امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کا تعاقب بند کرنے کی ضرورت ہے اور خبردار کیا کہ ایسی کوششیں بند نا ہونے کی صورت میں مستقبل میں ممکنہ کارروائی کی جائے گی۔
امریکی ٹی وی چینل سی این بی سی کے ساتھ انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’لہذا ہم یہ معلوم کرنے جا رہے ہیں کہ وہ اب کہاں ہیں اور وہ جوہری سرگرمیوں کے ساتھ کیا کرنے جا رہے ہیں۔ وہ جوہری سرگرمیاں انجام نہیں دے سکتے۔‘
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’انہیں جوہری سرگرمیاں روکنا ہوں گی۔‘
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ماضی میں امریکا کی کارروائی نے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روک دیا، اگر امریکا نے ایران کے ایٹمی نظام کو نشانہ نہ بنایا ہوتا تو ایران دو ماہ کے اندر جوہری ہتھیار حاصل کر لیتا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش ترک کرنا چاہیے، انہوں نے ساتھ ہی امید ظاہر کی کہ ایران کے خلاف مزید کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران میں سڑکوں پر اندھا دھند لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا تھا لیکن ان کی جانب سے فوجی کارروائی کی دھمکی کے بعد ایرانی حکام نے سینکڑوں افراد کو پھانسی دینے کا ارادہ ترک کردیا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے گذشتہ ہفتے ممکنہ فوجی کارروائی کے بارے میں قوم کو خبردار کرنے کے بعد مظاہرین کو مارنا بند کر دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ’وہ (ایران) جمعرات کو 837 لوگوں کو پھانسی دینے والے تھے۔
’میں نے ان سے کہا، آپ ایسا نہیں کر سکتے۔‘
امریکی صدر نے امیر ظاہر کی کہ مزید کارروائی نہیں ہو گی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’وہ لوگوں کو سڑکوں پر اندھا دھند گولی مار رہے تھے۔‘
گرین لینڈ
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے بدھ کو اتحادی ڈنمارک کی جانب سے گرین لینڈ پر زبردستی قبضے کی دھمکیوں پر پیچھے ہٹتے ہوئے آرکٹک علاقے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ایک مبہم معاہدے کا اعلان کیا۔
ٹرمپ نے اپنی پسپائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈنمارک کو لاحق خطرات کے خلاف بولنے والے یورپی ممالک کے خلاف پابندیوں کے وعدے کو بھی اٹھاتے ہوئے ایک جیت کے طور پر کہا کہ اس معاہدے سے واشنگٹن کو وہ سب کچھ ملتا ہے جو ہم چاہتے تھے۔
انہوں نے ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم میں صحافیوں کو بتایا کہ اس معاہدے پر نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے کے ساتھ بات چیت کی گئی تھی اور یہ ’ہمیشہ‘ رہے گا۔
’میرے خیال میں یہ ہر ایک کو واقعی اچھی پوزیشن میں رکھتا ہے، خاص طور پر جیسا کہ اس کا تعلق سکیورٹی، معدنیات اور ہر چیز سے ہے۔‘
صدر ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ وہ ڈنمارک اور دیگر یورپی اتحادیوں کے خلاف 25 فیصد تک کے ٹیرف کو ختم کر دیں گے جنہوں نے برطانیہ، فرانس اور جرمنی سمیت یک جہتی کے لیے گرین لینڈ میں فوج بھیجی ہے۔