ایران میں مظاہرین کو پھانسی دی گئی تو’بہت سخت کارروائی‘ ہو گی: ٹرمپ

انسانی حقوق کے ایک گروپ کے مطابق ایران میں جاری مظاہروں میں اموات کی تعداد 2000 ہو گئی ہے۔

13 جنوری 2026 کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیو سے لی گئی اس تصویر میں 10 جنوری 2026 کو شمال مشرقی ایران میں مشہد میں جھڑپوں کا ایک منظر دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو خبردار کیا کہ اگر ایرانی حکام نے مظاہرین کو پھانسی کی دھمکیوں پر عمل کیا تو غیر متعینہ ’انتہائی سخت کارروائی‘ کی جائے گی، جبکہ تہران نے امریکی انتباہ کو ’فوجی مداخلت کا بہانہ‘ قرار دیا ہے۔

ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن پر بین الاقوامی غم و غصہ پیدا ہوا ہے جس کے بارے میں انسانی حقوق کے ایک گروپ نے کہا ہے کہ ممکنہ طور پر مظاہروں کے دوران اموات کی تعداد 2000 تک پہنچ چکی ہے جو ایران کی  قیادت کے لیے اب تک کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ 

ایک ایرانی عہدیدار نے منگل کو برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز سے گفتگو میں کہا کہ ملک میں جاری شدید احتجاج اور سکیورٹی کریک ڈاؤن کے دوران اب تک تقریباً 2000 افراد جان سے جا چکے ہیں جن میں سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، ایران کے اقوام متحدہ کے مشن نے ایکس پر ایک بیان میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ واشنگٹن کی ’پلے بک‘ ’دوبارہ ناکام‘ ہو جائے گی۔

پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ’ایران کے بارے میں امریکی تصورات اور پالیسی کی جڑیں حکومت کی تبدیلی میں ہیں، جس میں پابندیاں، دھمکیاں، انجینئرڈ بدامنی اور افراتفری فوجی مداخلت کا بہانہ بنانے کا طریقہ کار ہے۔‘

ایرانی حکام کا اصرار ہے کہ انہوں نے جمعرات سے ملک بھر میں مسلسل بڑے پیمانے پر مظاہروں کے بعد ملک کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔

انسانی حقوق کے گروپوں نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ مظاہرین کو گولی مار کر جان سے مار رہی ہے اور انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے ساتھ کریک ڈاؤن کے پیمانے کو چھپا رہی ہے۔

ٹرمپ، جنہوں نے پہلے ایران میں مظاہرین سے کہا تھا کہ ’مدد جاری ہے‘ نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ اگر ایران نے مظاہرین کو پھانسی دینا شروع کی تو امریکہ کارروائی کرے گا۔

تہران کے مظاہرین نے کہا کہ ایرانی حکام حالیہ مظاہروں کے دوران گرفتار کیے گئے کچھ مشتبہ افراد کے خلاف ’خدا کے خلاف جنگ‘ جیسے بڑے الزامات عائد کریں گے۔

امریکی صدر نے کہا ’اگر وہ ایسا کریں گے تو ہم بہت سخت کارروائی کریں گے۔  

سوشل میڈیا پر نئی ویڈیوز، جن میں اے ایف پی کے ذریعے تصدیق شدہ مقامات ہیں، میں دکھایا گیا ہے کہ ایرانی دارالحکومت کے بالکل جنوب میں کہریزک مردہ خانے میں لاشوں کو قطار میں رکھا کیا گیا ہے، لاشیں سیاہ تھیلوں میں لپٹی ہوئی ہیں اور پریشان حال رشتہ دار اپنے پیاروں کی تلاش کر رہے ہیں۔

اے ایف پی کے ایک صحافی کے مطابق، بین الاقوامی فون لنکس منگل کو بحال کیے گئے تھے، لیکن صرف آؤٹ گوئنگ کالز کے لیے لیکن رابطے بہت اچھے نہیں تھے۔  

اس سے قبل منگل کو ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر ایرانیوں سے ’احتجاج کرتے رہنے‘ پر زور دیتے ہوئے لکھا: ’میں نے ایرانی حکام کے ساتھ تمام ملاقاتیں اس وقت تک منسوخ کر دی ہیں جب تک کہ مظاہرین کا بے ہودہ قتل بند نہیں ہو جاتا۔ مدد جاری ہے۔‘

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وہ کن ملاقاتوں کا ذکر کر رہے تھے یا مدد کی نوعیت کیا ہو گی۔

بڑھتی ہوئی اموات

یورپی ممالک نے بھی کریک ڈاؤن پر اپنے غصے کا اظہار کیا۔ فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے علاوہ یورپی یونین نے بھی ممالک ایرانی سفیروں کو طلب کر اپنی تشویش سے آگاہ کیا۔

یورپی یونین کی سربراہ ارسولا وان ڈیر لیین نے ذمہ داروں کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے کا عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ایران میں ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد خوفناک ہے۔‘

ناروے میں قائم این جی او ایران ہیومن رائٹس (آئی ایچ آر) کے ڈائریکٹر محمود امیری مغداد نے کہا کہ ’ہم جو اعداد و شمار شائع کرتے ہیں وہ ملک کے نصف سے کم صوبوں اور ایران کے 10 فیصد سے کم ہسپتالوں سے موصول ہونے والی معلومات پر مبنی ہیں۔ مرنے ہونے والوں کی اصل تعداد ہزاروں میں ہونے کا امکان ہے۔‘

ایران کے سرکاری میڈیا نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے درجنوں ارکان جان سے گئے، جن کے جنازے حکومت کی حامی بڑی ریلیوں میں بدل گئے۔

تہران میں حکام نے حالیہ دنوں کے ’شہدا‘ کے لیے بدھ کو دارالحکومت میں اجتماعی جنازے کی تقریب کا اعلان کیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سنگین چیلنج 

حکومت کی حمایت میں ریلیوں کی کال پر پیر کو ہزاروں افراد باہر نکلے اور حکومت کے حق میں نکلنے والے ان افراد کو ایران سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے سراہا۔ ایرانی حکومت کا موقف ہے کہ ملک میں مظاہروں کے پیچھے بیرونی مداخلت ہے۔

1989 سے اقتدار میں اور اب 86 سال کی عمر میں، خامنہ ای کو اہم چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا۔ حال ہی میں اسرائیل کے خلاف جون میں 12 روزہ جنگ ہوئی، جس کے نتیجے میں اعلیٰ سیکورٹی اہلکار مارے گئے اور انہیں روپوش ہونا پڑا۔  

تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ ملک رائج اس نظام کے فوری خاتمے کی پیشین گوئی کرنا قبل از وقت ہے۔

پیرس میں سائنسز پو سینٹر فار انٹرنیشنل سٹڈیز کے پروفیسر نکول گریجوسکی نے اے ایف پی کو بتایا، ’یہ مظاہرے اسلامی جمہوریہ کے لیے برسوں میں سب سے سنگین چیلنج ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ یہ احتجاج ایرانی کی موجودہ قیادت کو ہٹا پائے گے یا نہیں۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا