بونڈائی حملہ آوروں کا فلپائن کا سفر: فلپائن میں داعش کتنی فعال ہے؟

فلپائن، جو ایشیا میں رومن کیتھولک مسیحیوں کی سب سے بڑی آبادی کا ملک ہے اور جہاں مسلمانوں کے علاوہ دوسرے مذاہب کے لوگ بھی آباد ہیں، میں عسکریت پسندی کوئی نیا مظہر نہیں۔

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں واقع معروف بونڈائی ساحل پر حملے میں ملوث باپ بیٹے (سجاد اکرم اور نوید اکرم) کے بارے میں آسٹریلوی حکام نے بتایا ہے کہ حملے سے قبل دونوں نے فلپائن کا سفر کیا اور یکم نومبر سے 28 نومبر تک وہاں قیام پذیر رہے۔  

حکام کے مطابق والد سجاد اکرم نے انڈین پاسپورٹ جبکہ نوید اکرم نے آسٹریلوی پاسپورٹ پر فلپائن کا سفر کیا ہے جس کی تصدیق فلپائنی حکام نے بھی کی ہے۔

آسٹریلیا براڈکاسٹنگ کارپوریشن (اے بی سی) نے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ دونوں نے وہاں پر ’ملٹری سٹائل‘ ٹریننگ بھی حاصل کی ہے جبکہ فلپائن وہ اس علاقے کو گئے جہاں داعش کی ساؤتھ ایشیا شاخ فعال ہے۔

فلپائن میں داعش کی فعالیت 

شاید قارئین کے لیے یہ بات نئی ہو کہ فلپائن جیسے سیاحتی ملک میں نام نہاد داعش کا وجود کہاں سے آیا جو وہاں سے آپریٹ ہو کر مختلف دہشت گرد کارروائیوں میں بھی ملوث رہی ہے۔ 

مختلف ممالک کی جانب سے فلپائن میں موجود داعش کی شاخ کو ’داعش فلپائن‘ یا ’داعش ساؤتھ ایشیا‘ کا نام دیا گیا ہے اور امریکہ سمیت مختلف ممالک کی جانب سے اس شاخ کو دہشت گرد تنظیموں کی لسٹ میں بھی شامل کیا گیا ہے۔

آسٹریلین نیشنل سکیورٹی کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق اس تنظیم کو 2017 میں دہشت گرد تنظیموں کی لسٹ میں شامل کیا گیا تھا۔

اسی ویب سائٹ کے مطابق یہ شاخ فلپائن میں موجود ماؤتی گروپ، دولتِ اسلامیہ، انصارالخلافہ فلپائن، دولتِ اسلامیہ میگندناؤ اور جماعت المہاجرین و الانصار نے مشترکہ طور پر 2015 میں بنائی ہے۔

یہ شاخ القاعدہ کے ابو سیاف گروپ، جنہوں نے داعش کے ساتھ بھی الحاق کیا تھا، کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتی ہے تاہم دونوں تنظیموں کی قیادت الگ ہے۔

داعش فلپائن کو 2017 میں مراوی شہر کے پانچ مہینے قبضے کے دوران فلپائن سکیورٹی فورسز کی جانب سے بہت نقصان اٹھانا پڑا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فلپائن میں اس تنظیم کے جنگجو فلپائن کے جنوب میں واقع مینداناؤ صوبے میں فعال ہیں اور ان کی تعداد آسٹریلوی حکام کے مطابق 200 تک ہے جس میں زیادہ تر مقامی جبکہ انڈونیشیا، ملائیشیا، مراکش، مصر اور سپین کے چند جنگجو بھی شامل ہیں۔

یہ تنظیم فلپائن میں مختلف شدت پسند کارروائیوں میں ملوث رہی ہے، جس میں ایک فلپائن کے جولو جزیرے میں 2020 میں دو خودکش حملے تھے جس میں 15 افراد مارے گئے تھے۔

اپریل 2023 میں مینداناؤ صوبے میں اسی تنظیم نے مسافر بس میں دھماکہ کیا تھا، جس میں سات افراد زخمی ہوئے تھے۔

امریکہ کے سرکاری کاؤنٹر ٹیررزم گائیڈ کے مطابق داعش فلپائن کی کوشش ہے کہ وہ داعش کی نام نہاد خلافت کو ساؤتھ ایسٹ ایشیا تک پھیلا سکے اور امریکہ کے مطابق اس تنظیم کے جنگجوؤں کی تعداد 300 سے 500 تک ہے۔

مرکزی داعش نے اس تنظیم کو امریکی حکام کے مطابق 2016 میں اپنی شاخ مان لیا تھا اور اس کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔

امریکہ کے کاؤنٹر ٹیررزم ادارے کے مطابق یہ تنظیم دہشت گرد کارروائیوں میں خواتین خودکش حملہ آوروں کو بھی استعمال کرتی ہے اور امریکہ نے اس تنظیم پر 2018 میں پابندی عائد کی ہے۔

دوسری جانب یونائیٹڈ نیشنز ڈویلپمنٹ پروگرام (یو این ڈی پی) اور یورپی یونین کے اشتراک سے 2024 میں مشرقی ایشیا پر ایک تحقیق میں یہ بتایا گیا ہے کہ شدت پسند تنظیموں کا وجود اس خطے میں موجود تو ہے، لیکن ان ممالک میں بڑی حد تک ان کی سرگرمیوں کو کنٹرول کیا ہوا ہے۔

فلپائن میں عسکریت پسندی کی تاریخ

فلپائن، جو ایشیا میں رومن کیتھولک مسیحیوں کی سب سے بڑی آبادی کا ملک ہے اور جہاں مسلمانوں کے علاوہ دوسرے مذاہب کے لوگ بھی آباد ہیں، میں عسکریت پسندی کوئی نیا مظہر نہیں۔

امریکی تھینک ٹینک کونسل فار فارن ریلیشنز کی ویب سائٹ پر چھپے ایک مضمون کے مطابق 1980 کے اواخر اور 1990 کی دہائی کے اوائل میں جنوبی فلپائن میں ابو سیاف عسکریت پسند تنظیم کا نام سامنے آیا جس کا ہدف اس ملک کی مسلم اقلیت کے لیے ایک الگ اسلامی ریاست کے لیے جدوجہد تھا۔ 

مضمون کے مطابق ابو سیاف کے پہلے رہنما عبدالراجک جنجلانی، ایک فلپائنی مسلمان جو سوویت قبضے کے دوران افغانستان میں بین الاقوامی اسلامی بریگیڈ میں لڑے تھے جبکہ فلپائن میں رہنے والے ایک مسلمان تاجر محمد جمال خلیفہ نے اپنے ابتدائی سالوں میں ابو سیاف کے لیے اہم مالیاتی اور تنظیمی مدد فراہم کی۔ 1998 سے 2006 تک اس گروپ کی قیادت خدافی جنجلانی کر رہے تھے، جنہوں نے اس وقت قیادت سنبھالی جب ان کے بڑے بھائی عبد الراجک کو قتل کر دیا گیا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے ابو سیاف کو ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزد کیا، جو اسامہ بن لادن کے القاعدہ نیٹ ورک کے ساتھ ساتھ جماعۃ الاسلامیہ کے انڈونیشی نیٹ ورک سے بھی تعلقات کا دعویٰ کرتی ہے۔

ایک دوسرے امریکی تھینک ٹینک کے مطابق 25 سال سے زیادہ بعد فلپائن نے اس گروپ کے خلاف فتح کا اعلان کرنے کا اعتماد حاصل کر لیا ہے۔

ویسٹرن منداناؤ کمانڈ کے سربراہ آرٹورو روزاس نے جیمزسٹون نامی ٹھینک ٹینک کو بتایا کہ ’یہ حقیقت کہ ابو سیاف نے 2022 میں منداناؤ میں کسی کو یرغمال نہیں بنایا، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ گروپ اب ’ماضی کی بات‘ ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا