ایران میں پاکستان کے سفیر نے ملک میں موجود پاکستانی شہریوں سے کہا ہے کہ وہ اپنی سفری دستاویزات ہر وقت اپنے پاس تیار رکھیں۔
پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے منگل کو ایک بیان میں ایران میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ کو آئندہ کی منصوبہ بندی ایرانی حکومت کے امتحانات سے متعلق اعلان کے مطابق کرنے کا مشورہ بھی دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی یونیورسٹیوں نے بین الاقوامی طلبہ کو جانے کی اجازت دینے کے لیے امتحانات کے شیڈول کو دوبارہ ترتیب دیا ہے۔
ایران دسمبر کے اواخر سے احتجاج کی لپیٹ میں ہے۔ احتجاج کی شروعات تو معاشی حالات اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی ریال کی قدر میں ریکارڈ کمی تھی لیکن پھر یہ مطالبات بڑھتے گئے اور نظام کی تبدیلی کا مطالبہ بھی کیا جانے لگا۔
مظاہرے تیزی سے دارالحکومت سے باہر پھیل گئے، ملک کے تقریباً 31 صوبوں میں بدامنی کی اطلاع دی گئی اور اس میں تاجر، طلبہ اور دیگر افراد شامل تھے۔
حکام نے گرفتاریوں، طاقت کے استعمال، انٹرنیٹ اور موبائل نیٹ ورک بند کرنے کر کے اس احتجاج پر قابو پانے کی کوشش کی جس کے بارے میں انسانی حقوق گروپوں کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد احتجاج کی کوریج کو محدود کرنا ہے۔
I urge all Pakistani citizens in Iran to keep their travel documents, particularly immigration-related documents such as passport and ID cards, readily available with them . Those who have expired documents, or their documents are not in their possession, they may kindly urgently…
— Ambassador Mudassir (@AmbMudassir) January 13, 2026
ایران میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’میں ایران میں موجود تمام پاکستانی شہریوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنے سفری دستاویزات، خاص طور پر امیگریشن سے متعلق دستاویزات جیسے پاسپورٹ اور شناختی کارڈز اپنے پاس رکھیں۔‘
سفیر مدثر ٹیپو نے پوسٹ میں مزید کہا کہ ’جن کے پاس دستاویزات کی میعاد ختم ہو چکی ہے یا ان کے کاغذات ان کے پاس نہیں ہیں، وہ فوری طور پر ہم سے رابطہ کریں۔‘
ایک علیحدہ پیغام میں انہوں نے کہا کہ ایرانی یونیورسٹیوں نے امتحانات کا شیڈول تبدیل کر دیا ہے اور سفیر نے پاکستانی طلبہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس کے مطابق اپنا منصوبے بنائیں۔
یکم جنوری کو پاکستان نے احتجاج سے منسلک حفاظتی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے شہریوں کو ایران کا سفر کرنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا تھا۔
تہران میں پاکستانی سفارت خانے نے شہریوں کو معاوفت فراہم کرنے کے لیے کرائسز مینجمنٹ یونٹ بھی قائم کیا جو 24 گھنٹے کام کرے گا
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، ایران نے منگل کو کچھ پابندیوں میں نرمی کی، جن سے کئی دنوں بعد موبائل نیٹ ورک کے ذریعے بین الاقوامی فون کالز کی اجازت دی گئی، لیکن انٹرنیٹ تک رسائی اور ٹیکسٹ میسجنگ پر پابندیاں برقرار رکھی گئیں کیونکہ مظاہروں سے مرنے والوں کی تعداد کم از کم 2571 ہو گئی ہے۔
ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تفصیلات فراہم کیے بغیر ایرانی مظاہرین پر زور دیا کہ وہ اپنے حکومت مخالف مظاہرے جاری رکھیں، یہ کہتے ہوئے کہ ’مدد جاری ہے۔‘
اس کے فوراً بعد ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے ایرانی شہریوں کی اموات کی ذمہ داری امریکہ اور اسرائیل پر عائد کی۔