اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے بدھ کو کہا کہ غزہ میں جان سے جانے والے فلسطینیوں کی تعداد تقریباً 71 ہزار ہے اور غزہ وزارت صحت کے اعداد و شمار ’تقریباً درست‘ ہیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ایک سینیئر اسرائیلی سکیورٹی اہلکار نے کہا کہ اموات کی اصل تفصیل ابھی جائزے کے مراحل میں ہے۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے آغاز سے جنوری 2026 تک غزہ میں کل 71,667 افراد جانوں سے گئے، جن میں کم از کم 440 افراد بھوک یا غذائی قلت کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئے۔
IDF accepts Gaza Health Ministry estimate of over 70,000 killed in war https://t.co/47F5Bv5TAR
— Haaretz.com (@haaretzcom) January 29, 2026
آئی ڈی ایف نے یہ بھی تسلیم کیا کہ غزہ کی وزارت صحت کی فہرست میں وہ فلسطینی شامل نہیں ہو سکتے جو ملبے تلے دبے ہیں لہٰذا اموات کی تعداد مستقبل میں مزید بڑھ سکتی ہے۔
غزہ کی وزارت صحت کے اعداد و شمار عالمی تنظیموں، میڈیا اور محققین کے لیے حوالہ رہے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تاہم اسرائیلی حکومت نے انہیں کبھی سرکاری طور پر قبول نہیں کیا بلکہ 2024 میں اسرائیلی وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ ’گمراہ کن اور غیر معتبر‘ ہیں۔
اقوام متحدہ اور دیگر انسانی تنظیمیں غزہ میں جاری صورت حال کے بارے میں بارہا خبردار کر چکی ہیں کہ اسرائیلی جارحیت نے نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان بڑھایا بلکہ بنیادی سہولیات جیسے پانی، بجلی اور طبی امداد بھی شدید متاثر ہوئے، جس سے عام شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے یو این او سی ایچ اے کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق غزہ میں سات اکتوبر، 2023 سے 28 جنوری، 2026 تک کل 71,667 افراد جان سے گئے اور 171,343 افراد زخمی ہوئے۔
اقوام متحدہ کے او ایچ سی ایچ آر کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ فائر بندی کے بعد 11 اکتوبر، 2025 سے 21 جنوری، 2026 تک کم از کم 216 فلسطینی مارے گئے، جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔