ایران میں مہنگائی کے خلاف ہونے والے ملک گیر احتجاجی مظاہروں کو اتوار کو دو ہفتے مکمل ہو گئے ہیں۔ امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ احتجاج میں اموات کی تعداد بڑھ کر کم از کم 116 ہو گئی اور 2600 سے زائد دیگر افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، تاہم ایرانی ذرائع ابلاغ نے ان اموات کی تصدیق نہیں کی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو ’ایران کی آزادی‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ’مدد کے لیے تیار‘ ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ایران میں انٹرنیٹ کی بندش اور فون لائنیں کٹ جانے کی وجہ سے بیرون ملک سے ان مظاہروں کی صورت حال کا اندازہ لگانا مزید مشکل ہو گیا ہے۔
ایرانی سرکاری ٹی وی جان سے جانے والے مظاہرین کا ذکر کیے بغیر سکیورٹی فورسز کے جانی نقصان کی خبریں دے رہا ہے اور ملک پر کنٹرول کا تاثر دے رہا ہے، جب کہ ان مظاہرین کو وہ اب تواتر سے ’دہشت گرد‘ قرار دے رہا ہے۔ تاہم اس نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ اتوار کی صبح تک احتجاج جاری رہا اور تہران اور شمال مشرق میں واقع مقدس شہر مشہد میں مظاہرے ہوئے۔
سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی تنبیہات کے باوجود کریک ڈاؤن کا اشارہ دیا ہے۔ تہران نے ہفتے کو اپنی دھمکیوں میں شدت پیدا کر دی اور ایران کے اٹارنی جنرل محمد مواحدی آزاد نے تنبیہ کی کہ احتجاج میں حصہ لینے والے کسی بھی شخص کو ’خدا کا دشمن‘ تصور کیا جائے گا، جو سزائے موت کا مستحق جرم ہے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہنگامہ آرائی کرنے والوں کی مدد‘ کرنے والوں کو بھی اس الزام کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ’پراسیکیوٹرز کو چاہیے کہ وہ فرد جرم عائد کرتے ہوئے احتیاط کے ساتھ اور بغیر کسی تاخیر کے ان لوگوں کے خلاف مقدمہ چلانے اور فیصلہ کن کارروائی کی راہ ہموار کریں جو قوم سے غداری اور بدامنی پھیلا کر ملک پر غیر ملکی تسلط چاہتے ہیں۔ کارروائی بغیر کسی نرمی، ہمدردی یا رعایت کے کی جانی چاہیے۔‘
نیویارک ٹائمز اور وال سٹریٹ جرنل نے نام ظاہر نہ کرنے والے امریکی حکام کے حوالے سے ہفتے کی رات بتایا کہ ٹرمپ کو ایران پر حملے کے لیے فوجی آپشنز دیے گئے لیکن انہوں نے حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نے، جسے ایران کی نیم فوجی پاسداران انقلاب کے قریب سمجھا جاتا ہے اور جو بیرونی دنیا تک خبریں پہنچانے والے چند میڈیا اداروں میں سے ایک ہے، نگرانی کرنے والے کیمروں کی فوٹیج جاری کی ہے جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ یہ اصفہان میں ہونے والے مظاہروں کی ہے۔ اس میں ایک مظاہرین کو اسلحہ چلاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جب کہ دیگر افراد آگ لگا رہے تھے اور اس عمارت پر پیٹرول بم پھینک رہے تھے جو بظاہر کوئی سرکاری کمپاؤنڈ معلوم ہو رہی تھی۔
سرکاری ٹی وی سے منسلک ینگ جرنلسٹس کلب نے رپورٹ کیا کہ مظاہرین نے گچساران شہر میں پاسداران انقلاب کی رضاکار بسیج فورس کے تین ارکان کو جان سے مار دیا۔ اس نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ صوبہ ہمدان میں ایک سکیورٹی اہلکار کو چاقو کے وار کر کے قتل کر دیا گیا۔ ساحلی شہر بندر عباس میں ایک پولیس افسر اور گیلان میں ایک اور شہری جان سے گئے۔ اس کے علاوہ مشہد میں بھی ایک شخص قتل ہوا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاسداران انقلاب کے قریب سمجھی جانے والی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے دعویٰ کیا ہے کہ حکام نے تقریباً 200 افراد کو حراست میں لیا ہے جن کا تعلق بقول اس کے ’آپریشنل دہشت گرد ٹیموں‘ سے ہے۔ گرفتار افراد کے پاس آتشیں اسلحہ، دستی بم اور پیٹرول بم سمیت دیگر ہتھیار موجود تھے۔
دوسری جانب فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو کہا ہے کہ امریکہ ’مدد کے لیے تیار‘ ہے۔ انہوں نے یہ بات ایسے وقت میں کہی ہے جب ایران میں مظاہرین کو سرکاری حکام کی جانب سے شدید کریک ڈاؤن کا سامنا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں مزید وضاحت کیے بغیر کہا: ’ایران آزادی کی طرف دیکھ رہا ہے، شاید اس طرح جیسے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ امریکہ مدد کے لیے تیار ہے۔‘
ان کا یہ تبصرہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ایک دن قبل انہوں نے کہا تھا کہ ایران ’بڑی مشکل‘ میں ہے اور دوبارہ تنبیہ کی تھی کہ وہ فوجی حملوں کا حکم دے سکتے ہیں۔