لاہور کا پہلا جدید سہولیات سے آراستہ سرکاری ہسپتال ایک سال کی مدت میں تیاری کے آخری مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔ رواں ماہ اس ہسپتال کے او پی ڈی سیکشن کے افتتاح کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ 915 بستروں کی گنجائش کے ساتھ یہ ہسپتال مریضوں کی تعداد کے مقابلے میں ابھی کم سمجھا جا رہا ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ پانچ سال میں پاکستان بھر سے مجموعی طور پر کینسر کے تین لاکھ 90 ہزار 443 مریض رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں ایک لاکھ 85 ہزار 748 نئے کیسوں کی تشخیص شامل ہے۔ یعنی سالانہ ایک لاکھ 80 سے 90 ہزار کینسر کے مریض سامنے آرہے ہیں۔
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان پانچ سالوں میں کینسر کے مرض مین مبتلا ہو کر ایک لاکھ 85 ہزار 600 سے زائد افراد جان سے چلے گئے۔
ماہرین کے بقول پاکستان میں کینسر مسلسل پھیلتا جا رہا ہے جس پر قابو پانے کے لیے اور علاج معالجے کے لیے سرکاری سطح پر سہولیات مریضوں کی تعداد کے مقابلے میں کافی کم ہیں۔
لاہور کے علاقے پائن ایونیو میں تعمیر ہونے والے نواز شریف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ ہسپتال پراجیکٹ کے انچارج انجینئر عامر سعید نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’اس ہسپتال کی تعمیر پنجاب حکومت کی ہدایت پر ایک سال پہلے شروع کی گئی تھی۔ اس کو ڈیڑھ سال میں مکمل ہونا تھا لیکن ہماری ٹیم نے دن رات کام کر کے اس کی او پی ڈی سمیت پہلا حصہ ایک سال میں ہی مکمل کر لیا ہے، جس کا افتتاح اسی ماہ کر دیا جائے گا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’اس کے بعد کینسر کے مریضوں کو چیک اپ اور ٹیسٹ کرانے کی سہولت مفت فراہم کر دی جائے گی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’333 کنال کے رقبے پر پھیلے ہوئے اس ہسپتال میں 915 مریضوں کو داخل کر کے علاج کرنے کی گنجائش ہو گی۔ پہلے مرحلے میں 620 بیڈز تیار کیے جا رہے ہیں جبکہ دوسرے مرحلے میں مکمل بیڈز کی تعداد کے مطابق عمارت تیار ہو جائے گی۔‘
عامر سعید کے بقول، ’اس ہسپتال کو سٹیٹ آف دی آرٹ بنایا جا رہا ہے۔ جس میں کینسر کا علاج کرنے کے لیے دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا۔ یہاں آخری سٹیج کے مریضوں کو بھی علاج کی سہولت ہوگی۔ ٹیسٹوں سے لے کر آپریشنز تک سب کچھ فری فراہم کیا جائے گا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جہاں تک بات مریضوں کی تعداد کے مطابق گنجائش کی ہے تو یہ پنجاب تو کیا پاکستان میں پہلا سرکاری کینسر ہسپتال تعمیر ہو رہا ہے۔ لہذا یہاں پاکستان بھر سے مریض اپنا علاج کرا سکیں گے۔‘