امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش میں ’طاقت کے استعمال‘ کو تو مسترد کیا، تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ ’گرین لینڈ مکمل حق اور ملکیت کے ساتھ دیا جائے‘۔
سوئٹزرلینڈ میں منعقدہ ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ’لوگوں کو لگتا تھا کہ میں طاقت استعمال کروں گا، لیکن مجھے طاقت استعمال کرنے کی ضرورت نہیں۔ میں طاقت استعمال نہیں کرنا چاہتا۔ میں طاقت استعمال نہیں کروں گا۔‘
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’سخت لہجہ‘ اختیار کرتے ہوئے امریکہ کے یورپی اتحادیوں کو ’بدتمیزی، بے وفائی اور پالیسی کی غلطیوں‘ پر تنقید کا نشانہ بنایا۔
گرین لینڈ کے معاملے پر یورپ کو دی جانے والی ٹرمپ کی بڑھتی ہوئی دھمکیوں نے ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کو نقصان پہنچایا اور یورپی ممالک میں تشویش پیدا کی، جس کے باعث وہ خطاب بھی پس منظر میں چلا گیا جو بنیادی طور پر امریکی معیشت پر مرکوز ہونا تھا۔
یورپ کے آٹھ ممالک نے، جنہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کی مخالفت پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی تھی، اتوار کو اس اقدام کی شدید مذمت کی اور خبردار کیا کہ امریکی صدر کے یہ بیانات ’ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کو کمزور کرتے ہیں اور ایک خطرناک تنزلی کے عمل کو جنم دے سکتے ہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ڈیووس میں عالمی رہنماؤں سے خطاب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈنمارک کو ’ناشکرا‘ قرار دیتے ہوئے اس معاملے کو ایک ’چھوٹا سا مطالبہ‘ قرار دیا، اور گرین لینڈ کو محض ’برف کا ایک ٹکڑا‘ کہا۔
تاہم اپنے ایک گھنٹے سے زائد طویل خطاب میں امریکی صدر نے کئی مرتبہ غلطی سے گرین لینڈ کو آئس لینڈ کہا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کے حصول سے نیٹو اتحاد کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہو گا، حالانکہ نیٹو میں ڈنمارک اور امریکہ دونوں شامل ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ گرین لینڈ مکمل حق اور ملکیت کے ساتھ ہمیں دیا جائے، کیونکہ اس کا دفاع کرنے کے لیے ملکیت ضروری ہوتی ہے۔ آپ کسی جگہ کا دفاع لیز پر نہیں کر سکتے۔
’اول تو قانونی طور پر اس طریقے سے دفاع ممکن ہی نہیں، بالکل بھی نہیں، اور دوم، نفسیاتی طور پر کون ایسی چیز کا دفاع کرنا چاہے گا جو محض ایک لائسنس یا لیز معاہدہ ہو؟‘
ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’امریکہ کے سوا کوئی بھی ملک یا ممالک کا کوئی گروہ گرین لینڈ کو محفوظ بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔‘
ادھر روئٹرز کے مطابق نیٹو رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ گرین لینڈ سے متعلق ٹرمپ کی حکمتِ عملی اتحاد کو عدم استحکام سے دوچار کر سکتی ہے، جبکہ ڈنمارک اور گرین لینڈ کی قیادت نے اس سٹریٹجک جزیرے (جس کی آبادی تقریباً 57 ہزار ہے) پر امریکی موجودگی بڑھانے کے مختلف طریقے پیش کیے ہیں۔