ایک امریکی تھنک ٹینک کی نئی رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس پاکستان کے ساتھ سرحدی تنازع کے بعد انڈیا بھر میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر میں نمایاں اضافہ ہوا۔
محققین نے 2025 میں ایسی ریلیوں اور تقاریر میں تیزی ریکارڈ کی جن میں مسلمانوں کو ’داخلی دشمن‘ قرار دیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیرونی سکیورٹی بحرانوں کو انڈیا کی اپنی اقلیتی برادریوں کے خلاف حملوں کا جواز پیش کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔
یہ صورت حال 22 اپریل کو کشمیری گاؤں پہلگام میں انڈین سیاحوں کو نشانہ بنانے والے دہشت گرد حملے کے بعد خاص طور پر واضح ہوئی۔ پہلگام واقعے میں 26 افراد جان سے گئے۔ انڈیا نے پاکستان پر حملہ کرنے والے مسلح افراد کو پناہ دینے کا الزام لگایا اور جواب میں پاکستان کے اندر اہداف پر فضائی حملے کیے۔ اس کے بعد سرحد پر اور دونوں ممالک کی فضائیہ کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں جو چار دن بعد فائر بندی کے معاہدے کے ساتھ ختم ہوئیں۔
واشنگٹن ڈی سی میں قائم سینٹر فار دی سٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ کے پراجیکٹ انڈیا ہیٹ لیب (آئی ایچ ایل) کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال انڈیا بھر میں مسلمانوں اور مسیحی برادری کو نشانہ بنانے والی نفرت انگیز تقاریر کے کم از کم 1318 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ یہ اوسطاً روزانہ چار واقعات بنتے ہیں اور 2024 کے مقابلے میں ان میں 13 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ 2023 میں ریکارڈ کی گئی تعداد سے تقریباً دگنے ہیں۔
رپورٹ میں اپریل کے آخر اور مئی کے شروع میں، پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد اور انڈیا پاکستان محاذ آرائی سے پہلے کے دنوں میں نفرت انگیز تقاریر کی شدید لہر کی نشاندہی کی گئی۔ صرف 22 اپریل 2025 اور سات مئی 2025 کے درمیان 16 دن میں ملک بھر میں نفرت انگیز تقاریر کے 98 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو محققین کے مطابق بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے دوران مسلمانوں کے خلاف منظم صف بندی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
سینٹر فار دا سٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ کی ریسرچ ڈائریکٹر ایویان لائڈنگ کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ ’حیران کن نہیں‘ تھا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ بین الریاستی تنازعات کے ادوار اکثر اندرون ملک تقسیم کا باعث بنتے ہیں۔
انہوں نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ ’انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی سرگرمیوں کو متحرک کرنے کا زبردست طوفان پیدا کرتی ہے۔ یہ بہت سے لوگوں کے لیے نفرت انگیز حملوں کا جواز فراہم کرتی ہے، جسے پھر ہندو قوم پرست کاز کو مزید قانونی جواز فراہم کرنے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔‘
اگرچہ ملک کے بیشتر حصوں میں نفرت انگیز تقاریر ریکارڈ کی گئیں، رپورٹ میں پتہ چلا کہ یہ وزیراعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے زیر اقتدار ریاستوں میں سب سے زیادہ عام تھیں، جہاں 10 میں سے تقریباً نو واقعات پیش آئے۔ تقاریر کی اکثریت میں واضح طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا، اور اکثر بیرونی تنازع کے وقت انہیں اندرونی دشمن کے طور پر پیش کیا گیا۔
ایویان لائڈگ کا کہنا ہے کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ بی جے پی کے زیر کنٹرول ریاستوں میں ریکارڈ شدہ واقعات کی زیادہ تعداد دیکھنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ زیادہ تر نفرت انگیز تقاریر اعلیٰ قیادت کی سطح سے شروع ہوئیں، لیکن ہم ان ریاستوں میں نچلی سطح پر بڑھتی ہوئی صف بندی بھی دیکھتے ہیں، جہاں لوگ نفرت انگیز اور پرتشدد کارروائیاں کرنے کے لیے خود کو بااختیار محسوس کرتے ہیں۔‘
اتر پردیش نفرت انگیز تقاریر کے ریکارڈ شدہ واقعات کی تعداد میں ملک میں سب سے آگے رہا، جہاں 266 واقعات ہوئے۔ اس کے بعد مہاراشٹر (193)، مدھیہ پردیش (172)، اتراکھنڈ (155) اور ملکی دارالحکومت دہلی (76) کا نمبر رہا۔
لائڈگ کا کہنا ہے کہ جو بات سب سے زیادہ تشویشناک تھی وہ یہ کہ یہ اضافہ غیر انتخابی سال میں ہوا۔ عام طور پر انڈیا میں سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم کے دوران نفرت انگیز تقاریر میں تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ حقیقت انتہائی تشویشناک ہے کہ ایک غیر انتخابی سال میں بھی نفرت انگیز تقاریر کی نچلی سطح بلند رہی۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک نیا معمول بن چکا ہے، جس میں نفرت کو معمول کا حصہ اور جائز بنا دیا گیا ہے۔‘
جن 23 ریاستوں اور وفاقی علاقوں کا مطالعہ کیا گیا ان میں سے 16 میں سال کے بیشتر حصے میں بی جے پی کی حکومت رہی۔ نفرت انگیز تقاریر کے تمام واقعات میں سے تقریباً 88 فیصد بی جے پی کے زیر انتظام ریاستوں یا علاقوں میں ہوئے، جس میں 2024 کے مقابلے میں 25 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے برعکس اپوزیشن کے زیر انتظام ریاستوں میں کمی دیکھی گئی، جہاں 2025 میں 154 واقعات ریکارڈ کیے گئے جو گذشتہ سال کے مقابلے میں 34 فیصد کم تھے۔
اپوزیشن کی کانگریس پارٹی کے ترجمان پون کھیڑا نے کہا کہ رپورٹ کے نتائج ’تقریباً یقینی طور پر سچائی کے صرف ایک حصے کی عکاسی کرتے ہیں۔‘
انہوں نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ ’انڈیا میں نفرت انگیز تقاریر کا اصل پیمانہ غالباً اس سے کہیں زیادہ وسیع اور خطرناک ہے جتنا کہ ان تشویشناک اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے۔‘
انہوں نے کہا: ’یہ کوئی اتفاق نہیں کہ بی جے پی کے زیر انتظام ریاستیں نفرت انگیز تقاریر کے معاملے میں مسلسل سرفہرست ہیں۔ یہ سیاسی سرپرستی، ادارہ جاتی خاموشی اور نفرت کو جان بوجھ کر معمول بنانے کے ایک گہرے طرز عمل کی طرف اشارہ ہے۔‘
دی انڈپینڈنٹ نے تبصرے کے لیے بی جے پی کے قومی ترجمان سے رابطہ کیا، لیکن رپورٹ کی اشاعت کے وقت تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا تھا۔
آئی ایچ ایل کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اکثر مخصوص سیاسی یا مذہبی مواقع پر نفرت انگیز تقاریر میں اضافہ ہوا۔ اپریل سب سے زیادہ ہنگامہ خیز مہینہ ثابت ہوا، جس میں پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد ہندو تہوار رام نومی کے موقع پر منعقدہ جلوسوں اور ریلیوں کے دوران 158 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔
لائڈگ کا کہنا ہے کہ وہ ریلیاں شاذ و نادر ہی اچانک منعقد ہوتی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہم جو دیکھ رہے ہیں وہ ایک دہائی کی مسلسل تنظیم سازی ہے۔‘ یہ ’واقعی منظم نفرت‘ اور ’مربوط سرگرمی‘ ہے۔
’پہلگام دہشت گرد حملے کے جواب میں ریکارڈ کیے گئے بیشتر واقعات کو خاص طور پر ہندوتوا گروپوں کی طرف سے حملوں کے ردعمل میں منعقدہ ریلیوں میں نفرت انگیز تقاریر کی لہر نے تقویت دی۔ یہ واقعی منظم نفرت کے لیے ایک اہم مرکز تھا۔‘
ریکارڈ شدہ تقریباً نصف تقاریر میں سازشی نظریات کا حوالہ دیا گیا جن میں اقلیتوں کو وجودی خطرات کے طور پر پیش کیا گیا، ان میں ’لو جہاد‘ جیسے بیانیے شامل ہیں (ایک بے بنیاد سازشی نظریہ جس میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ مسلمان مرد ہندو خواتین کو شادی کے ذریعے اسلام قبول کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔) ’لینڈ جہاد‘ (جس میں مسلمانوں پر مذہبی عمارتوں کی تعمیر یا نماز ادا کرنے کے ذریعے سرکاری زمینوں پر قبضہ کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔) ’آبادی جہاد‘ (یہ دعویٰ کہ مسلمان جان بوجھ کر اپنی شرح پیدائش بڑھا رہے ہیں جس کا مقصد دوسری برادریوں کی آبادی سے بڑھنا اور آخر کار ان پر غلبہ حاصل کرنا ہے۔) اور ’ووٹ جہاد‘ (جس میں مسلمانوں پر انتخابات میں ہیرا پھیری کرنے، اپنے سیاسی اثر و رسوخ کو بڑھانے اور ہندو غلبے کو کمزور کرنے کے لیے بلاک کے طور پر ووٹ دینے کا الزام لگایا جاتا ہے۔)
تقریباً ایک چوتھائی تقاریر میں تشدد کی واضح اپیلیں کی گئیں، جب کہ 130 سے زائد تقاریر میں براہ راست ہتھیار اٹھانے کی اپیلیں شامل تھیں۔
270 سے زیادہ تقاریر میں عبادت گاہوں کو ہٹانے یا مسمار کرنے کا مطالبہ کیا گیا، جن میں سب سے زیادہ کثرت سے اتر پردیش کی گیان واپی مسجد اور شاہی عیدگاہ مسجد کو نشانہ بنایا گیا۔ کم از کم 120 تقاریر میں اقلیتی برادریوں کے بائیکاٹ پر زور دیا گیا۔
یہ دونوں مساجد کئی دہائیوں پرانے تنازعے میں کشیدگی کا نیا مرکز ہیں۔ انڈیا کی اکثریتی ہندو برادری کے ایک طبقے کا خیال ہے کہ یہ ہندو مندروں کو تباہ کرنے کے بعد تعمیر کی گئی تھیں۔
مہاراشٹر میں ایسی انتہائی خطرناک تقاریر کا تناسب سب سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا، جن میں سے تقریباً 40 فیصد میں تشدد کی واضح اپیلیں شامل تھیں۔ خطرناک ترین تقاریر کرنے والوں میں جن افراد کی نشاندہی کی گئی ان میں مہاراشٹر کے وزیر نتیش رانے بھی شامل تھے۔
رپورٹ میں نوٹ کیا گیا ہے کہ ’انتخابی عمل کے بعد کم ہونے کے بجائے، مہاراشٹر میں نفرت انگیز تقاریر میں اضافہ برقرار رہا، جو اقلیت مخالف نفرت انگیز تقاریر اور انتخابی مہم کے دورانیے سے ہٹ کر تشدد پر اکسانے کے عمل کے معمول بننے کی نشاندہی کرتا ہے۔‘
دی انڈپینڈنٹ نے تبصرے کے لیے بی جے پی کے مہاراشٹر کیڈر سے رابطہ کیا ہے۔
محققین نے غیر انسانی زبان کا وسیع پیمانے پر استعمال بھی ریکارڈ کیا، جس میں اقلیتوں کو ’دیمک‘، ’طفیلی‘ اور ’پاگل کتے‘ قرار دیا گیا۔
لائڈگ کا کہنا ہے کہ ایسی زبان تشدد کو ہوا دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’غیر انسانی القابات نفسیاتی طور پر اخلاقی جواز پیدا کرتے ہیں۔‘
’تو پھر یہ افراد کے ساتھ ایک طرح کی جذباتی ہم آہنگی پیدا کرتا ہے، تاکہ وہ جسمانی تشدد یا ایک طرح کے سماجی بائیکاٹ کی کارروائیوں میں حصہ لینے کے قابل ہو سکیں۔ اور ہم دیکھتے ہیں کہ اس قسم کی بیان بازی تاریخی طور پر اور حال میں بڑے فرقہ وارانہ اور نسل کشی کے تنازعات میں دیکھی گئی ہے۔‘
آئی ایچ ایل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دائیں بازو کے منظم ہندو گروپوں نے نمایاں کردار ادا کیا۔ وشوا ہندو پریشد اور بجرنگ دل تمام واقعات کے پانچویں حصے سے زیادہ سے منسلک تھے، جبکہ 160 سے زیادہ تنظیموں اور غیر رسمی گروپوں کی شناخت منتظمین یا شریک منتظمین کے طور پر کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ہندو سادھو اور مذہبی رہنما 145 واقعات میں ملوث تھے، جس نے اقلیت مخالف بیانیے کے مذہبی ڈھانچے کو تقویت دی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ ریلیاں اکثر پولیس کی موجودگی، اور بعض اوقات ان کی حفاظت میں ہوتی ہیں۔‘
دی انڈپینڈنٹ نے تبصرے کے لیے وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل سے رابطہ کیا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مسیحی برادری کے رہنماؤں نے بارہا خبردار کیا ہے کہ انہیں انڈیا میں بڑھتی ہوئی دشمنی کا سامنا ہے، ایسے الزامات جن کی حکمران بی جے پی نے پہلے تردید کی ہے۔
گذشتہ ماہ کرسمس سے قبل، ملک بھر میں ہندو انتہا پسندوں نے تقریبات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں مسیحی برادری پر حملوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ انہوں نے گرجا گھروں میں توڑ پھوڑ کی، دعائیہ تقریبات میں رخنہ ڈالا، کرسمس کے گیت گانے والوں کو ہراساں کیا اور تہوار کی سجاوٹ کو اکھاڑ پھینکا۔
مسیحی انڈیا کی آبادی کا تقریباً 2.3 فیصد ہیں اور کلینڈر میں کرسمس اور گڈ فرائیڈے جیسے بڑے تہوار قومی تعطیلات میں شامل ہیں۔ اس کے باوجود گذشتہ سال اسے بھی کم کر دیا گیا، جب سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اتر پردیش کی مقامی حکومت نے کرسمس کے دن سکول کھولنے کا حکم دیا، اور بچوں کو ہدایت کی کہ وہ یہ دن تحریک آزادی کے رہنما اور سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی سالگرہ منا کر گزاریں۔
سوشل میڈیا نے نفرت انگیز تقاریر کو پھیلانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ تقریباً تمام ریکارڈ شدہ واقعات کی ویڈیوز پہلے آن لائن شیئر یا لائیو سٹریم کی گئیں، جن میں ابتدائی اپ لوڈز کی اکثریت فیس بک پر تھی، اس کے بعد یوٹیوب، انسٹاگرام اور ایکس کا نمبر تھا۔
لائڈنگ کا کہنا ہے کہ پلیٹ فارمز کی جانب سے مداخلت میں ناکامی ایک بڑھتی ہوئی تشویش ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ حقیقت بھی ہمارے لیے باعث تشویش ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اس قسم کی نفرت کو روکنے والے رہنما اصول رکھنے کے باوجود اپنے پلیٹ فارمز پر ان خلاف ورزیوں پر کارروائی کرنے میں مسلسل ناکام ہو رہے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’نفرت، سازشی نظریات اور غلط معلومات اب آپس میں مل کر زبردست طوفان بن چکے ہیں۔‘
دی انڈپینڈنٹ نے تبصرے کے لیے میٹا، ایکس اور یوٹیوب سے رابطہ کیا ہے۔
© The Independent