دی ہنڈریڈ لیگ میں شامل انڈین فرنچائز کی جانب سے پاکستانی کھلاڑیوں کو نظرانداز کرنے کے دعوے کے بعد منتظمین اور ٹیموں نے منگل کو کہا ہے کہ یہ کرکٹ مقابلہ ’جامع‘ اور ’سب کے لیے کھلا‘ ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی اس رپورٹ کے بعد کہ ’مانچسٹر سپر جائنٹس‘، ’ایم آئی لندن‘، ’سدرن بریو‘ اور ’سن رائزرز لیڈز‘ مارچ میں ہونے والی ’دی ہنڈریڈ‘ کی نیلامی میں کسی بھی پاکستانی کرکٹر پر غور نہیں کریں گی، انگلینڈ اور ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) اور تمام آٹھ ٹیموں نے اس حوالے سے مشترکہ بیان جاری کیا۔
بیان میں کہا گیا: ’دی ہنڈریڈ کا قیام نئے ناظرین تک رسائی حاصل کرنے، کرکٹ کے کھیل کو فروغ دینے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا تھا کہ ہر شخص، چاہے اس کی نسل، جنس، مذہب یا قومیت کوئی بھی ہو، خود کو ہمارے کھیل کا حصہ محسوس کر سکے۔ یہ آغاز سے ہی ایک رہنما اصول رہا ہے اور آج بھی ہمارے ہر اقدام کے مرکز میں موجود ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ٹیمیں اس بات کی پابند ہیں کہ ’انتخاب صرف کرکٹ کارکردگی، دستیابی اور ہر ٹیم کی ضروریات کی بنیاد پر کیا جائے گا۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ای سی بی نے کہا کہ امتیازی سلوک کے خلاف ’سخت کارروائی‘ کرنے کے لیے ضوابط موجود ہیں۔
مزید کہا گیا کہ ’کھلاڑیوں کو ان کی قومیت کی بنیاد پر خارج نہیں کیا جانا چاہیے۔‘
رپورٹ کے مطابق گورننگ باڈی نے اتوار کو آٹھوں ٹیموں کو ایک ای میل بھیجی، جس میں خبردار کیا گیا کہ اگر کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک کے شواہد ملے، جس میں قومیت کی بنیاد پر کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا جانا بھی شامل ہے، تو کارروائی کی جائے گی۔
آئندہ ماہ کی نیلامی کے لیے مجموعی طور پر 67 پاکستانی کھلاڑیوں، جن میں 63 مرد اور چار خواتین شام ہیں، نے خود کو پیش کیا ہے۔
انڈیا اور پاکستان کے درمیان دیرینہ جغرافیائی و سیاسی کشیدگی نے کئی برسوں سے کرکٹ پر اپنا سایہ ڈال رکھا ہے، جس کا سب سے بڑا مظاہرہ گذشتہ ایشیا کپ کے دوران ہوا، جب انڈین کپتان نے نہ صرف پاکستانی کپتان سے مصافحہ نہیں کیا، بلکہ ایشین کرکٹ کونسل کے سربراہ محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے بھی انکار کردیا، جو کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ بھی ہیں۔
رواں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھی پاکستان نے بنگلہ دیش کو ٹورنامنٹ سے آؤٹ کیے جانے پر انڈیا کے خلاف 15 فروری کو کھیلے جانے والے میچ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا، تاہم مصالحت کے بعد پاکستان نے کھیلنے کی ہامی بھر لی۔