بینائی نظر سے نظریے کا نام ہے اور شناسائی پہچان سے معرفت کا پیغام، قومیں اپنے قومی وقار، حریت اور غیرت کے ساتھ شناخت بناتی ہیں، کوئی ایک نعرہ اُن کا نصب العین بن جاتا ہے یہی صورت حال ایران کی ہے۔
ایران کی تہذیب اُن کی شناخت جبکہ سامراج کے خلاف مزاحمت اُن کے مزاج میں ہے۔ ایران میں حالیہ واقعات حکومت کی تبدیلی کی بیرونی کوشش ہے جس کا اظہار صدر ٹرمپ بر سرعام کر چکے ہیں۔ بظاہر یہ کوشش ایران کی قومی خودداری سے متصادم ہے تو کیا اسے کامیابی مل سکتی ہے؟
چند روز قبل ایران جانے کا اتفاق ہوا۔ تہران، قُم اور مشہد میں مختصر قیام کے دوران کئی مشاہدات سامنے آئے جس کی تفصیل کسی اور وقت کے لیے اُٹھا رکھتے ہیں۔
تہران پہنچتے ہی پاکستان سے خبر ملی کہ مظاہرین سڑکوں پر ہیں اور حالات کشیدہ، توڑ پھوڑ اور ہنگامے عروج پر ہیں لہٰذا فکر مندی یقینی تھی تاہم یہ اطلاعات ہم نے حیرت سے سُنیں کیونکہ ایئر پورٹ سے ہوٹل تک کا سفر بےحد پرسکون تھا۔
اگلے دن تہران گھومنے کا پروگرام بنا، تہران کے شمال میں موجود ہوٹل سے نکلے تو سب سے پہلے سڑکوں پر نگاہ دوڑائی۔ ٹریفک کا اژدہام اور زندگی معمول کے مطابق رواں دواں، خوشگوار یخ بستہ ہوا اور جا بہ جا ترتیب اور نفاست سے معمور تعمیرات نے ایران کو ایک نئی نظر سے دیکھنے کا موقع دیا۔
ایران کے حوالے سے سخت آپشنز پر غور کر رہے ہیں: امریکی صدر pic.twitter.com/F6bMmdwvXX
— Independent Urdu (@indyurdu) January 12, 2026
نوجوان لڑکے لڑکیاں بغیر کسی روک ٹوک کے لائبریریوں، پارک اور سڑکوں پر نظر آئے جبکہ خواتین بغیر سر ڈھانپے کام کرتی دکھائی دیں جس نے ماضی سے برعکس ایک الگ تاثر قائم کیا۔ ذہن کے دریچے میں حضرتِ اقبال کے یہ اشعار گونج رہے تھے:
پانی بھی مسخر ہے، ہوا بھی ہے مسخر
کیا ہو جو نگاہ فلک پیر بدل جائے
دیکھا ہے ملوکیت افرنگ نے جو خواب
ممکن ہے کہ اس خواب کی تعبیر بدل جائے
تہراں ہو گر عالم مشرق کا جنیوا
شاید کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے
ہوٹل سے باغ کتاب یعنی بُک گارڈن تک کا رستہ نصف گھنٹے کا تھا تاہم ٹریفک کے باعث ایک گھنٹہ لگا، کہیں بدامنی ڈھونڈنے سے نہ ملی۔ اگلے دو روز بھی وسطی اور مشرقی تہران میں مختلف جگہیں دیکھیں جن میں تجریش بازار بھی شامل تھا جہاں ایک امام زادے مدفون ہیں۔
تہران کے شمال میں سر اُٹھائے برف پوش پہاڑ اور اُس کی چوٹی ’توچل‘ تک کیبل کار کے ذریعے سفر کیا، گویا اگلے دو دن صرف تہران گھومنے میں صرف ہوئے جبکہ پاکستان میں موجود خاندان مسلسل محتاط رہنے کے لیے اصرار کرتا رہا۔
تہران اور قُم میں قیام کے دوران ہم مسلسل کھوج میں رہے کہ ہمیں وہ بےچینی کیوں نظر نہیں آرہی کہ جس کا سوشل میڈیا پر واویلا ہے۔ اسی دوران ترکی اور عراق کی سرحد پر موجود شہروں میں کشیدگی کے چند مناظر نظر سے گُزرے، معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ اقتصادی صورت حال کے پیش نظر تاجروں نے ہڑتال کر رکھی اور ایک دن حکومت نے عام تعطیل کا اعلان بھی کر دیا ہے۔
بظاہر شہر خاموش اور پُرامن لگے، مصدقہ اطلاعات کی مگر تلاش رہی۔ یہ خبریں بھی گردش میں تھیں کہ حکومت مسلسل تاجروں سے بات چیت کر رہی ہے۔ بہرحال مشہد پہنچنے تک سرحدی علاقوں سے پُرتشدد مظاہروں کی اطلاعات آنے لگیں تاہم ایسے بڑے مظاہرے نہ تھے کہ فکرمندی ہوتی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مغربی میڈیا جس تواتر سے خبریں دے رہا تھا وہ نہ صرف حیران کُن تھا بلکہ زمینی حقائق سے قطعی مختلف بھی۔ احتجاج کو انتشار جبکہ محاذ آرائی کو لڑائی کی شکل دی جا چُکی تھی۔
اس میں شک نہیں کہ بعد میں مظاہرین مشتعل ہوئے، گھیراؤ جلاؤ اور سرکاری املاک بھی نذر آتش کی گئیں مگر جس انداز میں آغاز سے ہی اس احتجاج کو پیش کیا گیا وہ حیران کُن تھا یا شاید کسی منظم منصوبہ بندی کا حصہ۔
اگر ہم ایران میں خود موجود نہ ہوتے اور صورت حال کو بطور صحافی دیکھ نہ رہے ہوتے تو یقیناً پروپیگنڈا مشینری کاشکار ہو چُکے ہوتے۔ بہرحال بعد میں آنے والے حالات نے ہمارے شکوک کو یقین میں بدل دیا۔
ایران گذشتہ کئی دہائیوں سے عالمی اقتصادی پابندیوں کا شکار ملک ہے۔
کمزور معیشت نے معاشرے کو شدید دباؤ میں جکڑ رکھا ہے تاہم اس میں بھی شک نہیں کہ ایرانی عوام بحیثیت قوم ایک مضبوط ڈور سے بندھے ہیں اور ڈور قومیت پسندی کی صورت ہے۔
ایرانی قوم مجبور ہے مگر محروم نہیں، محصور ہے مگر محکوم نہیں۔ اُنہیں بخوبی اندازہ ہے کہ اس نظام سے نکل کر عالمی استعمار پنجے گاڑھ سکتا ہے جبکہ ساتھ ساتھ وہ اپنی مملکت کی مشکلات کو بھی سمجھتے ہیں۔
ایران میں پُرتشدد مظاہروں کی لہر نئی نہیں تاہم یہ کہنا کہ اس کے بعد ایران میں حکومت کی تبدیلی ممکن ہے بظاہر اس کے امکانات معدوم ہیں۔
حالیہ احتجاجی لہر کے دوران ہمارے مشاہدے میں چند عوامل ضرور آئے ہیں جن میں ان مظاہرین کی جانب سے مساجد، درس گاہوں، قومی ہیروز کے مجسموں کو گرانا اور بینکوں کو آگ لگانا شامل ہیں جبکہ ان مظاہروں میں شریک بیشتر نوجوان ہیں جو ایرانی حکومت کو اقتصادی ابتری کا سبب سمجھتے ہیں وہ یہ سمجھنے کو بھی تیار نظر نہیں آتے کہ عالمی پابندیوں نے اُن کی معیشت کی جکڑ بندی کر رکھی ہے۔
یہ مظاہرین علامتی طور پر ایرانی وحدت کے نشانیوں کو ہدف بنا رہے ہیں جبکہ بظاہر یہ غم غصہ خراب معیشت کے خلاف ہے۔
ایک اور دلچسپ امر یہ ہے کہ ان مظاہروں کے فوری بعد اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے مداخلت کا ردعمل آنا بھی غیر فطری ہے۔
یوں معلوم ہوتا ہے جیسے اسرائیل اور امریکہ نے سابق شہنشاہ ایران کے بیٹے کے ساتھ مل کر حکومت کی تبدیلی کی پیش بندی کر رکھی ہے اور عوامی احتجاج سے بڑی تبدیلی کی اُمیدیں وابستہ کر لی گئی ہیں یعنی شاہ سے زیادہ شاہ کے خیر خواہ امریکہ اور اسرائیل ہیں۔
موجودہ حالات میں ایران میں اول تو فی الفور تبدیلی ممکن نہیں اور اگر امریکہ یا اسرائیل ممکنہ تبدیلی حاصل کر بھی لیتے ہیں تو بھی مطلوبہ نتائج یعنی شاہ کی واپسی کی صورت عوامی پذیرائی کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔
ایران میں موجودہ حکومت بے تحاشا مسائل کے باوجود بہر حال ایک نمائندہ حکومت ہے۔ ایران میں نظام یا حکومت کی تبدیلی کی صورت پاکستان پر اثرات پڑ سکتے ہیں۔
عالمی میڈیا کا کردار ہو یا اندرونی خلفشار، جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈا ہو یا ملکی سالمیت پر حملے، یہ سب معاملات ایک ہی سلسلے کی کڑیاں معلوم ہوتے ہیں۔ پاکستان کی مغربی سرحد پر موجود ایک ہی ہمسایہ ہے جو اس وقت پاکستان کے قریب تر ہے اور پاکستان بھی سمجھتا ہے کہ ایران اور پاکستان ایک ہی کشتی کے مسافر ہیں لہٰذا ایران میں تبدیلی کسی صورت پاکستان کے لیے سود مند نہ ہو گی۔
کوئی مغربی مداخلت خطے کو ایک نئی آگ میں جھونک سکتی ہے۔
اسرائیل کی ایران پر حملے کےشکست کے بعد اندرونی محاذ پر خانہ جنگی ایک اور سازش ہے جبکہ پاکستان بھی اسی نہج پر کھڑا ہے۔
ہمارے دو ہمسائے افغانستان اور انڈیا محدود جنگوں میں شکست خوردہ ہیں لہٰذا اندرونی محاذ آرائی دشمن کا آسان ہدف ہے۔ ایران میں امریکہ کی اندرونی مداخلت ہم جیسے ملکوں کے لئے نئی مثالیں پیدا کر سکتی ہے لہٰذا چوکنا رہنا ہو گا۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔