امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ وہ ایران میں بڑے پیمانے پر حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف جان لیوا کریک ڈاؤن کی بڑھتی ہوئی اطلاعات کے پیش نظر ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں۔
ایران میں ایرانی ریال کی گرتی ہوئی قیمت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی بحران کے خلاف احتجاج کے تازہ سلسلے کا آغاز 28 دسمبر 2025 سے ہوا اور دارالحکومت تہران سے تاجروں اور دکان داروں کے مظاہروں کا دائرہ دوسرے شہروں تک پھیل گیا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایئر فورس ون میں موجود صحافیوں نے ان سے پوچھا کہ کیا ایران نے مظاہرین کے مارے جانے سے متعلق ان کی پہلے سے بیان کردہ ریڈ لائن عبور کر لی ہے؟ تو امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’’ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے (ایسا کرنا) شروع کر دیا ہے۔‘
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہم بہت سنجیدگی سے اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔ فوج اس کا جائزہ لے رہی ہے اور ہم کچھ بہت سخت اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔ ہم اس کا فیصلہ کریں گے۔‘
امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ان کی جانب سے فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے بعد ایرانی قیادت نے ’مذاکرات‘ کی خواہش ظاہر کی۔
ٹرمپ نے کہا: ’ایران کے رہنماؤں نے کل فون کیا۔’ایک ملاقات طے کی جا رہی ہے۔ وہ (ایرانی رہنما) مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔‘
تاہم ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’ہمیں شاید ملاقات سے پہلے کارروائی کرنی پڑے۔‘
ادھر ناروے میں قائم غیر سرکاری تنظیم ایران ہیومن رائٹس (آئی ایچ آر) نے ایران میں کم از کم 192 مظاہرین کے مارے جانے کی تصدیق کی ہے لیکن خبردار کیا کہ اموات کی اصل تعداد پہلے ہی کئی سو یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔
آئی ایچ آر نے کہا کہ ’غیر مصدقہ اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کم از کم کئی سو اور بعض ذرائع کے مطابق ہو سکتا ہے کہ دو ہزار سے زائد افراد مارے گئے ہوں۔‘
ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق ایرانی حکومت نے دو ہفتے سے جاری کے مظاہروں میں مارے جانے والے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے لیے اتوار کو تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔
حکومت نے ان واقعات ’ہنگامے‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف لڑائی ’امریکہ اور صہیونی حکومت کے خلاف ایرانی قومی مزاحمتی جنگ‘ ہے۔
سرکاری ٹیلی ویژن نے رپورٹ کیا کہ صدر مسعود پزشکیان نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ تشدد کی مذمت کے لیے پیر کو ریلیوں پر مشتمل ملک گیر ’قومی مزاحمتی مارچ‘ میں حصہ لیں۔
ملکی حکام کے خلاف تین راتوں کے شدید مظاہروں کے بعد اتوار کو اپنے پہلے بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ ’فسادیوں‘ کو معاشرے کا امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
مسعود پزشکیان نے سرکاری ٹی وی کو انٹرویو میں کہا کہ ’احتجاج عوام کا حق ہے۔‘ لیکن انہوں نے ایران کی ابتر معیشت پر احتجاج اور ’فسادیوں‘ کے درمیان تفریق کرنے میں حکام کے مؤقف کی تائید کی۔ ’فسادیو‘ کے بارے میں ان کا الزام ہے کہ انہیں امریکہ اور اسرائیل کی پشت پناہی حاصل ہے۔
انہوں نے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کو بتایا کہ ’(ایران کے) عوام کو فسادیوں کو معاشرے کا امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ عوام کو یقین رکھنا چاہیے کہ ہم (حکومت) انصاف قائم کرنا چاہتے ہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پزشکیان نے ایرانیوں پر زور دیا کہ وہ ’اکٹھے ہوں اور ان لوگوں کو سڑکوں پر ہنگامہ آرائی نہ کرنے دیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اگر لوگوں کو کوئی تشویش ہے تو ہم ان کی بات سنیں گے، ان کی بات سننا اور ان کے مسائل حل کرنا ہمارا فرض ہے۔ تاہم ہمارا سب سے بڑا فرض یہ ہے کہ فسادیوں کو آ کر معاشرے کا امن خراب کرنے کی اجازت نہ دیں۔‘
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق سرگرم کارکنوں نے اتوار کو دعویٰ کیا کہ ایران میں ملک گیر مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن میں کم از کم 544 افراد جان سے گئے جب کہ اس سے بھی زیادہ افراد کے مارے جانے کا خدشہ ہے۔
امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی نے کہا کہ احتجاج کے دو ہفتے کے دوران مزید 10 ہزار 600 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معلومات کی تصدیق کے لیے ایران میں موجود حامیوں پر انحصار کرنے والی نیوز ایجنسی کہا کہ مرنے والوں میں 496 مظاہرین ہیں اور 48 کا تعلق سکیورٹی فورسز سے ہے۔