ایران کے پاسداران انقلاب کی ایئرو سپیس فورس کے کمانڈر میجر جنرل ماجد موسوی نے بدھ کو کہا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی ’جارحیت‘ کا جواب دینے کے لیے ’مکمل تیار‘ ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں حکومت مخالف احتجاج کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مداخلت کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایرانی سرکاری میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ میجر جنرل ماجد موسوی کے مطابق ’ہم اپنی تیاریوں کی بلند ترین سطح پر ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ سال اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کی مرمت کر لی گئی ہے اور جون 2025 کے بعد پاسدارانِ انقلاب کی ایئرو سپیس فورس کی مختلف شعبوں میں پیداواری صلاحیت پہلے سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے۔
دوسری جانب ایک امریکی عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا ہے کہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنے بڑے فوجی اڈوں سے بعض اہلکاروں کو واپس بلا رہا ہے۔
ایک سینیئر ایرانی عہدیدار نے بدھ کو روئٹرز کو بتایا کہ تہران نے ان پڑوسی ممالک کو خبردار کیا ہے جو اپنے ہاں امریکی فوجی دستوں کی میزبانی کر رہے ہیں کہ اگر واشنگٹن نے حملہ کیا تو ایران امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تین سفارت کاروں کے مطابق خطے میں واقع امریکہ کے مرکزی فضائی اڈے سے کچھ اہلکاروں کو انخلا کا مشورہ دیا گیا ہے، تاہم فی الحال بڑے پیمانے پر فوجی انخلا کے کوئی واضح آثار نہیں، جیسا کہ گذشتہ سال ایرانی میزائل حملے سے قبل کے گھنٹوں میں دیکھنے میں آیا تھا۔
ادھر خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران نے بدھ کو بڑے پیمانے پر ہونے والے احتجاج کے سلسلے میں گرفتار افراد کے خلاف عدالتی کارروائی تیز کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے پھانسیوں کا سلسلہ جاری رکھا تو امریکہ ’انتہائی سخت اقدام‘ کرے گا۔
ایرانی حکام نے ان مظاہروں کو ’فسادات‘ قرار دیتے ہوئے مظاہرین پر ’دہشت گردانہ کارروائیوں‘ میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔