غربت کو اٹھاکر بحیرہ عرب میں پھینکنا ہے: ڈاکٹر امجد ثاقب کاعزم

غیر سرکاری تنظیم اخوت فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب کی کامیابی سے پاکستان میں قرضہ حسنہ کی سکیم چلا رہے ہیں۔

غیر سرکاری تنظیم اخوت فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب اپنی تنظیم کے زیر اہتمام کامیابی سے پاکستان میں قرضہ حسنہ کی سکیم چلا رہے ہیں۔

میڈیا پر خبریں چل رہی ہیں کہ انہیں اس سال امن کے نوبیل انعام کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ انڈپینڈنٹ اردو نے ڈاکٹر امجد ثاقب سے رابطہ کر کے پوچھا کہ کیا واقعی ان کی نوبیل انعام کی نامزدگی ہوئی ہے؟

انہوں نے بتایا کہ انہیں اپنی نامزدگی کا خود میڈیا سے معلوم ہوا۔ اس سے قبل میڈیا اداروں کو ایک بیان میں وہ کہہ چکے ہیں کہ دنیا میں لوگ ان کے کام سے واقف ہیں، اسی لیے کسی غیر ملکی عہدیدار نے انہیں نامزد کیا ہو گا، تاہم انہیں خود ایسی پیش رفت کا معلوم نہیں۔

نوبیل کمیٹی کے قواعد کی رو سے اس نامزدگی کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔ برطانوی خبر رساں ادارے پی اے میڈیا کے مطابق ڈاکٹر امجد کو مالٹا کے وزیر خارجہ نے نامزد کیا ہے کیونکہ ان کے ادارے نے 50 لاکھ لوگوں کو غربت سے نکالا ہے۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اخوت فاؤنڈیشن کے تحت ’اب تک 50 لاکھ سے زائد خاندانوں کوقرضہ حسنہ جاری کیا گیا ہے اور 40 ارب روپے رواں سال قرضہ دیا جائے گا۔‘

ڈاکٹر امجد ثاقب نے مزید بتایا کہ ’چند ہزار سے شروع ہونے والا یہ پروگرام 162 ارب تک پہنچ چکا ہے اور مستقبل میں اس سے بھی زیادہ ہوگا۔اس وقت یہ نیٹ ورک صرف پاکستان میں موجود ہے، جسے دنیا کے دیگر ممالک میں بھی پھیلارہے ہیں۔‘

انہوں نے بتایاکہ اخوت فاؤنڈیشن ایک بہت بڑی یونیورسٹی بنا رہی ہے جس میں چاروں صوبوں کے بچوں کو داخلہ دیاجائے گا اور داخلے سے لے کر میٹرک تک تعلیم مفت فراہم کی جائے گی جبکہ دس سال بعد جب طلبہ تعلیم حاصل کر کے کوئی پیشہ اپنائیں گے تو وہ اپنی فیسیں ادا کریں گے تاکہ مزید بچوں کو مفت تعلیم دی جاسکے۔‘

امجد ثاقب کا کہنا تھا کہ ’سرمایہ دارانہ نظام نے لوگوں کا اعتماد چھین لیا ہے، جو انہیں واپس لوٹانا ہے اور ہمارا عزم ہے کہ جب تک غربت کو اٹھا کر بحیرہ عرب میں نہیں پھینکتے، جدوجہد جاری رہے گی۔‘

ساتھ ہی انہوں نے ملک کے امیر افراد کو مخاطب کرکے کہا: ’مالداروں سے کہتا ہوں کہ دوسروں کو خوشیاں دینے کا باعث بنیں، پھر دیکھیں آپ کو کتنی خوشی ملتی ہے۔ دنیا فانی ہے، انسانیت کے لیے جو بھی کریں گے اس کا اجر ضرور ملے گا۔‘

اخوت فاؤنڈیشن کیسے کام کرتی ہے؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ریکارڈ کے مطابق اخوت فاؤنڈیشن لاہور سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں اخوت فاؤنڈیشن مائیکرو فنانسنگ سکیم کے تحت غریب خاندانوں کی کفالت کے لیے پانچ سے دس لاکھ روپے تک قرضہ حسنہ فراہم کرتی ہے، جس پر کوئی سود وصول نہیں کیا جاتا۔

کوئی بھی شخص (مرد یا خاتون) اپنے علاقے سے کسی معزز شخصیت کی ضمانت پر چھوٹے کاروبار کے لیے قرض لے سکتا ہے اور جب ان کا روزگار چلنے لگتا ہے تو وہ آسانی سے جتنی چاہیں قسط کی ادائیگی کر کے قرض واپس کرسکتے ہیں اور اس کے لیے کافی وقت دیا جاتا ہے۔

بچے بچیوں کی شادی کے لیے بھی قرضہ حسنہ حاصل کرنے کی سہولت موجود ہے اور اس کے لیے خاص گارنٹی بھی نہیں۔

اس کے علاوہ اخوت فاؤنڈیشن سے علاج معالجے اور تعلیم کے لیے بھی قرض کی سکیمیں موجود ہیں۔ لاہور کے بعض علاقوں میں بچوں کی پیشہ ورانہ اور تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے لیے سینٹرز بھی قائم کیے گئے جہاں مفت تعلیم وتربیت دی جاتی ہے۔

نوبیل انعام کی نامزدگی کیسے ہوتی ہے؟

نوبیل کمیٹی کی ویب سائٹ کے مطابق 2022 کے لیے کمیٹی کو کل 343 نامزدگیاں موصول ہوئی ہیں، جن میں سے 251 افراد اور 92 ادارے ہیں۔ 

اس انعام کے لیے اشخاص یا اداروں کو مخصوص نامینیٹر نامزد کرتے ہیں، جو کسی ملک کے رکن پارلیمان، رکن کابینہ، سربراہِ مملکت، عالمی عدالتِ انصاف کے ارکان، یونیورسٹیوں اور ریسرچ اداروں کے پروفیسر یا سابق نوبیل انعام یافتہ افراد ہو سکتے ہیں۔ 

تاہم ویب سائٹ کے مطابق نامینیٹر اور ان کے نامزد امیدواروں کے نام 50 سال گزرنے تک ظاہر نہیں کیے جا سکتے۔ 

اسی قاعدے کی وجہ سے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ڈاکٹر امجد ثاقب کی نامزدگی کس نے کی ہے۔ تاہم برطانوی خبر رساں ادارے پی اے میڈیا کے مطابق انہیں مالٹا کے وزیر خارجہ نے نامزد کیا ہے کیونکہ ان کے ادارے نے 50 لاکھ لوگوں کو غربت سے نکالا ہے۔

واضح رہے کہ کوئی شخص اپنے آپ کو خود سے نامزد نہیں کر سکتا۔ دنیا بھر سے نامینیٹر نامزدگیاں نوبیل کمیٹی کو بھیجتے ہیں، مگر امن کا انعام کس کو دیا جائے گا، اس کا حتمی فیصلہ ناروے کے شہر اوسلو میں قائم نوبیل کمیٹی کے پانچ مستقل ارکان کرتے ہیں جس کا اعلان ہر سال اکتوبر میں کیا جاتا ہے۔

 

 

 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان