جہلم کی مصروف سڑک سے ذرا ہٹ کر ایک ریسٹورنٹ میں اگر آپ داخل ہوں تو چند لمحوں کے لیے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آپ کسی کھانے کی جگہ نہیں بلکہ کسی چھوٹے سے شو میں آ گئے ہوں۔
پلیٹوں کی خوشبو اور گاہکوں کی چہل پہل کے بیچ اچانک ایک ویٹر سکیٹنگ شوز پہنے تیزی سے آپ کی میز کی طرف لپکتا ہے، عین سامنے آ کر بریک لگاتا ہے اور مسکراتے ہوئے کھانا پیش کر دیتا ہے۔ یہ ہیں محمد ابرار۔
محمد ابرار ایک ویٹر ہیں جو جہلم کے ایک ریسٹورنٹ میں سکیٹنگ شوز پہن کر سکیٹنگ کرتے ہوئے کھانا سرو کرتے ہیں۔
انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے بتایا: ’میں پہلے روڈ پر سکیٹنگ کرتا تھا، پھر ہوٹل کی لائن میں آ گیا اور اسی طرح کھانا سرو کرنا شروع کر دیا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ یہ کام دیکھنے میں جتنا آسان لگتا ہے، اتنا ہے نہیں۔ ’اگر کوئی یہ کام کرنا چاہے تو اس کے لیے یہ تھوڑا مشکل ہوگا۔ اسے سیکھنا پڑتا ہے، یہ نہیں کہ بس پہنیں اور چلانا شروع کر دیں۔ مگر جب سیکھ لو تو پھر آگے آسانی ہی آسانی ہے، لیکن اس کے لیے تھوڑی محنت کرنی پڑتی ہے۔‘
ابرار کے مطابق گاہکوں کا ردعمل ہی ان کی سب سے بڑی حوصلہ افزائی ہے۔ ’جو کسٹمر مجھے دیکھتے ہیں، ان کا ردعمل بہت اچھا ہوتا ہے، مزے کا ہوتا ہے۔ میرا بھی دل کرتا ہے کہ میں ان کے ساتھ ویڈیو بناؤں۔ جب ایک دم اس طرح آتا ہوں تو لوگ حیران ہو جاتے ہیں کہ یہ آیا کیسے؟ پیروں میں کیا ہے؟ ایسا کیا ہے کہ لوگ کھڑے ہو کر دیکھنے لگ جاتے ہیں؟‘
وہ بتاتے ہیں کہ کبھی کبھار گاہک گھبرا بھی جاتے ہیں۔ ’جب میں ٹیبل کے پاس جا کر بریک لگاتا ہوں تو کچھ لوگ ہل جاتے ہیں کہ یہ میرے اوپر ہی نہ آ جائے۔‘
لیکن اس مہارت کے پیچھے ٹھوکریں بھی ہیں۔
’میں سرو کرتے ہوئے کم از کم آٹھ سے نو بار گرا ہوں اور جو کھانا میرے ہاتھ میں تھا وہ مجھ سے تقریباً دو سے تین بار ضائع بھی ہو گیا۔‘
سوشل میڈیا نے ان کی پہچان کو مزید وسعت دی ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’بہت زیادہ ٹپ ملتی ہے، لوگ جیب میں پیسے ڈال کر جاتے ہیں، کہتے ہیں یہ لو، یہ میری طرف سے چائے پی لینا۔ سب سے زیادہ ٹپ مجھے پانچ ہزار روپے ملی تھی اور مجھے اپنے ہنر پر بہت خوشی ہوئی تھی۔ کئی لوگ خاص طور پر میرے لیے آتے ہیں، میری ویڈیو دیکھتے ہیں اور پھر مجھ سے ملنے آتے ہیں۔‘
ان کے مطابق جب ان کی ویڈیوز کو 450 ملین ویوز ملے تو وہ بے حد خوش ہوئے۔ ’اللہ پاک نے مجھے محنت کا نتیجہ دیا ہے۔‘
تاہم یہ سب آسان نہیں۔
’باقاعدہ 12 گھنٹے کی ڈیوٹی ہوتی ہے، اس میں تھک جاتا ہوں، اس لیے بیچ میں بریک لے لیتا ہوں۔ روٹین میں چلنا آسان ہوتا ہے، مگر جب ٹائرز ہوں تو توازن برقرار رکھنا پڑتا ہے۔‘
منفی تبصروں سے متعلق وہ کہتے ہیں کہ انہیں سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، مگر وہ اپنی توجہ کام پر رکھتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ ایک دن وہ اپنا ریسٹورنٹ کھولیں اور وہاں تمام ویٹر سکیٹنگ کرتے ہوں۔ اس کے بغیر تو ہوٹل ہی نہیں چلے گا۔‘
نوجوانوں کے لیے ان کا پیغام سادہ ہے کہ ’جو بھی کام کریں، دل سے کریں اور لگے رہیں۔‘
گاہک کیا کہتے ہیں؟
نبیلہ راجہ، جو خود کو میک اپ آرٹسٹ بتاتی ہیں، کہتی ہیں: ’میں بہت حیران ہوئی تھی، مجھے لگا ابھی کھانا گر جائے گا، مگر یہ بہت مختلف تجربہ تھا۔ جہلم میں ابھی کوئی بھی اس طرح نہیں کر رہا۔‘
ان کے مطابق ابرار کی مہارت دیکھ کر خوف کم اور حیرت زیادہ ہوتی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’میں نے ان کو سیڑھیوں سے اترتے اور چڑھتے بھی دیکھا ہے۔ چھوٹے بچوں کے لیے تو یہ بہت اٹریکٹو ہے۔ سکیٹنگ کرنا الگ بات ہے، لیکن سکیٹنگ کرتے ہوئے کھانا پیش کرنا بالکل مختلف ہے۔‘
رضوان نامی ایک گاہک کہتے ہیں کہ وہ سوشل میڈیا پر ابرار کی ویڈیوز دیکھتے رہے ہیں اور آج انہیں سامنے دیکھ کر خوشی ہوئی۔ ایک اور گاہک نے بتایا کہ وہ خاص طور پر تین گھنٹے سفر کر کے سرگودھا سے آئے تاکہ انہیں دیکھ سکیں۔
’کھانا تو مزیدار ہے ہی، لیکن ابرار کو دیکھ کر ایک الگ قسم کی انٹرٹینمنٹ ملتی ہے۔‘
ریسٹورنٹ کی انتظامیہ بھی انہیں اپنی ٹیم کا اہم حصہ قرار دیتی ہے۔ ساجد وڑائچ، جو خود کو چیئرمین یورو گروپ بتاتے ہیں، کہتے ہیں کہ ان کی ٹیم پروفیشنل ہے اور جی ٹی روڈ پر اس طرز کی سروس منفرد ہے۔
’جو نوجوان محنت کرے گا، جیسے ابرار نے کی ہے، اللہ اسے رزق بھی دے گا اور عزت بھی۔‘
جہلم کے اس ریسٹورنٹ میں پلیٹیں اب بھی اسی طرح پیش کی جاتی ہیں، مگر پہیوں پر۔ اور ہر بار جب ابرار بریک لگا کر کسی میز کے سامنے رکتے ہیں تو چند لمحوں کے لیے کھانا ثانوی اور حیرت بنیادی چیز بن جاتی ہے۔