اردو کو آج تک ادب کا نوبیل انعام کیوں نہیں ملا؟

نوبیل کمیٹی کی کوتاہیاں اپنی جگہ لیکن کیا پچھلے سو سال میں ہمارے پاس اقبال کو چھوڑ کر کوئی ایسا ادیب گزرا ہے جس کے بارے میں ہم وثوق سے کہہ سکیں کہ اس کا نوبیل تو بنتا ہی بنتا ہے؟

ہر سال جب ادب کے نوبیل انعام کے اعلان کا وقت آتا ہے تو اردو دنیا میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ اردو اتنی بڑی زبان ہے، اس کے بولنے والے کروڑوں میں ہیں، اس کے باوجود اسے آج تک نوبیل انعام کا حق دار کیوں نہیں سمجھا گیا؟

ہمارے خیال سے یہ سوال بےحد اہم ہونے کے ساتھ ساتھ حساس بھی ہے اور اس کے کئی پہلو ہیں۔ سب سے پہلے تو نوبیل انعام برائے ادب کا شماریاتی جائزہ لے لیتے ہیں۔

اب تک کل 117 ادیبوں کو نوبیل انعام دیا جا چکا ہے۔ اس میں 32 انعام انگریزی کو، 14 فرانسیسی کو، 14 جرمن کو، 11 انعام ہسپانوی ادیبوں کو مل چکے ہیں۔

یہ زبانیں تو چلیں ایک لحاظ سے بڑی زبانیں کہلائی جا سکتی ہیں کہ یہ اقوامِ متحدہ کی سرکاری زبانوں میں شامل ہیں، لیکن سویڈش جس کے بولنے والے صرف ایک کروڑ ہیں، اسے بھی سات انعام مل چکے ہیں۔

اکیلا سکینڈے نیویا 14 انعام لے اڑا ہے، حالانکہ ان ملکوں کی کل آبادی ملا جلا کر صرف ڈھائی کروڑ کے لگ بھگ بنتی ہے۔

ان گنتی کی زبانوں سے الگ ہٹ جائیں تو دنیا کی سینکڑوں بڑی، ثروت مند اور متمول زبانوں کو صرف سات انعام ملے ہیں: دو چینی، دو جاپانی، ایک ایک عربی، عبرانی، اور ترکی۔

آج تک فارسی، ہندی، تمل، انڈونیشیائی، ملائی، کورین وغیرہ کو نوبیل انعام نہیں مل سکا۔

ساڑھے چار ارب آبادی والے پورے براعظم ایشیا کی تمام زبانوں کو صرف چار نوبیل انعام مل سکے ہیں۔

اس سے پہلے کہ کسی کے ذہن میں ٹیگور کا خیال آئے تو وضاحت کر دیں کہ ٹیگور کو بنگالی شاعری پر نہیں بلکہ انگریزی شاعری پر نوبیل ملا تھا۔ نوبیل کمیٹی کے الفاظ ہیں:

 “He has made his poetic thought, expressed in his own English words, a part of the literature of the West”.

دوسرا پہلو ہے ترجمے کا، جس کا اندازہ ٹیگور کی مثال سے ہوتا ہے۔ تو اس نقطۂ نگاہ سے دیکھیے تو پتہ چلتا ہے کہ انگریزی میں ترجمہ ہونا بہت ضروری ہے۔

اورحان پامک کا مترجم گوکنار ہے، جس کے ترجمے کے بارے میں جان اپ ڈائیک جیسے عالمی شہرت یافتہ امریکی ادیب کے الفاظ ہیں

Erdağ M. Göknar deserves praise for the cool, smooth English in which he has rendered Pamuk's finespun sentences, passionate art appreciations, sly pedantic debates, (and) eerie urban scenes.

یہ پامک کو نوبیل انعام ملنے سے پہلے کی بات ہے۔

ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ اردو کی کس کتاب، نئی یا پرانی، کا اس معیار کا انگریزی ترجمہ ہوا ہے؟

دو سال پہلے یمن کی ایبہ جوخا الحارثی کو ناول Celestial Bodies پر بکر پرائز کے ساتھ ایک لاکھ پاؤنڈز کی انعامی رقم ملی تو اس میں سے نصف کی حقدار مترجم خاتون ٹھہری۔

اور ہمارے ہاں مترجم کے ساتھ سلوک کیا کیا جاتا ہے، ذرا اس پر بھی غور کیجیے۔ میرے ایک دوست کو ایک اشاعتی ادارے نے 300 صفحے کی کتاب ترجمہ کرنے کی پیش کش کی۔ پوچھا، پیسے کتنے دیں گے؟ جواب ملا، پانچ کتابیں لے لیجیے گا۔

اس کے بعد آ جائیے نوبیل کمیٹی کی کارستانیوں پر۔ یہ پندرہ سولہ سفید فام، سفید ریش، ثقافتی کوتاہ بین، مغرب پرست، کوتاہ بین، سکینڈے نیویائی بابوں کا بورژوائی ٹولہ ہے جس کا کام پوری دنیا کے ادب کو کھنگالنا اور ریت سے موتی نکالنا ہے۔

اگر وہ یہ کام پوری ایمان داری سے کریں تب بھی ناممکن کی ذیل میں آتا ہے، مگر جیسا کام وہ کرتے ہیں اس پر یا تو اندھے کی لاٹھی کی مثال صادق آتی ہے یا پھر اسی اندھے کی ریوڑیوں کی، جو اپنوں کو مٹھی بھر بھر دیتا جاتا ہے۔

ٹالسٹائی تو ہاتھی کا وہ پاؤں ہے جس میں آج تک کے تمام نوبیل انعام یافتگان سما جائیں اور پھر بھی جگہ بچ جائے۔

 

پھر ایک اور مسئلہ نوبیل کمیٹی کی سیاسی اور ثقافتی ترجیحات کا بھی ہے۔ انہوں نے ادب کو بھی اپنی عینک سے پرکھنا ہوتا ہے اور اگر ادیب کے سیاسی خیالات، چاہے ان کا اظہار اس کے ادب میں ہوا ہے یا نہیں، ان کے خیالات سے لگا نہیں کھاتے، تو وہ اسے خاطر نہیں لاتے۔

نوبیل کمیٹی آبِ حیات میں ہزار سال غوطے لگاتی رہے تب بھی اس کے دامن سے جیمز جوئس، بورخیس، پروست، نباکوف کو انعام نہ دینے کا داغ نہیں دھل سکے گا۔

کافکا تو چلو جلدی مر گیا، مگر ٹالسٹائی؟ ٹالسٹائی تو ہاتھی کا وہ پاؤں ہے جس میں آج تک کے تمام نوبیل انعام یافتگان سما جائیں اور پھر بھی جگہ بچ جائے۔

اس ٹالسٹائی کو نوبیل انعام کے قابل نہیں سمجھا گیا، تو اسی سے آپ نوبیل کمیٹی کی ترجیحات، اہلیت اور استعداد کا اندازہ لگا لیں۔

چونکہ نوبیل کمیٹی سے پوچھنے والا کوئی نہیں، کوئی احتساب کمیٹی ان کے سر پر نہیں بیٹھی، اس لیے وہ جو مرضی کرتے پھریں، جوابدہی کوئی نہیں۔

حالیہ برسوں میں سویتلانا جیسی سپاٹ صحافی، باب ڈلن جیسے گیت کار (جی گیت کار کو بھی ادب کا نوبیل انعام عطا کر ڈالا) اور ہینڈکے جیسے متنازع کردار کو نواز دینا اس کی روشن مثالیں ہیں۔

کوئی پوچھے کہ بھئی کیا یہ لوگ میلان کنڈیرا، ہاروکی موراکامی، مارگریٹ ایٹ وڈ، ہلیری مینٹیل، اسماعیل قادر سے بڑے ادیب تھے کہ نوبیل کا تاج ان کے سر پر سجایا گیا؟

نوبیل کمیٹی کا کچا چٹھا تو ہم نے آپ کے سامنے رکھ دیا۔ لیکن ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ اس معاملے کے کئی پہلو ہیں۔ اب آخر میں ضروری بلکہ ناگزیر ہے کہ اسی ڈانگ کو ذرا اپنے منجی تھلے بھی پھیر لیں۔

اہم سوال ہے کہ کیا واقعی ہمارے ہاں اس طرح کا ادب تخلیق کیا گیا ہے جسے ہم عالمی معیار پر رکھ سکیں؟

اس بارے میں ہم اکثر جذباتی ہو جاتے ہیں۔ آپ نے بھی سنا ہو گا فلاں اردو کا چیخوف ہے، فلاں موپساں ہے، فلاں کافکا، مگر ٹھنڈا پانی پی کر سوچیں تو کچھ اور تصویر سامنے آتی ہے۔

میں دل پر پتھر رکھ کر کہہ رہا ہوں کہ سوائے اقبال کہ ہمارے پاس پچھلے سو سال میں کوئی ایسا ادیب نہیں گزرا جسے کے بارے میں ہم وثوق سے کہہ سکیں کہ ہاں بھئی، اس کا نوبیل تو بنتا ہی بنتا ہے۔

نوبیل کی سیاست یا سازش یا جو بھی کہہ لیں، وہ ہم ذکر کر چکے، عمومی عالمی معیار کا کون سا ناول ہمارے ہاں ایسا گزرا ہے جسے ہم انگریزی، فرانسیسی، روسی، ہسپانوی اد ب کے مقابل رکھ سکیں؟

ناول کی بات میں اس لیے کر رہا ہوں کہ ادب کا نوبیل انعام زیادہ تر ناول نگاروں کو ملا ہے، شاعر بہت کم ہیں، ڈراما نگار اس سے بھی کم، اور خالص افسانہ نگار تو صرف ایک ہی ہیں۔

پھر یہ بھی دیکھیے کہ کیا ہمارے ہاں بڑے اور عالمی سطح کا ادب پیدا کرنے کا ماحول بھی موجود ہے یا نہیں؟ ہمارے ہاں ادبی کتاب کتنی چھپتی ہے؟

میں نے ایک دن بی بی سی پر خبر پڑھی، اردو ادب میں تہلکہ مچ گیا ہے کہ ایک ادبی ناول کا پہلا ایڈیشن ختم ہو گیا اور دوسرا چھپنے جا رہا ہے۔ بڑی خوشی ہوئی۔

ناول منگوا کر دیکھا، پہلا ایڈیشن پانچ سو، دوسرا ایڈیشن بھی پانچ سو۔ یہ ناول مرزا اطہر بیگ کا ’غلام باغ‘ تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کوئی مجھے بتائے کہ بیس بائیس کروڑ کی آبادی میں ننانوے فیصد قوم کو الگ بھی رکھ دیا جائے کہ روزی روٹی کے چکر میں گھری ہوئی ہے، یا فرصت نہیں یا تعلیم نہیں، وغیرہ۔

لیکن صرف ایک فیصد طبقہ بھی کتاب پڑھے تو یہ آڈیئنس بھی بیس بائیس لاکھ بنتی ہے۔ اس ایک فیصد کا ایک فیصد بھی کتاب نہیں پڑھتا، ورنہ کتابیں ہزاروں کی تعداد میں چھپتیں۔

ہماری تو حالت یہ ہے کہ شاعر ناول نگار خود کتاب چھپواتا ہے، دوستوں میں بانٹ کر اور دو چار فنکشن کروا، فوٹو شوٹ کھنچوا، فیس بک پوسٹیں چسپاں کر دیتا ہے۔ اللہ اللہ خیر صلا۔

تو بھئی بڑا ناول کہاں سے آئے؟ بڑا ناول تو وہاں لکھا جائے گا جہاں بڑے قاری ہوں گے اور بڑی تعداد میں ہوں گے۔ جیسے تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی، ویسے ادب بھی یک طرفہ عمل نہیں، قاری بھی اس میں پوری طرح سے حصے دار ہے۔

ہال کی کرسیاں ہی خالی ہوں تو سٹیج پر اداکار کیا کرشمہ دکھائے؟ جب قاری ہی نہیں ہے تو ناول نگار سے گلہ کرنے کا کیا سوال کہ نوبیل انعام کے قابل ناول کیوں نہیں لکھتا؟

زیادہ پڑھی جانے والی ادب