’تمام آپشنز موجود‘: امریکہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں ایران کو دھمکی

دوسری جانب اقوامِ متحدہ میں ایرانی نائب سفیر حسین درزی نے واشنگٹن پر شدید تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران میں بدامنی کو تشدد کی طرف موڑنے میں امریکہ ’براہِ راست شامل‘ ہے۔

15 جنوری 2026 کو نیویارک میں ایران کی صورتِ حال پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کا عمومی منظر (اینجیلا وائز / اے ایف پی)

کئی ہفتوں سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران جمعرات کو امریکی اور ایرانی حکام اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں آمنے سامنے آئے، جہاں امریکہ کے نمائندے نے ایران کے خلاف دھمکیوں کی تجدید کی، وہیں تہران کے نمائندے نے بدامنی میں امریکہ کو ملوث ٹھہرایا۔

امریکہ نے ایرانی حکومت کی جانب سے ملک گیر احتجاج پر خونریز کریک ڈاؤن کی مذمت میں ایرانی حکومت کے مخالفین کا ساتھ دیا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ اس کریک ڈاؤن میں کم از کم 2,677 افراد جان سے جا چکے ہیں۔ ایک ایرانی عہدیدار نے کریک ڈاؤن کے دوران سکیورٹی اہلکاروں سمیت 2000 اموات کی تصدیق کی تھی۔

اموات کی یہ تعداد گذشتہ کئی دہائیوں میں ایران میں کسی بھی احتجاج یا بدامنی سے زیادہ ہے اور 1979 کے اسلامی انقلاب کے گردونواح میں پھیلے انتشار کی یاد دلاتی ہے۔

امریکہ کے اقوامِ متحدہ میں سفیر مائیک والٹز نے سلامتی کونسل کو بتایا: ’ساتھیو، مجھے واضح کرنے دیں: صدر ٹرمپ عمل کے آدمی ہیں، نہ کہ اقوامِ متحدہ میں نظر آنے والی لامتناہی باتوں جیسے۔

’انہوں نے واضح کر دیا ہے کہ قتلِ عام کو روکنے کے لیے میز پر تمام آپشنز موجود ہیں اور یہ بات ایرانی نظام کی قیادت سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔‘

مائیک والٹز کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب مظاہرین کی اموات کے ردعمل میں امریکی کارروائی کا امکان اب بھی خطے پر منڈلا رہا تھا، حالانکہ ٹرمپ نے ممکنہ کشیدگی میں کمی کا اشارہ دیتے ہوئے بدھ کو کہا تھا کہ قتل و غارت بظاہر ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ جمعرات تک ایران کی مذہبی حکومت کو چیلنج کرنے والے احتجاج تیزی سے کم ہوتے دکھائی دیے، تاہم ریاست کی جانب سے انٹرنیٹ اور مواصلاتی بلیک آؤٹ بدستور برقرار رہا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران اقوامِ متحدہ میں ایرانی نائب سفیر حسین درزی نے امریکہ پر شدید تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ ایران میں بدامنی کو تشدد کی طرف موڑنے میں امریکہ ’براہِ راست شامل‘ ہے۔

حسین درزی نے کہا: ’ایرانی عوام کے لیے تشویش اور انسانی حقوق کی حمایت کے کھوکھلے بہانے کے تحت، امریکہ خود کو ایرانی عوام کا دوست ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ بیک وقت نام نہاد ’انسانی ہمدردی‘ کے بیانیے کے سائے میں سیاسی عدم استحکام اور فوجی مداخلت کی بنیاد رکھ رہا ہے۔‘

ہنگامی سلامتی کونسل اجلاس کی درخواست امریکہ نے کی تھی اور دو ایرانی مخالفین مسیح علی نژاد اور احمد باطبی کو مدعو کیا تاکہ وہ ایرام کی جانب سے خود کو نشانہ بنائے جانے کے اپنے تجربات بیان کریں۔

اجلاس کے دوران ایک موقعے پر مسیح علی نژاد نے براہِ راست ایرانی نمائندے سے مخاطب ہو کر کہا: ’آپ نے مجھے تین بار قتل کرنے کی کوشش کی۔ میں نے اپنے باغ کے سامنے، بروکلین میں اپنے گھر میں، اپنی آنکھوں سے اپنے ممکنہ قاتل کو دیکھا۔‘

اس دوران ایرانی عہدیدار کسی ردعمل کے بغیر سامنے کی طرف دیکھتے رہے۔

دو مبینہ روسی جرائم پیشہ افراد کو ایرانی حکومت کی ایما پر تین سال قبل نیویارک میں مسیح علی نژاد کو گھر پر مارنے کے لیے ایک قاتل کی خدمات حاصل کرنے کے الزام میں گذشتہ برس اکتوبر میں 25 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

دوسری جانب احمد باطبی نے بتایا کہ ایران میں جیل کے محافظ ان پر گہرے زخم لگاتے اور پھر ان زخموں پر نمک ڈال دیتے تھے۔ انہوں نے کونسل سے کہا: ’اگر آپ کو یقین نہیں تو میں ابھی اپنا جسم دکھا سکتا ہوں۔‘

دونوں مخالفین نے عالمی ادارے اور کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اسے جواب دہ ٹھہرانے کے لیے مزید اقدامات کریں۔ باطبی نے ٹرمپ سے التجا کی کہ وہ ایرانی عوام کو ’تنہا‘ نہ چھوڑیں۔

انہوں نے کہا: ’آپ نے لوگوں کو سڑکوں پر نکلنے کی حوصلہ افزائی کی۔ یہ ایک اچھی بات تھی۔ مگر انہیں اکیلا نہ چھوڑیں۔‘

اجلاس کے دوران روس نے ایران کے اقدامات کا دفاع کیا اور امریکہ سے مداخلت روکنے کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب پاکستان نے بھی فریقین پر تحمل اختیار کرنے پر زور دیا۔

جمعرات کو سلامتی کونسل میں ’مشرق وسطیٰ کی صورت حال‘ پر اجلاس کے دوران پاکستانی مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا: ’ہم پختہ یقین رکھتے ہیں کہ تمام تنازعات کو پرامن ذرائع سے اور بین الاقوامی قانون کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’جاری دشمنیاں، طاقت کا استعمال اور یکطرفہ اقدامات ہمیں بنیادی مسائل کے حل سے مزید دور لے جائیں گے اور بلاوجہ انسانی تکالیف میں اضافہ کریں گے۔ طاقت کے استعمال کی دھمکی یا اس کا عملی استعمال صورتِ حال کو مزید بگاڑے گا اور علاقائی و بین الاقوامی امن و استحکام کو نقصان پہنچائے گا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا