احتجاج پر اکسانے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں: ایرانی جوڈیشل چیف

جوڈیشل چیف غلام حسین محسنی ایجی کا کہنا ہے کہ ’عوام فسادات، دہشت گردی اور تشدد کے ملزمان اور اکسانے والوں کے خلاف مقدمہ چلانے اور قصور واروں کو سزا کا مطالبہ کرتی ہے۔

24 جنوری 2026 کو ایرانی حکومت مخالف مظاہرین وسطی لندن میں ایرانی سفارت خانے کے باہر احتجاج کے دوران ایرانی پرچم لہرا رہے ہیں (بروک مچل / اے ایف پی)

ایران کی عدلیہ کے سربراہ نے اتوار کو خبردار کیا ہے کہ حکومت مخالف مظاہروں کی حالیہ لہر کے پیچھے ملوث لوگ ’بغیر معمولی نرمی‘ کے سزا کی توقع کر سکتے ہیں۔

اس ماہ کے شروع میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے ایک وسیع تر احتجاجی تحریک میں شروع ہوئے جو برسوں میں اسلامی جمہوری حکومت کے لیے سب سے بڑے چیلنج ثابت ہوا۔ 

حکومتی کریک ڈاؤن کے بعد مظاہرے ختم ہو گئے ہیں، جو کہ انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے ذریعے ممکن ہو سکا، جس نے ملک کو بیرونی دنیا سے بڑی حد تک کاٹ کر رکھ دیا تھا۔

سرکاری آن لائن نیوز پورٹل میزان نے جوڈیشل چیف غلام حسین محسنی ایجی کے حوالے سے رپورٹ کی کہ ’عوام بجا طور پر مطالبہ کرتے ہیں کہ فسادات اور دہشت گردی اور تشدد کی کارروائیوں کے ملزمان اور اصل اکسانے والوں کے خلاف جلد از جلد مقدمہ چلایا جائے اور قصور وار ثابت ہونے پر سزا دی جائے۔‘ 

انہوں نے کہا کہ ’تحقیقات میں سب سے بڑی سختی کا اطلاق کیا جانا چاہیے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’انصاف میں ان مجرموں کو بغیر کسی رعایت کے فیصلہ کرنا اور سزا دینا شامل ہے جنہوں نے ہتھیار اٹھائے اور لوگوں کو قتل کیا، یا آتش زنی، تباہی اور قتل عام کیا۔‘

ایرانی حکومت نے احتجاجی مظاہروں میں مرنے والوں کی تعداد 3117 بتائی ہے، جن میں 2427 لوگ شامل ہیں جنہیں اس نے ’شہید‘ کہا، جو حکام کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے اکسائے گئے ’فسادات‘ کے نتیجے میں جان سے گئے۔

تاہم حقوق گروپوں نے کہا ہے کہ مرنے والوں میں مظاہرین کی اکثریت ہے، جن میں کئی ہزار اموات کو ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ ناروے میں قائم این جی او ایران ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ اموات کے حتمی اعداد و شمار 25000 سے زیادہ ہو سکتے ہیں۔

’اگر ایسا ہوا‘

امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹویسٹ نیوز ایجنسی نے کہا ہے کہ مظاہروں کے سلسلے میں 26000 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ایران چین کے بعد سزائے موت کو دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ استعمال کرنے والا ملک ہے، اور گرفتاریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور سخت سزاؤں کے وعدوں نے یہ خدشہ پیدا کر دیا ہے کہ وہ اختلاف کو دبانے کے لیے پھانسی کا استعمال کر سکتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے احتجاجی مشتبہ افراد کو موت کے گھاٹ اتارنا شروع کیا تو وہ فوجی مداخلت کریں گے، لیکن حال ہی میں تہران کی جانب سے سزاؤں کو معطل کرنے کے دعوے کے بعد اس نے اپنے موقف کو نرم کر دیا ہے۔

جمعرات کو صدر ٹرمپ نے ڈیووس سے واپسی پر صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ بہر حال ایران کی طرف ’بڑے پیمانے پر بحری بیڑہ‘ بھیج رہا ہے۔

امریکہ نے جون میں ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کیے جب اس نے اسلامی جمہوریہ کے خلاف اسرائیل کی 12 روزہ جنگ میں مختصر طور پر شمولیت اختیار کی۔

حقوق کے گروپوں نے حکام پر مظاہرین پر بار بار گولہ بارود کا استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے، لیکن ایران کی خصوصی پولیس کے کمانڈر کرنل مہدی شریف کاظمی نے کہا کہ حکام نے بدامنی پر قابو پانے کے لیے واٹر کینن جیسے غیر مہلک اقدامات کا استعمال کیا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے اتوار کو کرنل مہدی کے حوالے سے بتایا کہ ’اس آپریشن کے دوران (پولیس کی طرف سے) ہتھیاروں کے استعمال پر کچھ تنقید ہوئی، لیکن درحقیقت، پولیس نے کسی بھی آتشیں اسلحے کا استعمال نہیں کیا۔

’ہم نے غیر مہلک ذرائع استعمال کیے تاکہ آبادی کی حفاظت کی ضمانت دی جا سکے اور کسی بھی قسم کی ہلاکتوں سے بچا جا سکے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا