میرا گرین لینڈ کا سفر دراصل 2018 میں اس وقت شروع ہوا جب میں نے کسی کو دوربین کی مدد سے اپنے گھر کے عقب سے سیارہ زحل کی تصویر لیتے دیکھا۔ اس نے رات کے آسمان کے لیے میرے جنون کو ہوا دی کیوںکہ بطور فوٹوگرافر میں زمین پر ایسی انوکھی جگہوں کو تلاش کرنا چاہتا تھا، جہاں واقعی تاریک آسمان پایا جاتا ہے۔
میں پہلے شمالی روشنیاں دیکھنے کے لیے فنش لیپ لینڈ گیا، لیکن میری اصل منزل ہمیشہ گرین لینڈ تھی۔ شمال میں دور برف سے ڈھکا وہ وسیع جزیرہ ایک ایسی جگہ کے طور پر نمایاں تھا جسے میں سب سے بڑھ کر جاننا چاہتا تھا، اس لیے ڈینش یا گرین لینڈک زبان نہ جاننے کے باوجود میں نے کئی ملازمتوں کے لیے درخواستیں بھیجیں۔ آخرکار مجھے مچھلی کی فیکٹری میں کام مل گیا، جسے میرے گھر والوں نے مضحکہ خیز پایا کیونکہ میں نے ہمیشہ مچھلی کو ناپسند کیا ہے۔
مجھے وانٹا (ہیلسنکی کے قریب شہر جہاں سے میرا تعلق ہے) چھوڑ کر زمین کے دور دراز ترین مقامات میں سے ایک کے چھوٹے دیہات میں رہتے ہوئے تقریباً تین سال ہو چکے ہیں۔ اس دوران ایک بستی سے دوسری بستی کے سفر اور کام کرتے ہوئے میں نے قدرے حیرت کے ساتھ دیکھا کہ یہ کم آبادی والی زمینیں اچانک عالمی سطح پر بحث کا موضوع بن گئی ہیں۔
جب صدر ٹرمپ نے پہلی بار کہا کہ وہ گرین لینڈ خریدنا چاہتے ہیں، تو میں نے بہت سے مقامی لوگوں سے پوچھا کہ وہ کیا سوچتے ہیں۔ میں نے ایک بھی شخص کو یہ کہتے نہیں سنا کہ یہ ایک اچھا خیال ہو گا، اور میں اب بھی انتظار کر رہا ہوں۔ جہاں تک صدر کی طرف سے ساحل کے نیچے دیکھنے اور ’ہر جگہ روسی اور چینی بحری جہاز‘ دیکھنے کے بارے میں سب سے حالیہ بیان کا تعلق ہے، یہاں عام ردعمل یہ ہے: ’ٹرمپ پھر سے بیہودہ باتیں کر رہے ہیں۔‘
لیکن پھر ٹرمپ کے سابق سینیئر مشیر سٹیون ملر کی اہلیہ کیٹی ملر نے امریکی پرچم میں لپٹے گرین لینڈ کی تصویر پوسٹ کی، جس کے ساتھ ’جلد‘ (Soon) جیسا خوفناک لفظ تھا اور اچانک سب کچھ قدرے سنجیدہ محسوس ہونے لگا۔ ایسے ہی تو گرین لینڈ کے لوگ اب سوشل میڈیا پر اپنے پرچم کے رنگوں میں گرین لینڈ کی تصاویر پوسٹ نہیں کر رہے۔
سچ تو یہ ہے کہ یہاں کی زندگی اس سے زیادہ مختلف نہیں ہو سکتی جس کے اوسط امریکی عادی ہیں۔ درحقیقت، یہ شاید اس سے بھی بدتر ہے جس کا وہ اپنے خوفناک خوابوں میں تصور کر سکتے ہیں۔
بڑے قصبوں کے باہر بہتے پانی کے نلکوں کی سہولت عملی طور پر موجود ہی نہیں ہے۔ اس کے بجائے اکثر قریبی جھیل اور ایک ایسی سہولت ہوتی ہے جو پانی کو ’واٹر ہاؤس‘ تک پمپ کرتی ہے، جہاں لوگ کنٹینرز بھر کر گھر لے جاتے ہیں اور ایک اجتماعی عمارت میں نہاتے ہیں۔ جہاں کوئی جھیل نہیں ہے، جیسے کہ نجاات کی چھوٹی بستی، وہاں رہائشی سردیوں میں آئس برگ (برفانی تودے) پگھلا کر پینے کا پانی جمع کرتے ہیں۔
تھیلوں کو بیت الخلا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، اور بھر جانے پر انہیں اکثر دوسرے کوڑے کے ساتھ ڈھیر کر دیا جاتا ہے۔ تاریخی طور پر جلانا فضلے کو ٹھکانے لگانے کا طریقہ تھا، لیکن ماحولیاتی خدشات کی وجہ سے اسے اب جہاز کے ذریعے ہٹایا جاتا ہے، جو دور دراز بستیوں میں کافی مسئلہ بن سکتا ہے، جہاں جہاز سال میں صرف ایک بار آتا ہے۔
اپریل 2023 سے میں گرین لینڈ بھر میں مچھلی کی سات مختلف فیکٹریوں میں کام کر چکا ہوں۔ پہلی جگہ جہاں میں رہا وہ مانیٹسوک تھا، جو 2500 لوگوں کا ایک قصبہ ہے جس میں چار کریانے کی دکانیں، کاریں اور ایک چھوٹا ہوائی اڈہ ہے۔ تاہم زیادہ تر وقت میں ایسی بستیوں میں رہا ہوں، جہاں آبادی دسیوں سے لے کر سینکڑوں تک ہے۔
ان بستیوں میں نرسیں نہیں ہیں۔ ہنگامی صورت حال میں، ایک نامزد شخص صورت حال کی تفصیل لکھتا ہے، قریبی ہیلتھ کیئر سینٹر سے رابطہ کرتا ہے اور اگر موسم اجازت دے تو ہیلی کاپٹر بھیجا جا سکتا ہے۔ دندان ساز عام طور پر ہر سال صرف چند دنوں کے لیے دورہ کرتا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بہت سے گھروں کو ڈیزل یا پیٹرولیم جلا کر گرم کیا جاتا ہے۔ پچھلے نئے سال پر، جب درجہ حرارت تقریباً منفی 37 ڈگری سیلسیئس تک گر گیا، میرے گھر کو گرم کرنے کے لیے صرف ایک چھوٹی سی آگ تھی کیونکہ پائپ گندگی سے بند ہو گئے تھے۔ گھر کے اندر کا درجہ حرارت تیزی سے نقطہ انجماد سے نیچے گر گیا اور میں نے رات مقامی چرچ میں سو کر گزاری۔
زیادہ تر بستیوں میں ایک چھوٹی سی گاؤں کی دکان ہوتی ہے جسے ’پیلرسویسوک‘ کہا جاتا ہے، جو ہر چیز کا تھوڑا بہت فروخت کرتی ہے: خوراک، کپڑے، ماہی گیری اور شکار کا سامان اور یہاں تک کہ رائفلیں۔ تازہ پھل اور سبزیاں کبھی مل جاتی ہیں اور کبھی نہیں۔ آپ جتنا شمال اور دور دراز جائیں گے، ان کے ملنے کا امکان اتنا ہی کم ہو گا، اور جب ملیں گی تو قیمتیں زیادہ ہوں گی۔ ایک کھیرے کی قیمت 36 ڈینش کرونر (تقریباً چھ امریکی ڈالر یا 1680 پاکستانی روپے) ہو سکتی ہے۔
جیسے جیسے سردیاں آتی ہیں، سال کا آخری جہاز دسمبر میں کئی جگہوں پر پہنچتا ہے۔ مقامی لوگ اس موقعے پر آتش بازی کرتے ہیں اور ’کوجاناق‘ کا نعرہ لگاتے ہیں اور عملے کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ وہ موسم کے لیے کھانا لائے ہیں۔ اگلا جہاز اکثر مئی تک نہیں آتا، جب سمندری برف پگھلتی ہے یعنی تقریباً نصف سال بعد، جب دوبارہ آتش بازی کی جائے گی۔ تب تک ہم منجمد سبزیوں پر گزارا کرتے ہیں۔
نوتارمیوٹ صرف 30 لوگوں کی ایک چھوٹی جزیرہ نما بستی ہے، جہاں میں نے کام کیا۔ یہاں کوئی دکان ہی نہیں تھی۔ سردیوں کے دوران، ہم خریداری کے لیے پڑوسی بستی تاسیساک تک سمندری برف پر 20 کلومیٹر کا سفر کرتے اور جتنا ممکن ہو سکے سامان سلیڈز (برف پر چلنے والی گاڑیاں) پر لادتے، لیکن جب یہاں سمندری برف پتلی ہو جاتی ہے، تو نوتارمیوٹ تک رسائی ناممکن ہو جاتی ہے، کیونکہ یہاں ہیلی کاپٹر کی سروس بھی نہیں ہے۔
ان چار مہینوں میں جو میں وہاں رہا، میں صرف دو بار دکان پر گیا۔ ایک بار میں 82 دن تک کسی دکان پر نہیں گیا۔ مچھلی کی فیکٹری کے فریزر میں ٹوسٹ کا ایک بڑا ڈبہ تھا اور میں اکثر ڈبے والا ہیم (گوشت) کھانے کے لیے ایک بیگ گھر لے جاتا تھا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ان فیکٹریوں میں ہم شاذ و نادر ہی وہ مچھلی کھاتے ہیں جو ہم تیار کرتے ہیں۔ اس کا زیادہ تر حصہ ڈنمارک جاتا ہے۔
ان کمیونٹیز کے لوگ اکثر گرم جوش اور خوش اخلاق ہوتے ہیں۔ وہاں ’کافیمک‘ کے نام سے اکثر تقریبات ہوتی ہیں، جہاں ہر کسی کو کھانے پینے اور وقت گزارنے کے لیے گھر مدعو کیا جاتا ہے۔ پچھلی سردیوں میں، میں نے ساویسیوک میں ایک دو سال کے بچے کی سالگرہ منائی۔ میں نے چھوٹے سے گھر کے اندر 36 لوگوں کو گنا اور کسی سے پوچھا: ’کیا گاؤں میں ہر کوئی یہاں ہے؟‘ اس نے ایک لمحے کے لیے ادھر ادھر دیکھا اور جواب دیا: ’چھ لوگ غائب ہیں۔‘
میں اکثر ایک مقامی شکاری اولنگواک کے ساتھ سلیڈ کتوں کا استعمال کرتے ہوئے سمندری برف پر شکار پر جاتا تھا۔ قطبی رات کے دوران، شکاری سیل پکڑنے کے لیے جال کا استعمال کرتے ہیں، کیونکہ رائفلوں کے ساتھ برف پر اندھیرے کی وجہ سے انہیں رائفل سے شکار نہیں کیا جا سکتا۔
جب ہم اس کی بیوی نادوک کے تیار کردہ چاولوں کے ساتھ سیل کھانے گھر واپس آئے، تو اس نے مجھے بتایا کہ انٹرنیٹ آنے سے پہلے بچے سیل کی ہڈیوں کو کھلونوں کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ انٹرنیٹ تک رسائی 2007 کے آس پاس ساویسیوک پہنچی، جس نے سیل کی ہڈیوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔
ساویسیوک آرکٹک سرکل کے شمال میں ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ دور واقع ہے۔ بہت سے مقامی انوگھوٹ لوگوں کو 1950 کی دہائی میں وہاں سے زبردستی منتقل کیا گیا تھا تاکہ (امریکی) تھولے ایئر بیس کے لیے راستہ بنایا جا سکے، جس کا نام بعد میں پٹوفک سپیس بیس رکھا گیا۔ لوگ اب بھی اپنی پرانی زمینوں کو یاد کرتے ہیں، جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہاں شکار کے بہتر مواقع تھے۔
ساویسیوک کے لیے اڑنے والے ہیلی کاپٹر اکثر امریکہ کے زیر انتظام پٹوفک سپیس بیس پر عارضی قیام کرتے ہیں، جس کے لیے خصوصی اجازت نامے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پٹوفک عملہ بستی کے لیے ہیلی کاپٹر کو تازہ پھلوں سے لادتا ہے اور گرین لینڈ کے اس شمالی ترین علاقے میں 16 سال سے کم عمر کے تمام بچوں میں کرسمس کے تحائف تقسیم کرتا ہے۔
آپ کو یہ بات عجیب لگے گی لیکن گرین لینڈ میں گزارے گئے وقت نے مجھے سکھایا ہے کہ مجھے شہروں میں پائی جانے والی زیادہ تر خدمات کی ضرورت نہیں ہے (وہ تمام چیزیں جو ہم خود کو بتاتے ہیں کہ ہم ان کے بغیر نہیں رہ سکتے)۔ مجھے جس چیز کی ضرورت ہے وہ ایک واضح مقصد ہے۔ میرے لیے، وہ مقصد یہاں کی زندگی کو دستاویزی شکل دینا رہا ہے: لوگ، وہ کیسے رہتے ہیں، وہ کہانیاں جو وہ سناتے ہیں اور وہ سبق جو وہ ہمیں سکھا سکتے ہیں۔
تین سال بعد بھی جب میں کسی نئی بستی میں پہنچتا ہوں تو پرجوش محسوس کرتا ہوں۔ مچھلی کی فیکٹریوں میں کام کرنے سے مجھے ان کمیونٹیز کو جاننے کا موقع ملا ہے جن تک دوسری صورت میں رسائی حاصل کرنا یا کسی بھی بامعنی طریقے سے جڑنا مشکل ہوتا۔ وہ مقامی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور زیادہ تر مقامات پر موجود ہیں۔
کام کے بغیر کسی بستی کا دورہ کرنا اکثر مشکل ہوتا ہے، اور رہائش تلاش کرنا کٹھن ہو سکتا ہے۔ میں نے لانڈری کے کمروں، ڈائننگ ہالز اور مقامی خاندانوں کے ساتھ رہتے ہوئے مہینوں گزارے ہیں۔ لیکن میں نے زندگی بھر کے لیے دوستیاں بنائی ہے۔ اس کرسمس پر، مجھے اپنے میزبان خاندان کی طرف سے قطبی ریچھ کی کھال سے بنے دستانے ملے اور ایک سال پہلے، مجھے تحفے کے طور پر قطبی ریچھ کے سر کی کھال ملی۔
بظاہر کسی 30 سالہ نوجوان کے لیے ایسی زندگی گزارنے کا تصور عجیب لگ سکتا ہے، لیکن چونکہ گرین لینڈ کی تقریباً ہر بستی میں انٹرنیٹ کام کرتا ہے، میں اپنے دوستوں کے ساتھ رابطہ رکھ سکتا ہوں، جو میں تقریباً روزانہ کرتا ہوں۔ اور یہ عجیب طور پر سماجی بھی ہے۔
زیادہ تر وقت جب میں کسی ایسی جگہ کا دورہ کرتا ہوں جہاں میں پہلے کبھی نہیں گیا، تب بھی میں وہاں کے کچھ لوگوں کو پہچان لیتا ہوں کیونکہ یہاں کی آبادی بہت کم ہے، اور ہر کوئی ایک دوسرے کو جانتا ہے۔ خاص طور پر شمال میں۔ میں سال میں کم از کم ایک بار گھر جاتا ہوں اور وہ خدمات استعمال کرتا ہوں جو مجھے گرین لینڈ کے ان چھوٹے دیہات میں نہیں مل سکتیں۔ بال کٹوانا ان میں سے ایک ہے۔
گرین لینڈ تقریباً 300 سالوں سے ڈنمارک کے دائرہ اختیار میں ہے۔ ہوم رول 1979 میں متعارف کرایا گیا تھا اور 2009 سے ریفرینڈم کے ذریعے گرین لینڈرز کے حق آزادی کو تسلیم کیا گیا ہے۔ اگرچہ ڈنمارک کے بارے میں جذبات عام طور پر امریکہ کی نسبت کم معاندانہ ہیں، لیکن یہاں بہت سے لوگ اس بات سے نالاں ہیں کہ انہیں کمتر سمجھا جاتا ہے۔
تاریخی غلطیوں کو فراموش نہیں کیا گیا، جس میں کئی دہائیوں پر محیط وہ پروگرام بھی شامل ہے جس میں ہزاروں گرین لینڈک انیوٹ لڑکیوں اور خواتین کو ڈینش ہیلتھ اتھارٹیز نے ان کے علم یا رضامندی کے بغیر مانع حمل آلات لگائے تھے۔ ڈنمارک نے 2025 میں اس تاریک باب کے لیے معافی مانگی۔
حالانکہ ڈنمارک تقریباً 46 کروڑ پاؤنڈ سالانہ کی گرانٹ کے ساتھ گرین لینڈ کی مالی امداد کرتا ہے، یہاں کے زیادہ تر لوگوں کو پھر بھی امید ہے کہ گرین لینڈ آخرکار آزاد ہو جائے گا۔
گرین لینڈ کے لوگ بڑے شہروں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے بہت سی بستیوں کو آبادی کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ یہ مکمل طور پر ممکن ہے کہ جن چھوٹی جگہوں میں، میں رہا ہوں ان میں سے کچھ آج موجود نہ ہوں۔
آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹی بستی اب کانگرلک ہے، جہاں صرف ایک خاندان رہتا ہے۔ اگر وہ وہاں سے چلے جاتے ہیں تو ممکنہ طور پر اسے بند کر دیا جائے گا۔ مجھے امید ہے کہ ایسا ہونے سے پہلے میں وہاں کا دورہ کروں گا، تاکہ اس کی خوبصورتی کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کرنے میں مدد ملے۔
امید ہے میں وہاں امریکیوں سے پہلے پہنچ جاؤں گا۔
© The Independent