امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے ایرانی حکومت کا شکریہ ادا کیا ہے کہ اس نے ان پھانسیوں پر عمل درآمد نہیں کیا، جو ان کے بقول سینکڑوں سیاسی قیدیوں کو دی جانی تھیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے فلوریڈا کے پام بیچ میں اپنی مار اے لاگو سٹیٹ میں ویک اینڈ گزارنے کے لیے روانہ ہوتے وقت صحافیوں کو بتایا کہ ’ایران نے 800 سے زائد لوگوں کی پھانسی منسوخ کر دی ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس اقدام کا ’بہت احترام کرتے ہیں۔‘
گذشتہ ہفتے ایران کی تاریخ کے چند سب سے بڑے حکومت مخالف مظاہروں نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اگرچہ واشنگٹن ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے پیچھے ہٹ گیا ہے، تاہم وائٹ ہاؤس نے جمعرات کو کہا تھا کہ ’صدر کے لیے تمام آپشنز بدستور موجود ہیں‘۔
روئٹرز کے مطابق ایک صحافی نے ٹرمپ سے سوال کیا کہ ’کیا عرب اور اسرائیلی حکام نے آپ کو ایران پر حملہ نہ کرنے کے لیے قائل کیا؟‘
جس پر انہوں نے جواب دیا کہ کسی نے انہیں ایران پر حملہ نہ کرنے کے لیے قائل نہیں کیا۔ بقول ٹرمپ: ’کسی نے مجھے قائل نہیں کیا، میں نے خود اپنے آپ کو قائل کیا۔‘
اس رویے سے ٹرمپ کے ان حالیہ اور بار بار دیے گئے ان بیانات سے پیچھے ہٹنے کا اشارہ ملتا ہے کہ اگر ایرانی حکومت نے ملک گیر مظاہروں کے دوران بڑے پیمانے پر قتل عام شروع کیا تو امریکہ ایران پر فوجی حملہ کر سکتا ہے، تاہم اب یہ مظاہرے تھم گئے ہیں۔
گذشتہ دو روز کے دوران امریکہ کے مشرق وسطیٰ کے کئی اتحادیوں نے ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیا تھا کہ وہ حملے سے باز رہے، کیوں کہ انہیں خدشہ تھا کہ اس طرح کی کارروائی سے پہلے سے پرآشوب خطے کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت بھی غیر مستحکم ہو جائے گی۔