گھرکی ٹرسٹ ہسپتال: امید ابھی معدوم نہیں ہوئی

لاہور کا وہ خیراتی ہسپتال جہاں ایدھی کا انسانیت کی خدمت کا خواب زندہ ہے۔

لاہور کے نواحی علاقے میں قائم گھرکی ٹرسٹ ہسپتال (گھرکی ٹرسٹ ہسپتال)

پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں ریاستی ناکامی، ادارہ جاتی جمود اور اجتماعی بے بسی کو اکثر ایک ناقابلِ تردید حقیقت سمجھ لیا جاتا ہے، وہاں بعض افراد اور ادارے خاموشی سے اس عمومی بیانیے کو رد کر دیتے ہیں۔ یہ رد نہ کسی سیاسی تقریر میں ہوتا ہے، نہ کسی سرکاری منصوبے کے ذریعے، بلکہ ایک مسلسل، منظم اور نتیجہ خیز عمل کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

لاہور کے مضافات میں جلو موڑ کے قریب قائم گھرکی ٹرسٹ ٹیچنگ ہسپتال اسی خاموش انکار کی ایک ایسی مثال ہے جو نہ صرف ہمارے سماجی رویّوں پر سوال اٹھاتی ہے بلکہ اس یقین کو بھی زندہ رکھتی ہے کہ امید ابھی مکمل طور پر معدوم نہیں ہوئی۔

گھرکی ٹرسٹ ٹیچنگ ہسپتال کی کہانی کسی حکومتی سکیم یا ریاستی ترجیح سے شروع نہیں ہوتی۔ اس کا تصور 1993 میں سامنے آتا ہے، ایک ایسے دور میں جب پاکستان میں فلاحی طب زیادہ تر محدود پیمانے کے کیمپس یا وقتی امدادی سرگرمیوں تک محدود تھی۔ ابتدا ایک فری آئی کیمپ سے ہوئی، اور اس خواب کی بنیاد رکھنے والے عبد الستار ایدھی تھے۔ وہ شخصیت جس کی پوری زندگی اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ انسانیت کو ریاستی اجازت ناموں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ محض ایک علامتی لمحہ نہیں تھا بلکہ ایک اخلاقی تسلسل تھا، جو بعد میں ایک مکمل ادارہ جاتی شکل اختیار کرتا گیا۔

یہ خواب بالآخر 2014 میں حقیقت بنتا ہے، جب پاکستان کا پہلا جدید آرتھوپیڈک اور سپائن سینٹر گھرکی کے مقام پر قائم ہوتا ہے۔ یہ وہ مرحلہ تھا جہاں ایک ذاتی وژن نے اجتماعی ضرورت کا روپ دھارا۔ اس پورے سفر کے مرکز میں پروفیسر ڈاکٹر عامر عزیز کی شخصیت نمایاں ہے جواس ادارے کے لیے معالج، استاد اور منتظم اور ایک کامیاب سرجن ہی نہیں بلکہ ایک فکری رہنما بھی ہیں۔

ڈاکٹر عامر عزیز عالمی سطح پر آرتھوپیڈک اور سپائن سرجری کے ان ممتاز ناموں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے ریڑھ کی ہڈی کے پیچیدہ امراض، جدید جراحی تکنیک اور مریض مرکوز علاج کے میدان میں غیرمعمولی خدمات انجام دی ہیں۔

ان کی پہچان محض انفرادی طبی مہارت تک محدود نہیں بلکہ اس وژن میں مضمر ہے جس کے تحت انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ عظمت کو نجی منافع یا ذاتی شہرت کے بجائے ایک فلاحی ادارے کی تعمیر کے لیے وقف کر دیا۔ ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر طب تیزی سے ایک منافع بخش صنعت میں بدلتی جا رہی ہے، ڈاکٹر عامر عزیز کا انتخاب ایک اخلاقی مؤقف کی حیثیت رکھتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آج گھرکی ٹرسٹ ٹیچنگ ہسپتال 650 بستروں پر مشتمل ایک جدید ترین تدریسی و طبی ادارہ ہے، جو پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل سے منظور شدہ، یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اور کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان سے منسلک ہے۔ ISO 9001:2018 اور پاکستان سینٹر فار فلانتھراپی سے تصدیق یافتہ یہ ادارہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ بین الاقوامی معیار صرف سرکاری سرپرستی سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ نظم، شفافیت اور وژن سے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

گھرکی ہسپتال کی اصل شناخت اس اصول میں پوشیدہ ہے جو پاکستان کے عمومی صحتی نظام کے بالکل برعکس کھڑا نظر آتا ہے: معیاری علاج، بلا معاوضہ۔ یہاں کینسر جیسے مہنگے اور پیچیدہ مرض کا علاج بھی مریض کی مالی حیثیت دیکھے بغیر کیا جاتا ہے۔ 2022 میں نصب ہونے والا سائبر نائف روبوٹک ریڈیو سرجری سسٹم، جس کے ذریعے ہزاروں کینسر اور نان کینسر ٹیومر کے مریضوں کا مفت علاج کیا جا چکا ہے، اس سوچ کی عملی مثال ہے کہ جدید ٹیکنالوجی صرف صاحبِ حیثیت طبقے کی جاگیر نہیں ہونی چاہیے۔

اسی طرح 2021 میں قائم ہونے والا ڈائلیسز سینٹر، جہاں 30 ہزار سے زائد ڈائلیسز سیشن بلا معاوضہ انجام دیے جا چکے ہیں، اس تصور کو چیلنج کرتا ہے کہ گردوں کے مریضوں کے لیے علاج ناگزیر طور پر مالی تباہی کا باعث بنتا ہے۔ یہاں مریض کے ساتھ اس کے تیماردار کو بھی انسان سمجھا جاتا ہے۔ مسافر خانہ، جہاں ڈیڑھ لاکھ سے زائد مریضوں کے لواحقین مفت قیام کر چکے ہیں، گھرکی ہسپتال کے انسانی فلسفے کو مزید واضح کرتا ہے۔

گھرکی ٹرسٹ ٹیچنگ ہسپتال محض علاج گاہ نہیں بلکہ طبی تعلیم کا ایک مضبوط مرکز بھی ہے۔ اب تک دو سو سے زائد آرتھوپیڈک پوسٹ گریجویٹ فیلوز یہاں تربیت حاصل کر چکے ہیں، جبکہ 15 سے زائد ممالک سے آنے والے ڈاکٹروں نے یہاں پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کی۔ یہ پہلو گھرکی کو ایک مقامی ادارے سے آگے لے جا کر ایک بین الاقوامی تعلیمی مرکز کی حیثیت دیتا ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں ڈاکٹر عامر عزیز کا تدریسی وژن پوری طرح نمایاں ہوتا ہے۔

یہ ہسپتال 102 دیہات اور ہاؤسنگ سوسائٹیز پر مشتمل ایک وسیع علاقے کو سہولیات فراہم کرتا ہے، جہاں تقریباً 15 لاکھ افراد آباد ہیں، جبکہ ملک بھر اور بیرونِ ملک سے بھی مریض یہاں علاج کے لیے آتے ہیں۔ گذشتہ پانچ برسوں میں دو ارب روپے سے زائد کا مفت اور سبسڈی شدہ علاج، اڑھائی ارب روپے کے قریب سالانہ بجٹ، اور دو ہزار سے زائد ملازمین، یہ تمام اعداد و شمار کسی ریاستی منصوبے کے نہیں بلکہ ایک فلاحی وژن کے عکاس ہیں۔

ایک ایسے سماج میں جہاں ہم اکثر شکایت کو شعور اور مایوسی کو دانش مندی سمجھ بیٹھتے ہیں، گھرکی ٹرسٹ ٹیچنگ ہسپتال، ایدھی فاؤنڈیشن، اخوت ٹرسٹ جیسے ادارے ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں کہ تبدیلی کا راستہ ریاستی فائلوں سے نہیں بلکہ افرد کے ارادوں سے نکلتا ہے۔ ڈاکٹر عامر عزیز، ڈاکٹر ادیب رضوی اور ڈاکٹر امجد ثاقب کی زندگی اور ان کے قائم کردہ ادارے اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر نیت واضح، وژن مضبوط اور عمل مسلسل ہو تو بغیر سرکاری سہارے کے بھی ایسا ادارے کھڑے کیے جا سکتے ہے جو نہ صرف زندگیاں بچائیں بلکہ معاشرے میں امید کو زندہ رکھیں۔

اسی طرح گھرکی ٹرسٹ ٹیچنگ ہسپتال محض ایک طبی ادارہ نہیں رہتا بلکہ ایک فکری دلیل بن جاتا ہے۔ اس سوچ کے خلاف کہ کچھ نہیں بدلا جا سکتا، اور اس یقین کے حق میں کہ اگر فرد ذمہ داری قبول کر لے تو پورا منظرنامہ بدل سکتا ہے۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

(ڈاکٹر راجہ قیصر احمد ایریا سٹڈی سنٹر برائے افریقہ، نارتھ اور ساؤتھ امریکہ کے ڈائریکٹر ہیں)

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر