ایران سے کاروبار کرنے والے ممالک پر 25 فیصد تجارتی ٹیرف لگے گا: صدر ٹرمپ

ایران میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف فضائی کارروائی آپشن زیر غور ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے کسی بھی ملک پر 25 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد تہران پر مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن نہ کرنے کے حوالے سے دباؤ بڑھانا ہے۔

صدر ٹرمپ نے یہ اعلان پیر کو کیا۔  ایران میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ کے مطابق ایران میں مظاہروں کی لہر کے خلاف پرتشدد کریک ڈاؤن میں اموات کی تعداد کم از کم 648 ہو گئی ہے۔ 

 ایرانی حکام صورت حال کو قابو میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے پیر کو ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں کہا کہ ’فوری طور پر مؤثر۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والا کوئی بھی ملک ریاستہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ کیے جانے والے کسی بھی اور تمام کاروبار پر 25 فیصد ٹیرف ادا کرے گا۔ یہ حکم آخری اور حتمی ہے۔‘

اقتصادی ڈیٹا بیس ٹریڈنگ اکنامکس کے مطابق، ایران کے اہم تجارتی شراکت دار چین، ترکی، متحدہ عرب امارات اور عراق ہیں۔

ٹیرف کا اعلان ایسے وقت میں آیا ہے جب ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر غور کیا ہے۔ 

وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے پیر کو کہا کہ ’فضائی حملے ان بہت سے آپشنز میں سے ایک ہوں گے جو میز پر ہیں۔‘

لیکن انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹ کوف کے لیے ایک سفارتی چینل بھی کھلا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنے عوامی بیانات سے نجی طور پر ’بہت مختلف لہجہ‘ اختیار کر رہا ہے۔

پاکستان ایران تجارت

2023 میں پاکستان نے ایران کو 9.97 ملین ڈالر کی برآمدات کیں، جن میں تعمیرات کے لیے استعمال گاڑیاں، کھدائی کی مشینری اور ٹریلرز شامل تھے۔

گزشتہ 5 سال میں پاکستان سے ایران کو برآمدات 50.9 فیصد کی سالانہ شرح سے کم ہوئی ہیں، جو 2018 میں 351 ملین ڈالر سے کم ہو کر 2023 میں 9.97 ملین ڈالر رہ گئی ہیں۔

2023 میں ایران نے پاکستان کو 943 ملین ڈالر کی برآمدات کیں۔ ایران نے پاکستان کو جو اہم مصنوعات برآمد کیں وہ پیٹرولیم گیس، ریفائنڈ پیٹرولیم اور خشک میوہ جات تھے۔ گذشتہ 5 سالوں کے دوران ایران سے پاکستان کو برآمدات میں سالانہ 3.11 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔

چند روز قبل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت نے وزارت تجارت کو پاکستان اور ایران کے درمیان متوازن، شفاف اور قانونی تجارت کو آسان بنانے کے لیے آپریشنل، لاجسٹک اور ریگولیٹری چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ایران میں صورت حال

انسانی حقوق کے ایک گروپ نے پیر کو کہا کہ ایران میں مظاہروں کی لہر کے خلاف پرتشدد کریک ڈاؤن میں اموات کی تعداد کم از کم 648 ہو گئی ہے، جبکہ ایرانی حکام بڑے پیمانے پر ملک گیر ریلیوں کے ذریعے سڑکوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 

حکومت کی جانب سے اسلامی جمہوریہ کی حمایت میں ریلیوں کی کال پر پیر کو ہزاروں افراد باہر نکلے اور حکومت کے حق میں نکلنے والے ان افراد کو ایران سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے سراہا۔ ایرانی حکومت کا موقف ہے کہ ملک میں مظاہروں کے پیچھے بیرونی مداخلت ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انسانی حقوق کے گروپوں نے ایران میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ پر کہا ہے کہ اس کا مقصد احتجاجی مظاہریں پر پر مہلک کریک ڈاؤن کو چھپانا ہے۔ ناروے میں قائم این جی او ایران ہیومن رائٹس نے کہا کہ اس نے مظاہروں کے دوران 648 افراد کی جانیں جانے کی تصدیق کی ہے، جن میں نو نابالغ بھی شامل ہیں اور ہزاروں زخمی ہیں۔

آئی ایچ آر نے بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق 10,000 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ابتدائی طور پر معاشی شکایات کی وجہ سے شروع ہونے والے مظاہرے حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گئے ہیں ان مظاہروں کو اب دو ہفتے ہو چکے ہیں۔

ایران میں 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد رضا شاہ پہلوی کی معزولی کے بعد سے ایک مذہبی حکومت قائم ہے۔

خامنہ ای، جو 1989 سے ملک کے سپریم لیڈر ہیں اور اب 86 سال کے ہیں، انہوں پیر کو ایک بیان میں کہا کہ حکومت کے حق میں ریلیاں امریکہ کے لیے ’انتباہ‘ تھیں۔ 

سرکاری ٹی وی کے مطابق انہوں نے کہا، ’عزم سے بھری ان بڑی ریلیوں نے غیر ملکی دشمنوں کے منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا