گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کے بغیر دنیا محفوظ نہیں: ٹرمپ

امریکی صدر نے نارویجن وزیر اعظم کے نام اپنے پیغام میں ایک بار پھر ڈنمارک کی گرین لینڈ پر خودمختاری پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ڈنمارک اس سرزمین کو روس یا چین سے محفوظ نہیں رکھ سکتا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 16 جنوری 2026 کو فلوریڈا میں خطاب کرتے ہوئے (اینڈریو کابالیرو-رینالڈز / اے ایف پی)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نارویجن وزیر اعظم یوناس گاہر اسٹورے کے نام خط میں کہا ہے کہ گرین لینڈ پر کنٹرول کے بغیر دنیا محفوظ نہیں ہو سکتی اور نیٹو کو امریکا کے لیے کچھ کرنا چاہیے۔

روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے ناروے کے وزیر اعظم کو لکھے گئے ایک خط میں کہا کہ چونکہ انہیں نوبیل امن انعام نہیں دیا گیا، اس لیے وہ اب خود کو صرف امن کے بارے میں سوچنے کا پابند محسوس نہیں کرتے، اگرچہ امن ان کی ترجیح رہے گا، مگر وہ اب یہ بھی سوچ سکتے ہیں کہ امریکا کے لیے کیا ’درست اور مناسب‘ ہے۔

یہ خط ناروے کے وزیر اعظم اور فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب کی جانب سے بھیجے گئے اس پیغام کے جواب میں تھا جس میں انہوں نے گرین لینڈ پر کنٹرول کے حوالے سے امریکی مؤقف اور یورپی اتحادیوں پر ممکنہ ٹیرف کی مخالفت کی تھی، ساتھ ہی کشیدگی کم کرنے پر زور دیتے ہوئے ٹرمپ سے فون پر بات کرنے کی درخواست کی تھی۔

ٹرمپ نے اپنے پیغام میں ایک بار پھر ڈنمارک کی گرین لینڈ پر خودمختاری پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ڈنمارک اس سرزمین کو روس یا چین سے محفوظ نہیں رکھ سکتا اور یہ بھی پوچھا کہ اس کا اس پر ملکیتی حق آخر کس بنیاد پر ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گرین لینڈ پر کنٹرول کے بغیر دنیا محفوظ نہیں ہو سکتی اور نیٹو کو امریکا کے لیے کچھ کرنا چاہیے، کیونکہ ان کے بقول انہوں نے نیٹو کے قیام کے بعد سب سے زیادہ خدمات انجام دی ہیں۔

ناروے کے وزیر اعظم نے واضح کیا کہ نوبیل امن انعام ایک آزاد کمیٹی دیتی ہے اور اس میں ناروے کی حکومت کا کوئی کردار نہیں۔ دوسری جانب ڈنمارک کی جانب سے بھی یہ مؤقف دہرایا گیا ہے کہ گرین لینڈ کی خودمختاری تاریخی معاہدوں اور بین الاقوامی قانونی دستاویزات کے تحت ثابت ہے اور امریکا پہلے بھی اسے ڈنمارک کی سلطنت کا حصہ تسلیم کرتا رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یورپی یونین نے کہا ہے کہ گرین لینڈ کے معاملے پر امریکا کے ساتھ رابطے ہر سطح پر جاری ہیں اور واشنگٹن کی جانب سے ممکنہ تجارتی پابندیوں کے جواب کی تیاری بھی کی جا رہی ہے۔ برسلز میں یورپی کمیشن کے ترجمان اولوف گل نے پیر کو بتایا کہ یورپی یونین اپنے معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب آپشنز استعمال کرنے کے لیے تیار ہے، جن میں یونین کا ’اینٹی کوئرشن انسٹرومنٹ‘ بھی شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کی بنیادی ترجیح کشیدگی سے بچنا ہے، تاہم اگر ضرورت پڑی تو ردعمل ’سخت اور ذمہ دارانہ‘ ہو گا۔ ترجمان کے مطابق اینٹی کوئرشن انسٹرومنٹ کا بنیادی مقصد ہی دباؤ ڈالنے سے روکنا ہے اور صرف اس کے استعمال کا ذکر بھی مطلوبہ اثر پیدا کر سکتا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کے معاملے پر یورپی ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی ہے اور ناروے و فن لینڈ کے رہنماؤں سے اس حوالے سے شدید نوعیت کا خط و کتابت بھی سامنے آئی ہے۔

گرین لینڈ پر بڑھتی کشیدگی کے باعث بلوم برگ کے مطابق ڈنمارک کے اعلیٰ حکام نے ڈیووس میں ہونے والے عالمی اقتصادی فورم میں شرکت بھی منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ یورپی یونین اور امریکا کے درمیان اس حساس جغرافیائی اور سیاسی معاملے پر سفارتی رابطے تیز ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ