صدر ٹرمپ نے پاکستان انڈیا لڑائی میں گرنے والے طیاروں کی تعداد 10 کر دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان مئی 2025 کے تنازع کا ایک مرتبہ پھر ذکر کیا اور اس دوران مار گرائے جانے والے طیاروں کی تعداد 10 کر دی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 6 فروری 2026 کو واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے جنوبی لان میں میرین ون کی سیر کے دوران میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں (اے ایف پی)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان مئی 2025 کے تنازع کا ایک مرتبہ پھر ذکر کیا اور اس دوران مار گرائے جانے والے طیاروں کی تعداد 10 کر دی ہے۔

فاکس بزنس کے ساتھ بدھ کو نشر کیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں انڈیا اور پاکستان کی طرح جوہری جنگ ہوتی۔ وہ واقعی اس میں جا رہے تھے، 10 طیارے مار گرائے گئے تھے۔‘

گذشتہ 10 مہینوں کے دوران صدر ٹرنپ نے متعدد بار کہا کہ انڈیا پاکستان جنگ کے دوران طیاروں کو مار گرایا گیا تھا یہ بتائے بغیر کے گرنے والے جہاز کس ملک کے تھے۔  

ابتدائی طور پر انہوں نے پانچ طیاروں کے مار گرائے جانے کا ذکر کیا تھا اور بعدازاں وہ یہ تعداد بڑھا کر اکتوبر میں 7 اور پھر نومبر میں 8 کر دی تھی۔

انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایک کروڑ جانیں بچانے پر ان کی تعریف کی تھی۔ 

امریکی صدر نے زور دے کر کہا، ’کیونکہ، دیکھو، وہ جوہری (جنگ کی طرف) پر جا رہے تھے، ٹیرف کے بغیر، یہ (جنگ بندی) نہیں ہو سکتی تھی۔‘

انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی اپریل 2025 میں اس وقت شروع ہوئی جب مقبوضہ کشمیر میں سیاحوں پر ایک مہلک دہشت گردانہ حملے کا الزام بغیر ثبوت کے اسلام آباد پر لگایا گیا تھا، جس نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی۔

دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر حملے کیے جو مئی میں ٹرمپ کے جنگ بندی کے اعلان کے ساتھ ختم ہو گئیں۔ اس کے بعد سے ٹرمپ نے دونوں جنوبی ایشیائی پڑوسیوں کے درمیان فوجی کشیدگی کو ختم کرنے میں اپنے کردار کے بارے میں بارہا بات کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کئی مواقع پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بھی تعریف کی اور انہیں ایک ’انتہائی قابل احترام جنرل‘، ایک ’عظیم جنگجو‘ اور ’میرا پسندیدہ‘ قرار دیا۔

دہلی نے صدر ٹرمپ کے دعووں سے اختلاف کرتا رہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی ان کی مداخلت اور تجارتی بات چیت کو ختم کرنے کی دھمکیوں کے نتیجے میں ہوئی ہے۔

ناکام مذاکرات کے بعد جسے کچھ لوگوں نے امریکہ اور انڈیا کے درمیان کشیدہ تعلقات کے طور دیکھا، صدر ٹرمپ نے اس ماہ کے شروع میں ​​دہلی کے ساتھ ’تجارتی معاہدے‘ کا اعلان کیا ہے۔

کچھ دنوں بعد انڈین وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی امریکہ کا تین روزہ سرکاری دورہ کیا، جہاں انہوں نے سیکرٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو سے مذاکرات کیے۔ 

امریکی صدر نے کہا کہ ’اور یہ بہت اچھا اور نرم ہے۔ دیکھو، میں نے آٹھ جنگیں طے کیں۔ آٹھ جنگوں میں سے، کم از کم چھ ٹیرف کی وجہ سے طے کی گئیں۔‘ 

صدر ٹرمپ نے پھر وضاحت کی: ’دوسرے الفاظ میں، میں نے کہا، 'اگر آپ اس جنگ کو طے نہیں کرتے ہیں، تو میں آپ سے ٹیرف وصول کروں گا کیونکہ میں لوگوں کو مارتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا۔ اور انہوں نے کہا، نہیں، اس کا اس سے کیا تعلق ہے؟ میں نے کہا، آپ پر الزام عائد کیا جائے گا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا