کشیدگی برقرار: ایران کی فضائی حدود بند، ٹرمپ کا رضا پہلوی کی اہلیت پر عدم اعتماد

امریکی صدر ایک انٹرویو میں کہا: ’وہ بہت اچھے معلوم ہوتے ہیں، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ وہ اپنے ہی ملک میں کیسی کارکردگی دکھائیں گے اور ہم ابھی اس مرحلے تک پہنچے ہی نہیں ہیں۔‘

ایران نے امریکہ کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں جمعرات کو بغیر کسی وضاحت کے تجارتی پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دیں جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو ایرانی حزب اختلاف کے رہنما رضا پہلوی کے اقتدار سنبھالنے کے لیے ایران میں حمایت حاصل کرنے کے امکان پر غیر یقینی کا اظہار کیا۔ 

امریکی صدر نے اوول آفس میں روئٹرز کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ایران کی مذہبی قیادت والی حکومت کے خاتمے کا امکان موجود ہے۔

ٹرمپ بارہا ایران میں مظاہرین کی حمایت میں مداخلت کی دھمکی دے چکے ہیں، جہاں مذہبی حکمرانی کے خلاف احتجاج پر کریک ڈاؤن کے دوران ہزاروں افراد کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں، تاہم بدھ کے روز وہ ایران کے آخری شاہ کے بیٹے رضا پہلوی کی کھل کر حمایت کرنے میں ہچکچاتے نظر آئے، جنہیں 1979 میں اقتدار سے بے دخل کر دیا گیا تھا۔

ٹرمپ نے کہا: ’وہ بہت اچھے معلوم ہوتے ہیں، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ وہ اپنے ہی ملک میں کیسی کارکردگی دکھائیں گے اور ہم ابھی اس مرحلے تک پہنچے ہی نہیں ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’مجھے نہیں معلوم کہ ان کا ملک ان کی قیادت قبول کرے گا یا نہیں اور اگر واقعی ایسا ہو تو مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکا میں مقیم 65 سالہ رضا پہلوی 1979 کے اسلامی انقلاب میں اپنے والد کی حکومت کے خاتمے سے پہلے ہی ایران سے باہر مقیم ہیں اور حالیہ احتجاجی تحریک میں ایک نمایاں آواز بن چکے ہیں۔ ایران کی اپوزیشن مختلف گروہوں اور نظریاتی دھڑوں میں بٹی ہوئی ہے، جن میں پہلوی کی حمایت کرنے والے بھی شامل ہیں، تاہم اسلامی جمہوریہ کے اندر ان کی کوئی مضبوط منظم موجودگی نظر نہیں آتی۔

ٹرمپ نے کہا کہ احتجاج کے باعث تہران کی حکومت کے گرنے کا امکان ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ’کوئی بھی نظام ناکام ہو سکتا ہے۔‘

انہوں نے کہا: چاہے وہ (حکومت) گرتی یا نہیں، یہ بہرحال بہت دلچسپ وقت ہوگا۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو مبہم بیانات پوسٹس کیے تھے، جن سے یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ایران کے خلاف کوئی امریکی کارروائی ہو گی یا نہیں۔

صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ ایران میں پھانسیاں روک دی گئی ہیں، تاہم انہوں نے اس بارے میں زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ اس سے ایک دن قبل ٹرمپ نے ایران میں مظاہرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’مدد آ رہی ہے‘ اور ان کی انتظامیہ اسلامی جمہوریہ کی مہلک کارروائیوں کے جواب میں ’اسی کے مطابق عمل کرے گی۔‘

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی بیانیے میں نرمی لانے کی کوشش کی اور امریکہ پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرے۔

فاکس نیوز کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر کہ وہ ٹرمپ کو کیا پیغام دینا چاہیں گے، عباس عراقچی نے کہا: ’میرا پیغام یہ ہے کہ جنگ اور سفارت کاری کے درمیان، سفارت کاری بہتر راستہ ہے، اگرچہ ہمیں امریکہ کے ساتھ کوئی مثبت تجربہ حاصل نہیں ہوا۔ اس کے باوجود سفارت کاری، جنگ کے مقابلے میں کہیں بہتر ہے۔‘

اس سے قبل بدھ کو ایران کے پاسداران انقلاب کی ایئرو سپیس فورس کے کمانڈر میجر جنرل ماجد موسوی نے  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مداخلت کی دھمکیوں پر کہا تھا کہ وہ کسی بھی قسم کی ’جارحیت‘ کا جواب دینے کے لیے ’مکمل تیار‘ ہیں۔

امریکہ اور ایران کی جانب سے لہجے میں یہ تبدیلی اس بیان کے چند گھنٹے بعد سامنے آئی جب ایران کے چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت کو حراست میں لیے گئے ہزاروں افراد کو سزا دینے کے لیے تیزی سے کارروائی کرنی چاہیے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں نے خبردار کیا کہ زیر حراست افراد کو جلد پھانسی دی جا سکتی ہے۔ امریکی ریاست میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن میں کم از کم 2,615 افراد جان سے جا چکے ہیں۔

اموات کی یہ تعداد گذشتہ کئی دہائیوں میں ایران میں ہونے والے کسی بھی احتجاج یا بدامنی سے زیادہ ہے اور یہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے دوران پھیلنے والے انتشار کی یاد دلاتی ہے۔

ایران نے تجارتی پروازوں کے لیے فضائی حدود بند کر دی

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ایران نے جمعرات کو علی الصبح بغیر کسی وضاحت کے تجارتی پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب ملک گیر احتجاجی مظاہروں پر کریک ڈاؤن کے باعث تہران کی امریکہ کے ساتھ کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

ایران اس سے قبل جون میں اسرائیل کے خلاف 12 روزہ جنگ کے دوران اور اسرائیل۔حماس جنگ میں اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کے وقت بھی اپنی فضائی حدود بند کر چکا ہے۔

اس بندش کے اثرات فوری طور پر عالمی ہوا بازی پر پڑے کیونکہ ایران مشرق اور مغرب کے درمیان پروازوں کے ایک اہم راستے پر واقع ہے۔

تنازع والے علاقوں اور فضائی سفر سے متعلق معلومات فراہم کرنے والی ویب سائٹ سیف ایئر سپیس کے مطابق: ’متعدد ایئرلائنز پہلے ہی اپنی سروسز کم یا معطل کر چکی ہیں اور زیادہ تر ایئرلائنز ایرانی فضائی حدود سے گریز کر رہی ہیں۔

بیان میں کہا گیا: ’صورت حال مزید سکیورٹی یا عسکری سرگرمیوں کا عندیہ دے سکتی ہے، جن میں میزائل داغے جانے یا فضائی دفاعی نظام کے الرٹ ہونے کا خطرہ شامل ہے، جس سے شہری طیاروں کو غلطی سے نشانہ بنائے جانے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔‘

ایران ماضی میں ایک تجارتی طیارے کو دشمن ہدف سمجھ کر نشانہ بنا چکا ہے۔ 2020 میں ایرانی فضائی دفاع نے یوکرین انٹرنیشنل ایئرلائنز کی پرواز پی ایس 752 کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے دو میزائلوں سے نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام 176 افراد جان سے چلے گئے تھے۔ ایران نے کئی دن تک طیارہ مار گرانے کے الزامات کو مغربی پراپیگنڈا قرار دے کر مسترد کیا اور پھر بالآخر اس کا اعتراف کر لیا تھا۔

فضائی حدود کی بندش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب قطر میں ایک اہم امریکی فوجی اڈے پر تعینات بعض اہلکاروں کو انخلا کا مشورہ دیا گیا۔ کویت میں امریکی سفارت خانے نے بھی اپنے عملے کو خلیجی عرب ملک میں موجود متعدد فوجی اڈوں پر جانے سے ’عارضی طور پر روک‘ دیا ہے۔

تیل کی قیمتوں میں کمی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدھ کے بیانات کے بعد ایران میں عدم استحکام سے متعلق خدشات کم ہونے پر جمعرات کو تیل کی قیمتوں میں شدید کمی دیکھنے میں آئی۔

اے ایف پی کے مطابق ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ تیل کی قیمت 3.0 فیصد کمی کے ساتھ 60.16 ڈالر فی بیرل پر آ گئی، جبکہ برینٹ خام تیل 2.93 فیصد گر کر 64.57 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔

یہ کمی اس بیان کے بعد ہوئی جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ ایران میں مظاہرین کے قتل روک دیے گئے ہیں۔

وائٹ ہاؤس میں ایک غیر متوقع اعلان کے دوران امریکی صدر نے مزید کہا کہ ممکنہ فوجی کارروائی کے بارے میں وہ  ’دیکھیں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا