سڈنی حملے کا ملزم عدالت میں پیش، ہر سوال پر صرف ’ہاں‘ کہا

نوید اکرم پیر کو ویڈیو لنک کے ذریعے ڈاؤننگ سینٹر لوکل کورٹ میں پیش ہوئے اور مختصر گفتگو کی جو زیادہ تر ایک لفظی جواب پر مشتمل تھی۔

آرٹسٹ روکو فزاری کا بنایا ہوا خاکہ جس میں بونڈائی فائرنگ کے ملزم نوید اکرم کو 16 فروری 2026 کو سڈنی کی ڈاؤننگ سینٹر لوکل کورٹ میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوتے دکھایا گیا ہے (اے ایف پی)

گذشتہ سال سڈنی کے بونڈائی ساحل پر تین دہائیوں میں آسٹریلیا میں لوگوں پر فائرنگ کے بدترین واقعے میں ملوث ملزم  پہلی بار عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔

24 سالہ انڈین شہری نوید اکرم کو اتوار 14 دسمبر کو سڈنی کے آرچر پارک میں ایک یہودی تقریب پر حملے کے سلسلے میں 59 الزامات کا سامنا ہے، جس میں کم از کم 15 افراد کی جان گئی اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

نوید اکرم پیر کو ویڈیو لنک کے ذریعے ڈاؤننگ سینٹر لوکل کورٹ میں پیش ہوئے اور مختصر گفتگو کی، جو زیادہ تر ایک لفظی جواب پر مشتمل تھی۔

مجسٹریٹ نے ان امتناعی احکامات میں توسیع کر دی جو گذشتہ سال کے آخر میں متاثرین اور زندہ بچ جانے والوں کی شناخت کے تحفظ کے لیے جاری کیے گئے تھے کیوں کہ انہوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

نوید اکرم اور ان کے والد ساجد اکرم پر الزام ہے کہ انہوں نے ہنوکا کا جشن منانے والے یہودیوں کو ایک یہود مخالف حملے میں نشانہ بنایا جس نے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی۔ یہ 1996 کے بعد آسٹریلیا کی بدترین اجتماعی فائرنگ تھی، اور 2002 کے بالی بم دھماکوں کے بعد آسٹریلویوں کو نشانہ بنانے والا بدترین دہشت گرد حملہ تھا۔

ساجد اکرم کو پولیس نے موقع پر ہی گولی مار کر مار دیا تھا۔

نوید اکرم، جنہوں نے سبز رنگ کا جمپر پہنا ہوا تھا اور ہاتھ اپنی گود میں رکھے بیٹھے تھے، صرف اس وقت بولے جب ڈپٹی چیف مجسٹریٹ شیرون فرینڈ نے پوچھا کہ کیا وہ امتناعی احکامات میں توسیع کے بارے میں بحث سن رہے ہیں؟

’کیا آپ نے سنا جو میں نے ابھی کہا؟‘ شیرون فرینڈ نے پوچھا۔ نوید اکرم نے جواب دیا: ’ہاں‘

ان کے ’لیگل ایڈ‘ وکیل، بین آرچ بولڈ نے بعد میں مجسٹریٹ سے اپنے موکل سے بات کرنے کے لیے وقت مانگا۔

مجسٹریٹ نے کہا، ’مسٹر اکرم، آپ کے وکیل آپ کو بعد میں کال کریں گے۔‘ ملزم نے جواب دیا، ’ہاں۔‘

بین آرچ بولڈ نے کہا کہ یہ تصدیق کرنا بہت جلدی ہے کہ ان کا مؤکل کیا موقف اختیار کرے گا اور انہیں ابھی شواہد کی تفصیلات موصول ہونا باقی ہیں۔

عدالت کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے موکل ’اتنا ہی ٹھیک ہیں جتنی توقع کی جا سکتی ہے‘ کیوں کہ وہ نیو ساؤتھ ویلز کی گولبرن سپر میکس جیل میں قید ہے۔

بین آرچ بولڈ کا کہنا تھا کہ ’ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ سپر میکس ہے۔ بہت سخت حالات ہیں۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا نوید اکرم نے پولیس کو انٹرویو دیا ہے، تو انہوں نے کہا: ’ہم نے صرف عمل شروع کیا ہے۔ ہم بریف ملنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا۔‘

بین آرچ بولڈ نے یہ بھی کہا کہ وہ نوید اکرم سے ملنے ہائی رسک مینجمنٹ کریکشنل سینٹر (ایچ آر ایم سی سی) گئے۔

جب ان کے دورے اور نوید اکرم کے حالات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: ’وہ صرف ایک مؤکل ہیں اور وہ ایسے مؤکل ہیں جنہیں نمائندگی کی ضرورت ہے، اور ہم اپنی ذاتی رائے کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے راستے میں نہیں آنے دیتے۔‘

پولیس کا الزام ہے کہ بونڈائی بیچ حملہ آوروں نے 14 دسمبر کو شام چھ بج کر 50 منٹ پر اپنی گاڑی بونڈائی میں آرچر پارک کے اوپر واقع ایک فٹ برج کے قریب کھڑی کی۔

الزام ہے کہ دونوں نے فائرنگ کرنے سے پہلے ہجوم پر ایک ’ٹینس بال بم‘ اور تین پائپ بم پھینکے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کوئی بھی بم نہیں پھٹا، لیکن پولیس کے ابتدائی تجزیے کے دوران انہیں کارآمد قرار دیا گیا۔

دسمبر میں، عدالتی دستاویزات نے پولیس کے ان الزامات کو عام کیا کہ ساجد اور نوید اکرم نے حملے سے پہلے کے دنوں میں ’جائزہ اور منصوبہ بندی‘ کے لیے اس علاقے کا دورہ کیا تھا۔

پولیس نے مزید الزام لگایا ہے کہ دونوں نے آسٹریلیا کے دیہی علاقے میں آتشیں اسلحہ چلانے کی تربیت حاصل کی تھی۔

نوید اکرم اپریل میں دوبارہ عدالت میں پیش ہوں گے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا