤں نے بارہا اس برادری کے خلاف بڑھتی ہوئی دشمنی کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ نفرت پر مبنی جرائم کرنے والوں کو بی جے پی کی جانب سے ’مذہب کی تبدیلی کے خلاف‘ قوانین متعارف کروانے کی کوششوں سے شہ ملی ہے۔ ان الزامات کی پارٹی تردید کرتی ہے۔

واشنگٹن ڈی سی میں قائم سینٹر فار دی سٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ کے زیر انتظام انڈیا ہیٹ لیب (آئی ایچ ایل) کی ایک رپورٹ کے مطابق، گذشتہ سال پورے انڈیا میں مسلمانوں اور مسیحی برادری کو نشانہ بنانے والی نفرت انگیز تقاریر کے کم از کم 1318 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جن کی اوسط یومیہ چار واقعات بنتی ہے۔ یہ 2024 کے مقابلے میں 13 فیصد اضافہ ہے اور 2023 میں دستاویزی طور پر ریکارڈ کیے گئے اعداد و شمار سے تقریباً دوگنا ہے۔

آئی ایچ ایل کی رپورٹ کے مطابق دائیں بازو کے منظم ہندو گروپس نے نفرت انگیز تقریر پھیلانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

 

رپورٹ کے مطابق، تمام دستاویزی واقعات میں سے پانچویں حصے سے زیادہ کا تعلق وشوا ہندو پریشد اور بجرنگ دل سے تھا۔ 160 سے زیادہ تنظیموں اور غیر رسمی گروپس کی شناخت ان ریلیوں کے منتظمین یا شریک منتظمین کے طور پر کی گئی جہاں نفرت انگیز تقاریر کی گئیں۔ کسی بھی تنظیم نے آئی ایچ ایل رپورٹ کے حوالے سے دی انڈیپنڈنٹ کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

گذشتہ سال کرسمس سے قبل، خود ساختہ ہندو رکھشک گروپوں نے متعدد ریاستوں میں تقریبات میں خلل ڈالنے کی کوشش کی، گرجا گھروں میں توڑ پھوڑ، دعائیہ تقریبات میں رکاوٹ ڈالنے اور کرسمس کے گیت گانے والوں کو ہراساں کرنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ انسانی حقوق کے گروپس کا کہنا ہے کہ یہ واقعات دھمکیوں کے ایک وسیع تر سلسلے کی عکاسی کرتے ہیں۔

مسیحی انڈیا کی آبادی کا تقریباً 2.3 فیصد ہیں، اس کے باوجود حالیہ برسوں میں مسیحی عبادات اور اجتماعات کو نشانہ بنانے والے حملوں اور رکاوٹوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

سیاسی طور پر اس واقعے پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ انڈیا کی اپوزیشن کانگریس پارٹی نے اس حملے کو ’انسانیت پر دھبہ‘ قرار دیا اور وزیر اعظم نریندر مودی کی ’نفرت انگیز اور تقسیم کرنے والی سیاست‘ کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

اڑیسہ کی حکمران بیجو جنتا دل نے کہا کہ اس طرح کے واقعات پرامن ریاست کے تشخص کو نقصان پہنچاتے ہیں اور یہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مترادف ہیں۔ بی جے پی نے، جو وفاق میں حکمران ہے، اپوزیشن پر اس کیس پر سیاست کرنے کا الزام لگایا، ریاستی میڈیا انچارج سوجیت داس کا کہنا تھا کہ پولیس قانون کے مطابق کارروائی کرے گی۔

پادری نائیک کے لیے، اس کے اثرات گہرے اور ذاتی رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’پانچ دنوں تک، میں صدمے کی وجہ سے سو نہیں سکا۔ میرے خاندان نے بھی واقعہ یاد کر کے ٹھیک سے کھانا نہیں کھایا۔‘

انہوں نے بتایا کہ ان کی دو بیٹیاں، جن کی عمریں 12 اور 14 سال ہیں، گاؤں میں حملے کی تفصیلات پھیلنے کے بعد سکول جانا چھوڑ چکی ہیں۔ انہوں نے کہا: ’ہمیں اس جگہ واپس جانے سے ڈر لگتا ہے۔‘

اس کے باوجود نائیک کا کہنا ہے کہ ان کا اپنی مذہبی خدمات چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہجوم نے ان کے خاندان کو زندہ جلانے کی دھمکی دی تھی، لیکن انہوں نے اصرار کیا کہ وہ خوفزدہ نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’میں لوگوں سے نہیں ڈرتا، کیوں کہ خدا میرے ساتھ ہے۔‘

© The Independent

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا