غزہ کے ہسپتالوں نے بتایا کہ ہفتے کو اسرائیلی حملوں میں کئی بچوں سمیت کم از کم 30 فلسطینی جان سے چلے گئے۔
یہ اموات گذشتہ اکتوبر میں فائر بندی معاہدے کے بعد سے ہونے والے سب سے زیادہ جانی نقصان میں سے ہیں۔
اسرائیل نے گذشتہ روز حماس پر نئی فائر بندی کی خلاف ورزیوں کا الزام لگایا تھا۔
ہسپتال حکام کے مطابق یہ حملے غزہ کے مختلف علاقوں پر کیے گئے، جن میں غزہ سٹی میں ایک رہائشی عمارت اور خان یونس کا ایک خیمہ کیمپ شامل ہے۔
شفا ہسپتال کے ڈائریکٹر محمد ابو سلمیہ نے بتایا کہ جان سے جانے والوں میں دو خواتین اور چھ بچے دو مختلف خاندانوں سے تھے۔
ایک اور فضائی حملے میں غزہ سٹی کے ایک پولیس سٹیشن کو نشانہ بنایا گیا، جس میں کم از کم 14 افراد جان سے گئے اور کئی زخمی ہوئے۔
مرنے والوں میں چار پولیس اہلکار خواتین، عام شہری اور قیدی شامل ہیں۔
یہ حملے ایک ایسے وقت پر ہوئے ہیں جب اتوار کو مصر کی سرحد پر واقع رفح کراسنگ کو دوبارہ کھولا جانا ہے۔
فلسطینیوں کے لیے رفح کو ایک لائف لائن سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر ان دسیوں ہزار مریضوں کے لیے جنہیں علاج کی غرض سے غزہ سے باہر منتقل کیا جانا ضروری ہے کیونکہ اسرائیلی حملوں میں غزہ کا زیادہ تر طبی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے۔
کراسنگ کا محدود پیمانے پر دوبارہ کھلنا 10 اکتوبر سے نافذ امریکی ثالثی میں طے پانے والی فائر بندی کے دوسرے مرحلے کا پہلا اہم قدم ہو گا۔
فائر بندی کے اہم ثالث مصر نے ایک بیان میں اسرائیلی حملوں کی ’سخت ترین الفاظ‘ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ کارروائیاں فائر بندی کے سیاسی عمل کے لیے ’براہ راست خطرہ‘ ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’ہمیں معلوم نہیں ہم حالت جنگ میں ہیں یا امن میں‘
ادھر ناصر ہسپتال نے کہا کہ خان یونس کے ایک خیمہ کیمپ پر حملے سے آگ بھڑک اٹھی، جس میں سات افراد جان سے گئے۔
ان میں ایک باپ، ان کے تین بچے اور تین پوتے، نواسے شامل تھے۔
عطا اللہ ابو ہدیّد نے کہا کہ وہ نماز سے فارغ ہی ہوئے تھے کہ دھماکہ ہو گیا۔
انہوں نے کہا ’ہم بھاگتے ہوئے آئے تو دیکھا کہ میرے چچا زاد ادھر ادھر پڑے تھے اور آگ لگی ہوئی تھی۔
’ہمیں نہیں معلوم کہ ہم حالت جنگ میں ہیں یا امن میں، یہ کہاں کی جنگ بندی ہے؟ انہوں نے جو سیزفائر کہا تھا، وہ کہاں ہے؟‘
حماس نے ہفتے کے ان حملوں کو ’جنگ بندی کی کھلی، تازہ خلاف ورزی‘ قرار دیتے ہوئے امریکہ اور دیگر ثالث ملکوں سے اسرائیل کو روکنے کا مطالبہ کیا۔