رکن ممالک جارحیت کا جواب دینے کا حق رکھتے ہیں: خلیج تعاون کونسل

خلیجی تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ کہ غیر معمولی اجلاس میں کہا گیا کہ جی سی سی چارٹر اور مشترکہ دفاعی معاہدے کے مطابق کسی بھی رکن ریاست پر جارحیت تمام جی سی سی ممالک پر براہ راست حملہ ہے۔

یکم مارچ 2026 کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ایک ہنگامی اجلاس کا منظر، جس کی صدارت مملکت بحرین کے وزیر خارجہ اور جی سی سی وزارتی کونسل کے موجودہ چیئرمین ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے کی (@KSAmofaEN)

خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کی وزارتی کونسل کے غیر معمولی اجلاس میں پڑوسی مسلمان ممالک پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

یہ ہنگامی اجلاس اتوار، یکم مارچ 2026، کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے منعقد ہوا، جس کی صدارت مملکت بحرین کے وزیر خارجہ اور جی سی سی وزارتی کونسل کے موجودہ چیئرمین ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے کی۔

اجلاس میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سعودی عرب، عمان، قطر اور کویت پر ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد صورت حال پر غور کیا گیا۔ ان حملوں کا آغاز ہفتہ، 28 فروری 2026 کو ہوا تھا۔

کونسل نے جی سی سی ممالک کے علاوہ اردن کو نشانہ بنانے والے ان ’گھناؤنے‘ ایرانی حملوں کو مسترد کرتے ہوئے ان کی شدید ترین مذمت کی اور کہا کہ یہ  حملے ان ممالک کی خودمختاری، حسن ہمسائیگی کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی بھی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

کانفرنس میں کہا گیا کہ شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

ایران پر امریکی اور اسرائیل کے حملے کے بعد تہران کی طرف سے خلیجی ممالک اور اردن پر میزائل حملے کیے گئے۔

کونسل نے جی سی سی ممالک کے درمیان مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور ان حملوں کے خلاف متحد کھڑے ہونے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ’اس کے رکن ممالک کی سکیورٹی ناقابل تقسیم ہے، اور جی سی سی چارٹر اور مشترکہ دفاعی معاہدے کے مطابق کسی بھی رکن ریاست پر جارحیت تمام جی سی سی ممالک پر براہ راست حملہ ہے۔‘

کونسل نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے مطابق جی سی سی ممالک کے جواب دینے کے قانونی حق کی توثیق کی، جو جارحیت کی صورت میں انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنے دفاع اور اپنی خودمختاری، سکیورٹی اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے تمام اقدامات کرنے کے حق کی ضمانت دیتا ہے۔

وزارتی کونسل نے اس بات پر زور دیا کہ جی سی سی ممالک کے خلاف اس بلاجواز ایرانی جارحیت کے تناظر میں، وہ اپنی سکیورٹی، استحکام کے دفاع اور اپنی سرزمین، شہریوں اور رہائشیوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں گے، جن میں جارحیت کا جواب دینے کا آپشن بھی شامل ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کشیدگی سے بچنے کے لیے جی سی سی ممالک کی متعدد سفارتی کوششوں اور ان کی اس یقین دہانی کے باوجود کہ ان کی سرزمین ایران پر کسی بھی حملے کے لیے استعمال نہیں کی جائے گی، ایران نے جی سی سی ممالک کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھیں اور کئی شہری اور رہائشی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

وزارتی کونسل نے خطے میں سکیورٹی، امن اور استحکام کی بحالی کے لیے ان حملوں کو فوری طور پر روکنے کی ضرورت پر زور دیا اور خطے میں فضائی، سمندری اور آبی گزرگاہوں کی سکیورٹی، سپلائی چینز کے تحفظ اور عالمی توانائی کی منڈیوں کے استحکام کو یقینی بنانے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

ایک بیان میں کہا گیا کہ خلیجی خطے کا استحکام نہ صرف ایک علاقائی مسئلہ ہے بلکہ یہ عالمی اقتصادی استحکام اور بحری جہاز رانی کے لیے بھی ایک بنیادی ستون ہے۔

وزارتی کونسل نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے ان حملوں کی شدید مذمت کرے اور سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے ایک فوری اور مضبوط موقف اپنائے تاکہ شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والی ان خلاف ورزیوں کو روکا جا سکے اور علاقائی و بین الاقوامی امن پر ان کے سنگین اثرات کے پیش نظر ان کے دوبارہ ہونے کا سدباب کیا جا سکے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا