ایک وقت تھا کہ شاہ آف ایران محمد رضا شاہ پہلوی امریکہ کی آنکھ کا تارا تھے۔ وہ خطے میں امریکی مفادات کے نگہبان سمجھے جاتے تھے لیکن پھر وقت نے پلٹا کھایا۔ ان کے خلاف تحریک چلی، انہیں معزول ہو کر ملک چھوڑنا پڑا مگر جس امریکہ کی آنکھ کا وہ تارا تھے، اس نے انہیں پناہ نہیں دی۔
16 جنوری 1979 کو جب ان کا جہاز فضا میں بلند ہوا تو خیال تھا کہ وہ امریکہ میں لینڈ کرے گا، جہاں کیلی فورنیا میں 200 ایکڑ پر محیط سنی لینڈ کا محل ان کے قیام کے لیے منتخب کر لیا گیا تھا لیکن شاہ نے امریکہ جانے کی بجائے انور سادات کے پاس قاہرہ رکنے کو ترجیح دی کیونکہ امریکہ سے گرین سگنل نہیں مل رہا تھا۔
ایک ہفتے کے بعد وہ مراکش کے بادشاہ شاہ حسین کے گھر چلے گئے۔ شاہ حسین نے بھی بدلتے حالات دیکھے تو مزید میزبانی سے معذرت کر لی۔ امریکہ شاہ کو آنے کی جازت نہیں دے رہا تھا۔ 14 فروری کو تہران میں امریکی سفارت خانے پر حملے کے بعد امریکہ کو خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ اگر اس نے شاہ کو پناہ دی تو اس سے تہران میں اس کے سفارتی عملے کی زندگیوں کو خطرات پیدا ہو جائیں گے۔
شاہ ایران اپریل میں بہاماس چلے گئے۔ 70 روز تک وہ بہاماس کے ساحلوں پر اس امید سے گھومتے رہے کہ شاید امریکہ سے اجازت آ جائے۔ اس دوران وہ بیمار ہو گئے تو امریکہ میں ان کے قریبی دوستوں ڈیوڈ راک فیلر، ہنری کسنجر اور جان میکائے نے ان کے میکسیکو میں قیام کا انتظام کر لیا۔
وہاں وہ شدید بیمار ہو گئے، انہیں کینسر کی تشخیص ہوئی جس کا علاج صرف امریکہ میں ہی ممکن تھا مگر امریکی صدر جمی کارٹر نے شاہ کو امریکہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی۔ ان کے دوستوں نے جمی کارٹر کو سمجھایا کہ اگر شاہ میکسیکو میں ہی مر گئے تو اس سے امریکہ کے اتحادیوں پر بہت برا اثر پڑے گا، جس پر بالآخر انہیں 22 اکتوبر کو راک فیلر کے ذاتی جہاز پر نیویارک پہنچایا گیا۔
ادھر 4 نومبر کو تہران میں طلبہ نے امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر کے 66 امریکیوں کو یرغمال بنا لیا جس پر امریکی حکومت کے دباؤ پر شاہ 15 دسمبر کو امریکہ چھوڑ کر پاناما چلے گئے۔ چند ماہ کے بعد انہیں انور سادات نے مصر بلا لیا جہاں وہ جولائی 1980 میں کینسر سے انتقال کر گئے۔
شاہ، جمی کارٹر کو اپنی حکومت کے خاتمے کا ذمہ دار سمجھتے تھے؟
ہنری کسنجر اور رچرڈ نکسن کے دور میں شاہ ایران خطے میں امریکہ کے سب سے اہم اتحادی تھے۔ جب جمی کارٹر1977 میں صدر بنے تو انسانی حقوق کے مسائل پر شاہ آف ایران کے اقدامات پر تنقید شروع کر دی۔
شاہ کے خلاف ہونے والے مظاہروں پر جب طاقت کا استعمال کیا جاتا تھا تو امریکہ ان کی مذمت کرتا تھا، جس پر شاہ کی رٹ کمزور پڑتی گئی کیونکہ یہ تاثر پیدا ہو گیا تھا کہ امریکہ شاہ کے ساتھ نہیں ہے۔ دوسری طرف شاہ چاہتے تھے کہ امریکہ فرانس پر دباؤ ڈالے تاکہ امام خمینی وہاں سے سیاسی سرگرمیاں جاری نہ رکھ سکیں مگر امریکہ نے فرانس سے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔
الٹا سٹیٹ ڈپارٹمنٹ سیاسی قیدیوں کی رہائی، پریس پر پابندیوں میں نرمی اور ساواک کے کردار کو محدود کرنے کے لیے شاہ پر دباؤ بڑھاتا رہا۔ شاہ انقلاب کو روکنے کے لیے سخت اقدامات چاہتا تھا جبکہ کارٹر انتظامیہ یہ مؤقف اپناتی رہی کہ تشدد کے ذریعے عوامی تحریکوں کو روکا نہیں جا سکتا۔ دراصل امریکہ اور شاہ کے درمیان تلخی کی ابتدا 1973 میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے سے ہوئی۔ امریکی معیشت کساد بازاری کا شکار تھی۔
عوام مہنگائی سے تنگ تھے اور دوسری جانب شاہ ایران جنہیں اوپیک میں مرکزی کردار حاصل تھا، کہتے تھے کہ ہم سستا تیل بیچ کر اپنی دولت مغرب کو کیوں منتقل کریں؟ جس سے واشنگٹن نے سمجھ لیا کہ شاہ امریکی مفادات کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ جبکہ شاہ چاہتے تھے کہ تیل کی قیمتوں کا فائدہ ایران کو ملے۔ جب سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا، ایران دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہا تھا۔
جب شاہ کے آخری چھ سالوں میں ایران نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا
سی آئی اے نے 1974 میں بھیجی گئی ایک خفیہ کیبل جسے 2005 میں منظر عام پر لایا گیا، میں لکھا کہ ’ایران دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت ہے جس نے پچھلی ایک دہائی میں دیگر تمام ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے ترقی کی رفتار مزید تیز کر دی ہے۔ 1973 میں ایران کی معیشت میں بڑھوتری 33 فیصد تھی جو اگلے سال بڑھ کر 40 فیصد ہو جائے گی۔‘
خفیہ کیبل کے مطابق: ’ایران کی مجموعی قومی پیداوار 40 ارب ڈالر ہے جو مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور مصر کے مقابلے میں چار گنا زائد ہے۔ ایران کے پانچ سالہ ترقیاتی منصوبے 77-1973 کے لیے مختص رقوم 23 ارب ڈالر سے بڑھا کر 45 ارب ڈالر کی جا رہی ہیں، جس کے بعد مستقبل قریب میں ایران کا صنعتی ڈھانچہ یورپی ممالک کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو جائے گا۔ ایران میں ایک بڑی سٹیل مل لگ رہی ہے اور نئی ریفائنریاں اور پیٹرو کیمیکل پلانٹس تعمیر کیے جا رہے ہیں۔‘
خفیہ کیبل میں مزید لکھا گیا کہ ’ایران میں تانبے کے قیمتی ذخائر نکالے جا رہے ہیں۔ ایٹمی بجلی گھروں کے آرڈر دیے جا چکے ہیں۔ اس دہائی میں شاہ کو صرف تیل کی مد میں سالانہ 20 ارب ڈالر کی آمدنی ہو گی۔ شاہ کی پالیسیوں اور ایران کی ترقی کو دیکھتے ہوئے غیر ملکی سرمایہ کار بھی بڑی تعداد میں آ رہے ہیں۔‘
ایران کو ابھرتا ہوا عالمی بینکار قرار دیتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ ’ایران کے پاس اس کی ضرورت سے زیادہ پیسے اکٹھے ہو رہے ہیں جس کو دیکھتے ہوئے شاہ نے غیر ملکی کاروباروں میں آٹھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر دی ہے۔ فرانس اور برطانیہ کو اربوں ڈالر کے پیشگی قرضے دیے گئے۔
’مغربی جرمنی کی سٹیل مل میں بھاری سرمایہ کاری کی گئی۔ انڈیا کے قرض کی حد میں اضافہ کر دیا ہے۔ مصر، شام اور افریقہ کے کئی چھوٹے ممالک کو قرضے دیے جا رہے ہیں جس سے ایران کے لیے تجارتی منڈی میں وسعت پیدا ہو رہی ہے۔
’ایران نے خلیج فارس اور بحر ہند میں اپنا فوجی اثرو رسوخ بڑھانے کے لیے 73-1967 کے دورانیے میں آٹھ ارب ڈالر کا اسلحہ خریدا ہے جو مشرق وسطیٰ میں سب سے زیادہ جنگی اخراجات ہیں، جس میں 60 کروڑ ڈالر کے ایف 14 طیارے، جو فضا سے فضا تک مار کرنے والے فونکس میزائلوں سے لیس ہیں، بھی شامل ہیں۔‘
خفیہ کیبل میں مزید کہا گیا کہ ’وہ فرانس، برطانیہ، اٹلی اور مغربی جرمنی سے بھی جدید ہتھیار خرید رہا ہے۔ مغربی یورپ کے کئی ممالک ایران میں جدید اسلحہ کی فیکٹریاں لگانے میں امریکہ کے مقابلے پر آ چکے ہیں۔ روس اس وقت ایران کو اسلحہ فروخت کرنے والا تیسرا سب سے بڑا ملک ہے مگر اب اسے صرف زمینی فوج کے اسلحہ تک محدود کر دیا گیا ہے۔‘
کیبل کے مطابق: ’ایران کے اندر پیسے کی فراوانی نے مہنگائی کو جنم دیا ہے۔ 1972 میں مہنگائی میں اضافے کی جو شرح چھ فیصد تھی وہ 1974 کی پہلی سہ ماہی میں بڑھ کر 16 فیصد ہو گئی۔ ارتکاز دولت کی ناہمواریاں عروج پر ہیں۔ ایران کی 20 فیصد امیر ترین اشرافیہ ملک کی آدھی دولت کی مالک ہے اور 20 فیصد غریب ترین لوگوں کے پاس صرف پانچ فیصد دولت ہے۔ شاہ کے ترقیاتی منصوبوں میں امریکہ کے لیے کئی مواقع ہیں۔ شاہ نے صنعتی ڈھانچے کے لیے چھ ارب ڈالر اورپانچ ارب ڈالر تیل و گیس کے شعبے کو ترقی دینے کے لیے مختص کر رکھے ہیں جس سے امریکی کمپنیاں فائدے اٹھا سکتی ہیں۔ ‘
مختار مسعود نے شاہ کے خلاف تحریک میں کیا دیکھا؟
نامور بیوروکریٹ اور صاحبِ اسلوب ادیب مختار مسعود کو 1978 میں چار سال کے لیے آر سی ڈی کا سیکریڑی جنرل بنا کر تہران میں تعینات کیا گیا تھا۔ یہی وہ ایام تھے جب شاہ کے خلاف تحریک کا آغاز ہوا تھا۔ مختار مسعود نے انقلاب کے دنوں کو قلمبند کر کے ایک کتاب ’لوحِ ایام‘ لکھی، جس میں بہت سے تاریخی واقعات ہیں ان میں سے ایک واقعے کے گواہ شاہ ایران کے ذاتی فضائی بیڑے کے پائلٹ ایک پاکستانی ونگ کمانڈر افضل ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہ وہی کمانڈر افضل ہیں جو راولپنڈی سازش کیس میں نامزد ملزم تھے مگر کسی طرح جان بچا کر پہلے افغانستان اور وہاں سے ایران فرار ہو گئے تھے۔ وہاں جا کر وہ جہازوں کی ایک نجی کمپنی سے بطور پائلٹ منسلک ہو گئے جہاں ان کی دوستی جنرل ربیع سے ہوئی جو بعد ازاں ایرانی فضائیہ کے سربراہ بنے تو انہوں نے ونگ کمانڈر افضل کو ایرانی شاہی بیڑے میں شامل کر لیا۔
ونگ کمانڈر افضل کہتے ہیں کہ جو بات شداد کے بارے میں صرف موت کے فرشتے کو معلوم تھی وہ شہنشاہ کے بارے میں صرف امریکہ کو معلوم تھی۔ وہ ایک امریکی کو لے کر کیش گئے تھے۔ سیر کرتے ہوئے اس امریکی مہمان نے ایرانی شاہی طیارے کے پاکستانی ہوا باز سے کہا کہ شہنشاہ کے اس محل کو دل بھر کر آج دیکھ لو ایک سال کے بعد کیش میں کوئی محل باقی نہیں رہے گا۔
افضل کا خیال ہے کہ ایرانی انقلاب کا آغاز امریکہ کی رضا مندی سے ہوا۔ بادشاہ کی تابعداری میں کمی آ رہی تھی۔
تیل کی عالمی سیاست کا تقاضا تھا کہ تیل برآمد کرنے والے ممالک کی انجمن کو کمزور کیا جائے۔ ایران اقتصادی ترقی کر رہا تھا۔ خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ وہ حالتِ ماتحتی سے نکل کر خود انحصاری کی منزل تک پہنچ سکتا ہے۔ اٹل اصول یہ ہے کہ جہاں کوئی ملک خود انحصاری سے ایک نسل کے فاصلے پر رہ جائے تو اس کا راستہ روک لو اور اسے سو پچاس سال پیچھے دھکیل دو۔
افضل نے کہا کہ جس ملک میں چڑیا پر مارنے سے پہلے امریکی اجازت نامہ حاصل کرے وہاں کیسے ممکن ہے کہ لوگ مہینوں سڑکوں پر انقلاب کی دھوپ میں مارے مارے پھریں اور ان کے سروں پر امریکہ کی نیک خواہشات کے سائبان کا سایہ نہ ہو۔
آج ایک بار پھر ایران میں عوامی مظاہرے ہو رہے ہیں، تب یہ شاہ ایران کے خلاف تھے، آج اس رجیم کے خلاف ہیں جو شاہ کے بعد سے گذشتہ 45 سال سے اقتدار میں ہے۔ تب بھی امریکہ کا کردار فیصلہ کن تھا آج پھر نظریں امریکہ پر ہیں۔
1979 میں ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد اور ایران پر لگائی گئی معاشی پابندیوں کی وجہ سے ایرانی معیشت کو کھربوں ڈالر کا نقصان پہنچ چکا ہے جس کی ایک جھلک ایرانی ریال کی قدر میں تاریخی گراوٹ ہے، جو اب تک ڈالر کے مقابلے میں 20,000 فیصد تک گر چکی ہے۔
آج ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 11 لاکھ ایرنی ریال ملتے ہیں۔ ایرانی معیشت تو گر چکی ہے، دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ ایران کی موجودہ حکومت کو بھی گرا پاتا ہے یا نہیں کیونکہ امریکہ کو سستا تیل چاہیے جس کے لیے ’رجیم چینج‘ کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔
نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔