نتن یاہو، عرب ممالک نے ٹرمپ سے ایران پر حملہ ملتوی کرنے کو کہا: نیویارک ٹائمز

ایک سینیئر امریکی اہلکار نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے صدر ٹرمپ کو ایران پر فوجی حملے کے کسی بھی منصوبے کو ملتوی کرنے کا کہا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو مصافحہ کر رہے ہیں جب وہ 29 دسمبر 2025 کو فلوریڈا کے پام بیچ میں ٹرمپ کی مار-اے-لاگو رہائش گاہ پر ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں سے بات کرنے پہنچ رہے ہیں (اے ایف پی)

امریکہ کی حکومت کے ایک سینیئر اہلکار نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو جمعرات کو بتایا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر فوجی حملے کے کسی بھی منصوبے کو ملتوی کرنے کا کہا تھا۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق نتن یاہو نے بدھ کو صدر ٹرمپ سے ٹیلیفون پر بات کی اور اسی دن امریکی صدر نے کہا کہ انہیں ’دوسری طرف سے انتہائی اہم ذرائع‘ سے اطلاع ملی ہے کہ ایران نے مظاہرین کو مارنا بند کر دیا ہے اور وہ پھانسی کے عمل کو آگے نہیں بڑھا رہا۔ 

اس سے ظاہر ہوا کہ صدر ٹرمپ ایران پر ممکنہ امریکی حملے سے پیچھے ہٹ رہے ہیں، جس پر وہ کئی دنوں سے غور کر رہے تھے۔

ایران میں گذشتہ سال دسمبر کے آخر میں دارالحکومت تہران میں مہنگائی کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے پورے ملک میں پھیل گئے، جو دہائیوں کے دوران ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں میں سب سے بڑے تھے۔

ان مظاہروں میں ہزاروں کی تعداد میں انسانی جانیں ضائع ہوئیں، جبکہ ایرانی حکومت نے مبینہ طور پر مظاہرین میں سے کچھ کو پھانسیاں دینے کا منصوبہ بھی بنایا۔

صدر ٹرمپ نے تین روز قبل ایران میں مظاہرین کی مدد کرنے کا عندیہ دیا اور بعدازاں کہا کہ مزید اموات یا پھانسیوں کی صورت امریکہ مظاہرین کی مدد کرے گا۔ تاہم بدھ کو ان کے رویے میں نرمی دیکھنے کو ملی جب انہوں نے کہا کہ ایرانی حکام نے مظاہرین کو مارنا بند کر دیا ہے اور پھانسیاں بھی نہیں دی جا رہیں۔

ایک سینیئر امریکی اہلکار نے بدھ کی رات نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ صدر ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ان کے کمانڈروں کے پیش کردہ فوجی آپشنز کو ایک طرف نہیں رکھا تھا اور یہ کہ آیا انہوں نے حملے کا حکم دیا تھا اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ ایرانی سکیورٹی ایجنسیاں عوامی احتجاج کے سلسلے میں آگے کیا کرتی ہیں۔

خلیجی عرب ملک کے ایک اہلکار نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ قطر، سعودی عرب، عمان اور مصر بھی ٹرمپ انتظامیہ سے ایران پر حملہ نہ کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ 

اہلکار نے کہا کہ ان ممالک کے سینیئر حکام گذشتہ دو روز سے اس پیغام کے ساتھ امریکی حکام کو فون کر رہے ہیں۔ 

انہوں نے امریکیوں کو بتایا ہے کہ امریکی حملہ ایک وسیع علاقائی تنازع کا باعث بن سکتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اہلکار نے کہا کہ اسی وقت، وہ عرب ممالک ایرانی حکام سے کہہ رہے ہیں کہ اگر امریکہ ایران پر حملہ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو وہ خطے کے ممالک پر حملہ نہ کریں۔ 

عہدیدار نے کہا کہ چار ممالک واشنگٹن اور تہران دونوں کو اپنے پیغام رسانی کو مربوط کر رہے ہیں۔ 

امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق خطے کے دو سفارت کاروں نے یہ بھی کہا کہ کئی عرب ممالک نے ٹرمپ انتظامیہ پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ ایران پر حملہ نہ کرے۔

امریکی حکام نے بتایا کہ مسٹر نتن یاہو نے منگل کو نائب صدر جے ڈی وینس سے بھی بات کی اور اسی دن جب صدر ٹرمپ کے اعلیٰ معاونین نے فوجی اختیارات کا جائزہ لینے کے لیے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے جمعرات کو اس مضمون کے شائع ہونے کے بعد کہا کہ صدر ٹرمپ نے نتن یاہو سے بات کی ہے، لیکن انہوں نے تفصیلات بتانے سے انکار کیا۔ 

نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے بھی تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

دو اسرائیلی حکام نے امریکی اخبار کو بتایا کہ اسرائیلی دفاعی حکام نے اندازہ لگایا ہے کہ ایران میں مظاہرین کی ہلاکتوں کی شرح میں کمی آئی ہے۔ 

’اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ حکومت کے مہلک کریک ڈاؤن اور ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس کی بندش کے نتیجے میں اتوار کے بعد سے چھوٹے مظاہرے ہوئے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا