ایک خوش کن خبر یہ آئی ہے کہ اٹلی پاکستان کو ساڑھے دس ہزار ورک ویزے دے گا۔
یہ بات پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے ایک پریس نوٹ میں بتائی، جو کہ پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی اور اٹلی میں ان کے ہم منصب ماتیو پیناتادوسی کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد جاری کیا گیا۔
تفصیلات میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس کا مقصد پاکستان سے اٹلی کو ہنر مند افرادی قوت کی فراہمی اور غیر قانونی امیگریشن کو فروغ دینا ہے، جس سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ ہر سال سینکڑوں پاکستانی یونان اور اٹلی کے ساحلوں پر غیرقانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، اس لیے اٹلی اس کے جواب میں پاکستان کی حکومت سے یہ توقع رکھے گا کہ وہ غیر قانونی تارکینِ وطن کو روکے۔
اسی پریس نوٹ میں وزارتِ داخلہ نے کہا کہ گذشتہ سال کے دوران پاکستان سے غیر قانونی طور پر بیرونِ ملک جانے والی کی تعداد میں47 فیصد کمی آئی ہے اور انسانی سمگلنگ میں ملوث 1,700 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
بیرونِ ملک روزگار کا طریقہ کار کیا ہے؟
بیرونِ ملک پاکستانیوں اور انسانی ترقی کی وزارت بیرون ملک ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ اس مقصد کے لیے وزارت کے کئی ایک ذیلی ادارے ہیں جن میں بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ، اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن اور اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن شامل ہیں۔
2020 میں وزارت نے اس حوالے سے کچھ تبدیلیاں کیں، جن کے مطابق اس سے پہلے مزدوروں کو بیرونِ ملک بھیجنے کی ذمہ داری مائگرنٹ ریسورس سینٹر کی تھی، جس نے نجی ریکروٹمنٹ ایجنسیوں کے ذریعے بیرونی ممالک بالخصوص خلیجی ممالک میں افرادی قوت بھیجی۔
وزارت یہ کام 1979 کے امیگریشن ایکٹ کے تحت سرانجام دیتی ہے جو پبلک اور پرائیویٹ دونوں ذرائع سے بیرون ملک افرادی قوت بھیجنے کی اجازت دیتا ہے۔ وزارت کے مطابق فروری 2025 تک پاکستان بھر میں2,697 لائسنس یافتہ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز ہیں جبکہ سرکاری سطح پر اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن بھی یہی فریضہ سرانجام دیتی ہے۔
گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ اوورسیز ایمپلائمنٹ کی جتنی ڈیمانڈ آتی ہے وہ یہی ادارہ مکمل کرتا ہے۔ وزارت اوورسیز ورکرز کو پانچ ذیلی کیٹیگریز میں تقسیم کرتا ہے جن میں انتہائی قابل، انتہائی ہنر مند، ہنر مند، کم ہنر مند اور غیر ہنر مند شامل ہیں۔
اس وقت کتنے لوگ اوورسیز ہیں؟
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پاپولیشن سٹڈیز کے مطابق پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے اور افردای قوت کے حوالے سے وہ دنیا میں نویں نمبر پر ہے۔ افرادی قوت کو ہنر مند بنانے کے لیے وفاقی حکومت نے متعدد سکیمیں شروع کر رکھی ہیں تاکہ نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر انہیں بیرون ملک ملازمتوں کے حصول میں مدد دی جا سکے۔
تاہم جتنے پاکستانی اوورسیز جاتے ہیں ان میں سب سے زیادہ تعداد خلیجی ممالک کو ہی جا رہی ہے، جن میں سعودی عرب سرفہرست ہے۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ حکومتِ پاکستان کے مطابق 1971 سے لے کر 2026 تک 14,889,598 افراد کو مختلف ملازمتوں کے سلسلے میں بیرونِ ملک بھیجا گیا، جن میں سے سعودی عرب 7,727,868 ملازمین کے ساتھ پہلے نمبر ہے۔ دوسرے نمبر پر متحدہ عرب امارات ہے جہاں اس دوران 4,449,796 افراد گئے۔
اومان 1,077,949 افراد کے ساتھ تیسرے اور قطر562,603 افراد کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔ اس فہرست کے مطابق یورپی ممالک میں جرمنی، یونان، اٹلی، پولینڈ، رومانیہ، سپین، سویڈن، سوئٹزر لینڈ اور برطانیہ میں بھی لوگ ورک ویزوں پر گئے ہیں۔
یورپی ممالک میں سرِ فہرست برطانیہ ہے جہاں 54,056 افراد گئے۔ دوسرے نمبر پر اٹلی میں 32,294 اور تیسرے نمبر پر یونان میں 9,304 افراد گئے۔ اسی دوران امریکہ میں 10,876 اور جنوبی کوریا میں20,565 افراد گئے۔
سٹیٹ بینک کے مطابق 2025 کے مالی سال میں بیرون ملک پاکستانیوں نے 38 ارب ڈالر کا زرمبادلہ بھجوایا تھا جبکہ اس سال کے مالی سال کے اختاتم تک یہ ہدف 41 ارب ڈالر کا لگایا گیا ہے۔ بیورو آف امیگرنٹس کے مطابق گذشتہ سال 762,499 افراد روزگار کے لیے بیرونِ ملک گئے جبکہ 2026 کے اختتام تک حکومت نے آٹھ لاکھ لوگوں کو بیرونِ ملک بھجوانے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔
یورپی مارکیٹ میں پاکستانیوں کے لیے رکاوٹ کیا ہے؟
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب اٹلی نے پاکستان کو ورک ویزوں کی یقین دہانی کروائی ہے۔ اس سے پہلے گذشتہ سال مئی میں اٹلی کے وزیرداخلہ پاکستان آئے تھے اور انہوں نے ایوانِ صدر میں وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کے ساتھ ایوانِ صدر میں مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے تھے، جس میں بتایا گیا تھا کہ اٹلی پاکستانیوں کو تین سال تک سالانہ ساڑھے تین ہزار ورک ویزے جاری کرے گا۔
اس کے جوائنٹ ورکنگ گروپ کا اجلاس اس سال فروری میں اسلام آباد میں ہونا تھا مگر شاید پاکستان کی سکیورٹی صورت حال کی وجہ سے ہمارے وزیر داخلہ کو اٹلی جانا پڑا ہے۔ تب اسے حکومت کی ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا گیا تھا کہ اٹلی پہلا یورپی ملک ہے جس نے اپنے دروازے پاکستانیوں کے لیے کھولے ہیں۔
حالانکہ اس سے پہلے گذشتہ سال اپریل میں وزیراعظم شہباز شریف ایسی ہی یقین دہانی بیلا روس سے بھی لا چکے ہیں، جس میں انہیں ڈیڑھ لاکھ ورک ویزوں کی یقین دہانی کروائی گئی تھی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین سرفراز ظہور چیمہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’کئی یورپی ممالک جن میں یونان، بلغاریہ، سربیہ، پرتگال اور پولینڈ میں پاکستانی افرادی قوت کی کھپت ہو سکتی ہے مگر پاکستان میں اس شعبے میں اتنی پیچیدگیاں ہیں کہ یہ بیل منڈھے نہیں چڑھ رہی۔
’یورپ تو درکنار خلیجی ممالک میں بھی دبئی ایک عرصے سے پاکستانیوں کے لیے بند پڑا ہے مگر حکومت کچھ نہیں کر رہی۔ کویت نے 2022 میں 30 سال بعد پاکستانیوں کے لیے اپنے دروازے کھولے مگر ابھی تک خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔ 2020 میں جاپان نے پالیسی بنائی کہ وہ پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال کو 3,400,00 ورک ویزے جاری کرے گا، اس میں پاکستان کے لیے الگ سے کوئی کوٹہ نہیں تھا۔ حکومت چاہتی تو اس سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کر سکتی تھی۔
’سپین، اٹلی، رومانیہ اور یونان سے مسئلہ ورک ویزوں کے اجرا کا نہیں بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہاں سے ورک ویزے جاری ہونے کے باوجود یہاں ان کے سفارت خانے ان کے انٹرویو کی اپائنٹمنٹ نہیں دیتے، جس کی وجہ سے لوگ ایجنٹ مافیا کو صرف انٹرویو کروانے کے لیے لاکھوں روپے لٹا دیتے ہیں۔‘
سرفراز ظہور چیمہ نے بتایا کہ ’اس وقت ماہانہ 70 ہزار کے قریب ہنر مند اور غیر ہنر مند نوجوان بیرون ملک جا رہے ہیں جن میں سے 70 فیصد کے قریب صرف سعودی عرب جا رہے ہیں، جس کی وجہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی پاکستان دوستی ہے۔‘
سرفراز ظہور چیمہ نے بتایا کہ ’ایئر پورٹس پر انسانی سمگلنگ کے نام پر اتنی بڑی تعداد میں آف لوڈنگ ہو رہی ہے کہ اب جن ممالک کو افرادی قوت کی ضرورت ہے ان میں یہ تاثر پیدا ہو گیا ہے کہ شاید پاکستان سے افرادی قوت کو منگوانا ممکن نہیں رہا، اس لیے اب ان کا رجحان دوسرے ممالک کی جانب ہو رہا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’جب حکومت کا پروٹیکٹر آف امیگریشن آفس سرٹیفکیٹ جاری کر دیتا ہے تو اس کے مطلب ہوتا ہے کہ اس بندے نے بیرونِ ملک ملازمت کے حصول کی تمام ضروریات پوری کر دی ہیں مگر پھر بھی اسے حکومت کا ایک دوسرا ادارہ آف لوڈ کر دیتا ہے۔ یہ اتنا بڑا تضاد ہے، جس کی وجہ سے یہ سیکٹر بری طرح ہل کر رہ گیا ہے۔‘
ان حالات میں جب یہ سیکٹر خلیجی ممالک میں بھی کئی ایک چیلنجوں سے نبرد آزما ہے، وہیں یورپی ممالک کے مژدے سنا کر قوم کو خوش تو کیا جا سکتا ہے مگر عملی طور پر کیا کچھ ہو گا، یہ وقت ہی بتائے گا۔