امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج ناروے کے وزیر اعظم کو بھیجے گئے ایک پیغام میں گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی اپنی خواہش کو نوبیل امن انعام سے جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ چونکہ انہیں یہ اعزاز نہیں دیا گیا، اس لیے وہ اب خود کو صرف امن کے بارے میں سوچنے کا پابند محسوس نہیں کرتے۔
ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ پر قبضے کی مہم اور یورپی ممالک کے خلاف تجارتی جنگ چھیڑنے کی دھمکیوں نے بحرِ اوقیانوس کے دونوں جانب تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا کر دی ہے، جسے ماہرین کئی دہائیوں میں پیدا ہونے والا سب سے بڑا ٹرانس اٹلانٹک بحران قرار دے رہے ہیں۔
ناروے اور دیگر یورپی رہنماؤں نے ٹرمپ کے اس مؤقف پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور خودمختاری کے اصولوں کے منافی قرار دیا ہے، جبکہ یورپی یونین نے بھی امریکا کے ساتھ سفارتی رابطے تیز کرتے ہوئے ممکنہ تجارتی اقدامات پر غور شروع کر دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نارویجن وزیر اعظم یوناس گاہر سٹورے کے نام خط میں کہا ہے کہ گرین لینڈ پر کنٹرول کے بغیر دنیا محفوظ نہیں ہو سکتی اور نیٹو کو امریکہ کے لیے کچھ کرنا چاہیے۔
یہ خط ناروے کے وزیر اعظم اور فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر سٹب کی جانب سے بھیجے گئے اس پیغام کے جواب میں تھا جس میں انہوں نے گرین لینڈ پر کنٹرول کے حوالے سے امریکی مؤقف اور یورپی اتحادیوں پر ممکنہ ٹیرف کی مخالفت کی تھی، ساتھ ہی کشیدگی کم کرنے پر زور دیتے ہوئے ٹرمپ سے فون پر بات کرنے کی درخواست کی تھی۔
ٹرمپ نے اپنے پیغام میں ایک بار پھر ڈنمارک کی گرین لینڈ پر خودمختاری پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ڈنمارک اس سرزمین کو روس یا چین سے محفوظ نہیں رکھ سکتا اور یہ بھی پوچھا کہ اس کا اس پر ملکیتی حق آخر کس بنیاد پر ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ گرین لینڈ پر کنٹرول کے بغیر دنیا محفوظ نہیں ہو سکتی اور نیٹو کو امریکہ کے لیے کچھ کرنا چاہیے، کیونکہ ان کے بقول انہوں نے نیٹو کے قیام کے بعد سب سے زیادہ خدمات انجام دی ہیں۔
ناروے کے وزیر اعظم نے واضح کیا کہ نوبیل امن انعام ایک آزاد کمیٹی دیتی ہے اور اس میں ناروے کی حکومت کا کوئی کردار نہیں۔
دوسری جانب ڈنمارک کی جانب سے بھی یہ مؤقف دہرایا گیا ہے کہ گرین لینڈ کی خودمختاری تاریخی معاہدوں اور بین الاقوامی قانونی دستاویزات کے تحت ثابت ہے اور امریکہ پہلے بھی اسے ڈنمارک کی سلطنت کا حصہ تسلیم کرتا رہا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یورپی یونین نے کہا ہے کہ گرین لینڈ کے معاملے پر امریکہ کے ساتھ رابطے ہر سطح پر جاری ہیں اور واشنگٹن کی جانب سے ممکنہ تجارتی پابندیوں کے جواب کی تیاری بھی کی جا رہی ہے۔
برسلز میں یورپی کمیشن کے ترجمان اولوف گل نے پیر کو بتایا کہ یورپی یونین اپنے معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب آپشنز استعمال کرنے کے لیے تیار ہے، جن میں یونین کا ’اینٹی کوئرشن انسٹرومنٹ‘ بھی شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کی بنیادی ترجیح کشیدگی سے بچنا ہے، تاہم اگر ضرورت پڑی تو ردعمل ’سخت اور ذمہ دارانہ‘ ہو گا۔
ترجمان کے مطابق اینٹی کوئرشن انسٹرومنٹ کا بنیادی مقصد ہی دباؤ ڈالنے سے روکنا ہے اور صرف اس کے استعمال کا ذکر بھی مطلوبہ اثر پیدا کر سکتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کے معاملے پر یورپی ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی ہے اور ناروے و فن لینڈ کے رہنماؤں سے اس حوالے سے شدید نوعیت کا خط و کتابت بھی سامنے آئی ہے۔
گرین لینڈ پر بڑھتی کشیدگی کے باعث بلوم برگ کے مطابق ڈنمارک کے اعلیٰ حکام نے ڈیووس میں ہونے والے عالمی اقتصادی فورم میں شرکت بھی منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ یورپی یونین اور امریکہ کے درمیان اس حساس جغرافیائی اور سیاسی معاملے پر سفارتی رابطے تیز ہو گئے ہیں۔