وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات نے سوشل میڈیا پر پھیلنے والے ان دعوؤں کی سوموار کو سخت تردید کی ہے جن کے مطابق امریکہ نے ایران پر ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے پاکستان کی سرزمین یا فضائی حدود کو استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔
وزارت نے ان اطلاعات کو جھوٹا، گمراہ کن اور دانستہ طور پر پھیلائی گئی ’جعلی معلومات‘ قرار دیا ہے۔
پاکستان کی یہ وضاحت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران میں بڑے پیمانے پر حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف مہلک کریک ڈاؤن کے پیش نظر ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں۔
ایران میں ایرانی ریال کی گرتی ہوئی قیمت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی بحران کے خلاف احتجاج کے تازہ سلسلے کا آغاز 28 دسمبر 2025 سے ہوا اور دارالحکومت تہران سے تاجروں اور دکان داروں کے مظاہروں کا دائرہ دوسرے شہروں تک پھیل گیا۔
پاکستان کے سرکاری فیکٹ چیک پلیٹ فارم کے مطابق پاکستان کی سرزمین کو ممکنہ امریکی حملے میں استعمال کرنے کا بیانیہ بنیادی طور پر افغانستان اور انڈیا سے چلنے والے تین مخصوص سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے شروع ہوا جنہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکی فضائیہ نے ریفیولنگ اور نگرانی کرنے والے طیاروں کو پاکستان میں تعینات کر دیا ہے اور یہ مبینہ طور پر ایران کی جانب غیر معمولی پروازیں کر رہے ہیں۔
Fact Check | Ministry of Information & Broadcasting
— Fact Checker MoIB (@FactCheckerMoIB) January 12, 2026
CLAIM
Propaganda machineries Afghanistan and Indian X accounts (@KHoorasanM_U1, @RealBababanaras, @AFGDefense) falsely claims that the United States has moved aerial refuelling (KC-135R) and surveillance aircraft to… pic.twitter.com/2wGeABZm2i
ان اکاؤنٹس پر یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ امریکی طیارے دالبندین اور پسنی کے ایئربیسز پر لینڈ کر رہے ہیں اور پاکستان امریکہ کے اسٹیلتھ جنگی طیاروں کے لیے لانچ کوریڈور فراہم کر رہا ہے۔
وزارت اطلاعات کے مطابق ان تمام دعوؤں کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ نہ پاکستان میں امریکی ایریل ریفیولنگ طیاروں کی موجودگی کی کوئی مصدقہ شہادت ملی ہے اور نہ ہی کسی بین الاقوامی یا مقامی دفاعی ادارے نے اس حوالے سے کوئی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزارت کا کہنا ہے کہ نہ کسی معتبر عالمی خبررساں ادارے نے ایسی سرگرمی کی رپورٹ دی، نہ کسی قابل بھروسہ انٹیلی جنس یا دفاعی پلیٹ فارم نے اسے تسلیم کیا اور نہ ہی پاکستانی حکام کو کسی ایسی نقل و حرکت کی معلومات ہیں۔
وزارت کے مطابق یہ دعوے حقائق کے برعکس ہیں اور ان کا مقصد پاکستان کو بلاوجہ ایک حساس علاقائی تناؤ میں گھسیٹنا ہے۔
وزارت اطلاعات نے واضح کیا کہ جس امریکی فضائی سرگرمی کی بنیاد پر سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں، وہ پاکستان سے متعلق نہیں بلکہ یورپ سے جڑی ہوئی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں، جن میں روئٹرز اور واشنگٹن پوسٹ شامل ہیں، نے رپورٹ کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے بعد امریکہ نے بڑی تعداد میں اپنے ریفیولنگ ائیرکرافٹ پاکستان کی بجائے یورپی اڈوں پر منتقل کیے اور ان کی تعیناتی خطے میں بدلتی صورت حال کے پیش نظر اپنی عسکری پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کا حصہ تھی۔
وزارت اطلاعات نے اپنے فیکٹ چیک کے اختتام پر کہا کہ سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ بیانیہ نہ صرف جھوٹ پر مبنی ہے بلکہ خطرناک بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے پاکستان کو ایک ایسے تنازع میں ملوث کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ وزارت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ حساس عسکری اور سفارتی معاملات سے متعلق کسی بھی غیر مصدقہ خبر کو شیئر کرنے سے گریز کریں اور متعلقہ معلومات صرف سرکاری ذرائع یا معتبر خبر رساں اداروں سے حاصل کریں۔