ایران میں احتجاج سیاسی مطالبات میں تبدیل

ایران میں انٹرنیٹ بدستور بند ہے اور ملک میں جاری حالیہ غیر معمولی احتجاج اب معاشی مطالبات کی بجائے سیاسی تبدیلی کے نعرے میں بدل گیا ہے۔

29 دسمبر، 2025 کو تہران میں دکاندار اور تاجر معاشی حالات اور ایرانی کرنسی کے خلاف سڑک پر احتجاج کر رہے ہیں (اے ایف پی)

ایران میں انٹرنیٹ پانچ روز سے بند ہے، ملک کے 31 صوبوں میں تقریباً 570 احتجاجی مظاہروں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ یہ صورت حال دو ہفتے قبل شروع ہونے والے احتجاج کی وسیع اور غیر معمولی لہر کی نشاندہی کرتی ہے۔

یہ احتجاجی مظاہرے ابتدائی طور پر تہران بازار میں کرنسی کے غیر ملکی کرنسی کے نرخوں میں اضافے اور قیمتوں میں شدید عدم استحکام کے ردعمل میں ہڑتال سے شروع ہوئے اور بعد ازاں شہزادہ رضا پہلوی کی کال پر ایران کے مختلف شہروں کی سڑکوں پر احتجاج کی شکل کی اختیار کر گئے جن میں بڑی تعداد لوگ موجود رہے۔ 

جمعرات سے ملک بھر میں انٹرنیٹ بند ہونے کے باوجود، سٹار لنک سیٹیلائٹ انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہوئے ملک سے باہر بھیجی جانے والی محدود ویڈیوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہفتے کی شام تک لاکھوں ایرانی شہری ملک کے مختلف حصوں کی موجودہ صورت حال کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔

ایران کے چھوٹے بڑے شہروں سے جاری ہونے والی ان تصاویر میں مواصلاتی رابطوں پر سخت پابندی کے باوجود احتجاج کے تسلسل اور دائرہ کار میں وسعت، اور ریاستی جبر کے اداروں، پولیس، سکیورٹی اور بسیج کے اہلکاروں کی جانب سے براہ راست فائرنگ سے شہریوں کے بے رحمانہ قتل کو دکھایا گیا ہے۔

ان ویڈیوز میں مظاہرین ’خامنہ ای مردہ باد‘ اور ’جاوید شاہ مردہ باد‘ جیسے نعرے لگا کر حکمران طاقت کے ڈھانچے کی کھل کر مخالفت کر رہے ہیں۔ محلوں میں برتن بجانا، رات کے وقت اجتماعات اور بکھرے ہوئے مظاہرے مختلف شہروں میں احتجاج کے مشترکہ طریقے ہیں۔

احتجاج کا بدلتا رخ، معاشی مطالبات سے سیاسی مطالبے تک

تصاویر اور رپورٹس کے مطابق موجودہ احتجاج تیزی سے معاشی مطالبات کے دائرہ کار سے نکل کر واضح طور پر سیاسی مطالبات والی تحریک میں تبدیل ہو گیا ہے۔

 مختلف شہروں میں مظاہرین نے پہلوی خاندان کی اعلانیہ حمایت کرتے ہوئے حکومت کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔ یہ وہ تبدیلی ہے جسے مبصرین حالیہ احتجاج کے دوران ایک اہم موڑ قرار دے رہے ہیں۔

صورت حال کی اس تبدیلی کو معاشرے کے ایک قابل ذکر حصے اور حکمران سیاسی ڈھانچے کے درمیان گہری خلیج کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ایسی خلیج جو اب کرنسی کے نرخوں، مہنگائی یا معیشت جیسے موضوعات تک محدود نہیں ہے اور اس نے براہ راست سیاسی نظام کی قانونی حیثیت کو نشانہ بنایا ہے۔ احتجاج کا جغرافیائی پھیلاؤ اور ملک کے مختلف علاقوں میں ایک جیسے نعروں کی تکرار مظاہرین کے مطالبات میں ہم آہنگی اور یکسانیت کی نشاندہی کرتی ہے۔

اس کے برعکس ایران کے حکام کا ردعمل بدستور سکیورٹی اور ٹکراؤ پر مبنی رہا ہے۔ ملک کے پراسیکیوٹر جنرل نے جمعے کو رہبر کی تقریر کے چند گھنٹے بعد مظاہرین کو ’فسادی‘، ’تخریب کار‘، ’دشمن‘ اور ’لڑاکے‘ جیسے القابات دیے جس سے مظاہرین کے خلاف کارروائی میں شدت لانے کی حکومت کی تیاری کا پتہ چلتا ہے۔

بیانات اور سرکاری ردعمل کے درمیان فرق

جمعرات، جمعہ اور ہفتے کو، سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے ذریعے بیرون ملک رابطہ قائم کرنے میں کامیاب ہونے والے شہریوں کے بیانات اور محدود پیمانے پر جاری ہونے والی ویڈیوز نے مظاہرین کے شدید غصے اور سکیورٹی فورسز کے پرتشدد ردعمل کی خبر دی۔

 ان رپورٹس میں بار بار براہ راست گولیوں کی فائرنگ، سنائپرز کے استعمال اور بڑی تعداد میں مرنے والے شہریوں کی لاشیں دیکھے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔

اس کے باوجود ایران کے اعلیٰ حکام نے اموات کی بڑی تعداد کی ضمنی تصدیق کرتے ہوئے شہریوں پر براہ راست فائرنگ کی ذمہ داری ’غیر ملکی اور دہشت گرد عناصر‘ پر ڈالی اور ان واقعات میں حکومتی فورسز کے کردار کو تسلیم نہیں کیا۔

ملک کے ادارہ برائے فرانزک میڈیسن کے سربراہ نے بھی ایک ٹی وی انٹرویو میں متاثرین کی تعداد کو ’ماضی کے احتجاجی مظاہروں سے ناقابل موازنہ‘ قرار دیا۔

ایران کی پولیس کے جنرل کمانڈ نے بھی سکیورٹی اور پولیس فورسز کے درمیان ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے مظاہرین کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کی اطلاع دی ہے۔ پولیس کے سربراہ احمدرضا رادان نے ’جعلی اموات‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے مظاہرین کے کریک ڈاؤن اور قتل عام کی اطلاعات کو ’غیر ملکی نشریاتی اداروں‘ سے منسوب کرنے کی کوشش کی۔ یہ ایسا دعویٰ ہے جو احتجاج کے مقامات سے جاری ہونے والی تصاویر اور بیانات سے مطابقت نہیں رکھتا۔

سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سکریٹری علی لاریجانی نے بھی مظاہرین کو کچلنے میں حکومتی فورسز کے کردار کا ذکر کیے بغیر، متعدد شہریوں کی موت کو ’دشمن کے ایجنٹوں کے انتہائی پرتشدد اور مجرمانہ رویے‘ کا نتیجہ قرار دیا۔ 

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے  جب بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور انسانی حقوق کے اداروں نے عینی شاہدین کی شہادتوں اور دستاویزات کا جائزہ لے کر سکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین پر براہ راست گولیاں چلانے کی تصدیق کی ہے اور اموات کی تعداد کو ’بہت زیادہ‘ قرار دیا ہے۔

میڈیا کی دھمکیاں، زبردستی اعتراف جرم اور بحران پر قابو پانے کی کوشش

اندرونی اور بیرونی مبصرین کی توجہ کا ایک اور محور احتجاج کا سامنا کرنے میں سرکاری میڈیا کا کردار ہے۔ حالیہ دنوں میں اسلامی جمہوریہ کے سرکاری ٹیلی ویژن (صدا و سیما) نے خبروں کی کوریج کو اپنے ادارے اورپاسداران انقلاب کے قریبی چند خبر رساں اداروں بشمول تسنیم، فارس اور مہر تک محدود کر کے ملک کی صورت حال کو کنٹرول شدہ اور معمول کے مطابق دکھانے کی کوشش کی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ بعض ٹیلی ویژن پروگراموں میں اینکرز نے دھمکی آمیز زبان استعمال کرتے ہوئے اور مظاہرین کی توہین کرتے ہوئے خاندانوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو احتجاج میں شامل ہونے سے روکیں اور خبردار کیا ہے کہ مظاہرین کے زخمی یا مرنے کی صورت میں انہیں شکایت کرنے کا حق نہیں ہو گا۔ یہ وہ موقف ہے جس پر انسانی حقوق کے کارکنوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اسی دوران ایران کی حکومت سرکاری مشینری کے ذریعے حکومت کے حامیوں کو متحرک کر کے اپنی حمایت میں ریلیاں نکال کر معاشرے پر  نفسیاتی کنٹرول کی کوشش کر رہی ہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

زیر حراست افراد کے زبردستی اعتراف جرم کی ویڈیوز نشر کرنا اور فوری عدالتی کارروائی کے لیے فائلیں تیار کرنا بھی ان اقدامات میں شامل ہے جنہیں انسانی حقوق کے کارکن معاشرے کو خوفزدہ کرنے اور احتجاج کے تسلسل کو روکنے کی ایک کوشش قرار دے رہے ہیں۔

ایسی صورت حال میں جہاں انٹرنیٹ کی بندش نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی دستاویزی فلم سازی اور معلومات کی منتقلی کو سنگین مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، ایران کے اندر اور باہر شہری اور انسانی حقوق کے کارکن متبادل مواصلاتی راستے بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے شہریوں اور بین الاقوامی میڈیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کی صورتحال کی خبریں نشر کرنا جاری رکھیں۔

مظاہرین اور سیاسی کارکنوں کے مطابق موجودہ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے شہریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر براہ راست گولیوں کا استعمال کیا ہے۔

یہ ایک ایسا معاملہ جس کے بارے میں ان کا ماننا ہے کہ دنیا کو واضح طور پر آگاہ ہونا چاہیے۔ ایسے حالات میں انٹرنیٹ کی مسلسل بندش نہ صرف معلومات کی فراہمی میں رکاوٹ بنی ہے بلکہ یہ کریک ڈاؤن اور احتجاج کی حقیقی وسعت کو چھپانے کا ایک ذریعہ بھی بن گئی ہے۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا