امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیوس میں جمعرات کو ’بورڈ آف پیس‘ کا باضابطہ آغاز کر دیا جس پر پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی دستخط کر دیے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس نئے بلاک کا مقصد ابتدا میں غزہ کی جنگ کے خاتمے میں مدد کرنا تھا تاہم اب ٹرمپ اسے وسیع تر عالمی کردار میں پیش کر رہے ہیں۔ یورپ اور بعض دیگر حلقوں کو خدشہ ہے کہ یہ نیا بلاک اقدام اقوام متحدہ کے مقابلے میں آ سکتا ہے یا اسے کمزور کر سکتا ہے۔
بورڈ کے آغاز کی تقریب سے خطاب میں ٹرمپ نے ان خدشات کی طرف بالواسطہ اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ نیا بورڈ اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔
صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا: ’یہ ایک بہت ہی اہم دن ہے، جس کی تیاری میں طویل وقت لگا۔ کئی ممالک کو اس کی اطلاع مل چکی ہے اور سب اس کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ ہم اقوام متحدہ سمیت بہت سے فریقوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔‘
ٹرمپ، جو خود اس بورڈ کی سربراہی کریں گے، نے درجنوں عالمی رہنماؤں کو شمولیت کی دعوت دی تھی۔ ان کے مطابق یہ فورم غزہ میں سست روی کا شکار جنگ بندی سے آگے بڑھ کر دیگر عالمی مسائل سے بھی نمٹے گا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس کا مقصد اقوام متحدہ کی جگہ لینا نہیں۔
یورپی ممالک سمیت کچھ روایتی امریکی اتحادی بورڈ میں شامل ہونے سے گریزاں ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق مستقل ارکان کو ایک ارب ڈالر فی کس فنڈ دینا ہوگا، جس پر بعض ممالک نے محتاط ردعمل دیا یا دعوت مسترد کر دی۔
تقریب میں شہباز شریف سمیت کئی عالمی رہنما موجود تھے تاہم بڑی عالمی طاقتوں یا اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے نمائندے فوری طور پر نظر نہیں آئے۔
عالمی کردار
امریکہ کے علاوہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دیگر مستقل ارکان میں سے کسی نے بھی تاحال شمولیت کی تصدیق نہیں کی۔ روس نے بدھ کو کہا کہ وہ اس تجویز کا جائزہ لے رہا ہے، فرانس نے اس میں شرکت سے انکار کر دیا، برطانیہ نے کہا ہے کہ فی الحال شامل نہیں ہو رہا جبکہ چین نے ابھی موقف واضح نہیں کیا۔
بورڈ کے قیام کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کے ذریعے ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے حصے کے طور پر کی گئی تھی۔ اقوام متحدہ کے ترجمان رولانڈو گومیز نے کہا کہ یو این کی شمولیت اسی تناظر تک محدود ہوگی۔
اس کے باوجود سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر، ترکی اور بیلاروس سمیت تقریباً 35 ممالک نے شمولیت پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ بورڈ میں شامل ہونے والے بیشتر ممالک جمہوری نہیں، تاہم اسرائیل اور ہنگری نے بھی شمولیت کا اعلان کیا ہے، جن کے رہنماؤں کو ٹرمپ کے قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے۔
دستخط کی تقریب ڈیوس میں منعقد ہوئی، جہاں عالمی اقتصادی فورم جاری ہے۔
غزہ میں فائر بندی
بورڈ کے چارٹر کے مطابق اسے دنیا بھر میں امن کے فروغ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ٹرمپ نے کئی سینیئر امریکی حکام کے علاوہ سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کو بھی اس میں شامل کرنے کا اعلان کیا، جو ڈیوس میں موجود تھے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اکتوبر میں طے پانے والی غزہ فائر بندی کئی ماہ سے مشکلات کا شکار ہے، جہاں اسرائیل اور حماس ایک دوسرے پر ؎ وقفے وقفے سے اس کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے رہے ہیں۔
؎اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس نے یرغمالی کی آخری لاش کی واپسی میں تاخیر کی، جبکہ حماس کے مطابق اسرائیل نے جاری انسانی بحران کے باوجود غزہ میں امداد کی آمد محدود رکھی۔ دونوں جانب سے الزامات مسترد کیے جاتے ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کے دفتر کے مطابق انہوں نے بورڈ میں شمولیت کی ٹرمپ کی دعوت قبول کر لی ہے۔ فلسطینی دھڑوں نے بھی ٹرمپ کے منصوبے کی تائید کی ہے اور غزہ کی عبوری انتظامیہ کے لیے مجوزہ فلسطینی کمیٹی کی حمایت کی ہے، جو بورڈ کی نگرانی میں کام کرے گی۔
ٹرمپ نے غزہ کے حوالے سے ہمیشہ جارحانہ بیانات دیے ہیں اور فائر بندی کو ’مشرق وسطیٰ میں امن‘ قرار دیا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق اگلے مرحلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ مسائل درپیش ہوں گے، جن میں حماس کی اسلحہ بندی کا خاتمہ، غزہ میں سکیورٹی کنٹرول اور اسرائیلی انخلا شامل ہیں۔