کینسر کے علاج کا ماہر سرجن بننا ہے، 10 سالہ موسٰی کا خواب

لاہور کے 10 سالہ طالب علم موسیٰ عمر نے او لیولز میں بیالوجی مضمون میں اے پلس اور کیمسٹری میں گریڈ اے حاصل کیے۔

برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے تحت او لیولز (O Levels) امتحان میں لاہور کے 10 سالہ طالب علم موسیٰ عمر نے بیالوجی مضمون میں اے پلس اور کیمسٹری میں گریڈ اے حاصل کیے۔ وہ نو سال کی عمر میں پہلے ہی دو مضامین فزکس اورریاضی میں اے گریڈ سے پاس کر چکے ہیں۔

برطانوی تاریخی درسگاہ کیمبرج کے انٹرنیشنل جنرل سرٹیفکیٹ آف سکینڈری ایجوکیشن (آئی جی سی ایس ای) پروگرام کے تحت ہر سال دو سے ڈھائی لاکھ کے قریب 14 سے 16 سال عمر کے بچے او لیول کے امتحان کی رجسٹریشن کرواتے ہیں، جن میں سے تقریباً ایک لاکھ مرحلہ وار مختلف مضامین کا امتحان پاس کر پاتے ہیں۔ ایسی مثالیں بہت کم ہیں کہ 9 یا 10 سالہ بچے یہ امتحان پاس کرتے ہوں۔

تاہم راولپنڈی کے حارث منظور نامی بچے نے بھی 2014 میں نو، دس سال کی عمر میں او لیول کے مضامین میں مختلف گریڈز لے کر کامیابی حاصل کی تھی اور لاہور کے ارسلان نامی طالب علم بھی اسی عمر میں او لیول کے مضامیں پاس کر چکے ہیں۔ لیکن ایسی مثالیں بہت کم لتی ہیں۔

او لیول پاکستانی تعلیمی نظام میں میٹرک (دسویں جماعت) کے برابر ہوتا ہے۔

لاہور کے طالب علم محمد موسیٰ کی والدہ ڈاکٹر آمنہ عمر نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ پچھلے سال 9 سال کی عمر میں انہوں نے آٹھ میں سے دو مضامین ریاضی اور فزکس اے گریڈ سے پاس کیے جبکہ اب 10 سال کی عمر میں دو مضامین کیسمٹری اور بیالوجی اے گریڈ پلس سے پاس کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’میرے دو بیٹے ہیں موسیٰ چھوٹا ہے۔ جب سکول میں اسے پڑھتے دیکھا تو اس کی قابلیت پر اساتذہ اور ہم نے فیصلہ کیا کہ نو سال کی عمر میں اس کو او لیول کا امتحان دلوایا جائے۔ کیمبرج میں کیونکہ کم از کم عمر کی حد نہیں رکھی گئی اس لیے اس کی رجسٹریشن ہو گئی۔ اس نے چار سائنس مضامین اچھے گریڈز سے پاس کیے اب باقی چار کی تیاری کر رہا ہے۔‘

موسیٰ عمر نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’میرے دادا اور دادی کینسر کے مرض سے وفات پا گئے اس لیے میں نے فیصلہ کیا کہ جلد از جلد تعلیم مکمل کر کے ڈاکٹر بنوں تاکہ اپنوں کے ساتھ دوسروں کا بھی علاج کر سکوں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’دن میں سکول کے اوقات اور گھر میں چار پانچ گھنٹے تک دل لگا کر پڑھتا ہوں۔ میری کامیابی میں والدین اور استاتذہ کی بھی محنت شامل ہے۔ میں سب سے زیادہ توجہ سائنس مضامین پر دیتا ہوں تاکہ بہترین ڈاکٹر بن سکوں۔‘

دستیاب ریکارڈ کے مطابق موسیٰ کی پیدائش جولائی 2015 میں ہوئی اور انہوں نے بیالوجی مضمون میں اے پلس گریڈ جبکہ ریاضی، کیمسٹری اور فزکس میں گریڈ اے حاصل کیے ہیں۔  

موسیٰ کو پڑھانے والے اساتذہ گوہر ایوب اور عائشہ ثنا نے بتایا کہ ’موسیٰ ایک گاڈ گفٹڈ بچہ ہے جو بچپن سے ہی عام بچوں کی نسبت بہت زہین اور سمجھدار ہے۔ جو کام عام بچے ایک گھنٹے میں سمجھتے ہیں یہ 10 منٹ میں سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

’یہ بہت فوکسڈ ہے اور غیر نصابی سرگرمیوں میں دلچسپی نہیں لیتا۔ کھیل کود یا گھومنا پھرنا کافی کم ہے لیکن تعلیم کے معماملہ میں جنون کی حد تک سنجیدہ ہے۔ جب ہم نے چھوٹی کلاسوں میں اس کی ذہانت دیکھی تو او لیول کا امتحان دلوانے کی سفارش کی۔ اس کو سب سے زیادہ دلچسپی بیالوجی میں ہے۔ اسی لیے پہلے سائنس مضامین کا امتحان دیا اور اے یا اے پلس گریڈ لے کر اپنی قابلیت کو منوایا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ابھرتے ستارے