پاکستان کے ایک سرکاری ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا کہنا ہے کہ انڈین میڈیا اور کچھ اسرائیلی اور افغان سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے تصدیق نہ ہونے کے باوجود بونڈائی حملے کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی۔
سرکاری سوشل میڈیا پلیٹ فارم پاکستان ٹی وی کے مطابق بونڈائی واقعے کے فوراً بعد متعدد انڈین ذرائع ابلاغ پر نوید اکرم کا نام گردش کرنے لگا اور اسے ایک ’پاکستانی حملہ آور‘ کے طور پیش کیا گیا۔
آسٹریلیا کے سب سے بڑے شہر سڈنی کے مضافاتی ساحل بونڈائی پر اتوار کو دو مسلحہ افراد نے لوگوں کے ایک ہجوم پر فائرنگ کھول دی، جس کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد جان سے گئے اور متعدد زخمی ہوئے۔ بونڈائی ساحل پر موجود احمد نامی مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے ایک حملہ آور پر قابو پایا۔
پاکستان کے سرکاری سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے مطابق نوید اکرم سے متعلق دعوے کی حقیقت اس وقت کھل کے سامنے آئی جب اسی نام کے ایک پاکستانی آسٹریلوی شخص نے عوامی سطح پر کسی بھی تعلق سے انکار کرتے ہوئے الزامات کو جھوٹا اور خطرناک قرار دیا۔
نوید اکرم نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ان کی تصاویر ان کے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے لی گئیں اور حملہ آور سے غلط طور پر منسلک کی گئیں۔
This is Naveed Akram. A Pakistani living in Sydney. His identity is falsely being used by some media as being one of the Bondi beach gunmen- this is fake news. His life has now been put in danger. He needs our help. Please share.
— Bushra Shaikh (@Bushra1Shaikh) December 14, 2025
pic.twitter.com/JQGJqGkwW0
’وہ میں نہیں ہوں اور میرا اس واقعے یا اس شخص سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘
نوید اکرم نے مزید کہا کہ ’یہ مسئلہ بہت سنگین ہے۔ میں تناؤ کا شکار ہوں، خوفزدہ ہوں اور محفوظ طریقے سے باہر بھی نہیں جا سکتا۔‘
آسٹریلیا کے مقامی میڈیا کے مطابق بونڈائی کے دو حملہ آوروں کی شناخت 50 سالہ ساجد اکرم اور ان کے 42 سالہ بیٹے نوید کی حیثیت سے ہوئی ہے۔
پاکستان ٹی وی کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ ان تمام وضاحتوں کے باوجود غیر تصدیق شدہ داستانیں آن لائن گردش کرتی رہیں، جن میں کچھ انڈین، اسرائیلی اور افغانی اکاؤنٹس نے حملے کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی بونڈائی حملے کی مذمت کرتے ہوئے آسٹریلیا کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
کرسمس کی تقریب جشن بنا دیا گیا
بونڈائی ساحل کے ہولناک واقعے کے بعد کچھ آسٹریلوی سوشل میڈیا صارفین نے اسی بیچ پر منعقدہ ایک تقریب کو غلط طور پر ’اسلام پسندوں‘ پر شوٹنگ کا جشن منانا قرار دیا۔
سوشل میڈیا صارفین نے مذکورہ تقریب میں آتش بازی کی ویڈیو شیئر کی، جس کے بارے میں آسٹریلوی حکام کا کہنا تھا کہ تقریب دراصل کرسمس تقریبات کا حصہ تھی۔
ویڈیو، جس میں سیاہ آسمان پر آتش بازی کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا، پیر کی صبح تک انڈیا، برطانیہ اور امریکہ تک پھیل چکی تھی۔
سڈنی میں ایک مقامی کمیونٹی تنظیم نے بھی کہا کہ یہ جسن کی تقریب کرسمس کی تقریبات کے لیے تھی۔
ایک مضافاتی علاقے کے روٹری کلب آف پڈسٹو نے کہا کہ ’آتش بازی ہمارے سالانہ کرسمس کیرولز ایونٹ کا حصہ تھی، اس تقریب اور آتش بازی کی نمائش کا منصوبہ مہینوں پہلے سے بنایا گیا تھا۔‘
روٹری کلب نے کہا کہ ’ان کا کسی بھی طرح سے بونڈائی میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔‘