وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ نامکمل یا غیر تصدیق شدہ سفری دستاویزات رکھنے والے مسافروں کو کسی صورت بیرون ملک سفر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یہ اقدام غیر قانونی امیگریشن اور ویزا کے غلط استعمال کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے تحت کیا جا رہا ہے۔
وزارت داخلہ کے مطابق ہفتے کو کراچی ائیرپورٹ کے دورے کے دوران محسن نقوی نے امیگریشن کے عمل کا جائزہ لیا، بیرون ملک جانے والے مسافروں سے ملاقات کی اور انہیں درپیش مشکلات کے بارے میں دریافت کیا۔
وفاقی وزیر نے حکام کو ہدایت کی کہ سفری عمل کو شفاف اور موثر بنایا جائے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ نامکمل اور غیر مصدقہ دستاویزات کے حامل مسافروں کو کسی بھی صورت سفر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ برسوں میں جعلی دستاویزات کے ساتھ کئی پاکستانی اور غیر ملکی شہریوں کی گرفتاریوں کے بعد غیر قانونی امیگریشن کے مسئلے پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
حکومت نے ان افراد کے خلاف بھی کارروائی تیز کر دی ہے جو سعودی عرب میں ویزا کے غلط استعمال کے ذریعے لوگوں سے رقم بٹورتے ہیں۔
حکام کے مطابق اس عمل سے پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے اور اصل ویزا حاصل کرنے والوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کی عزت و وقار سب سے مقدم ہے اور کسی کو بھی ملک کی ساکھ خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ درست اور مکمل دستاویزات رکھنے والے کسی مسافر کو نہ روکا گیا ہے اور نہ ہی روکا جائے گا۔
وزیر داخلہ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حالیہ مہینوں میں کئی مسافروں کو آف لوڈ کیے جانے کی شکایات موصول ہو رہی تھیں،
لاہورسمیت پاکستان کے تمام بڑے ایئر پورٹس پر ویزا اور دیگر سفری دستاویز ہونے کے باوجود شہریوں کو آف لوڈ کیے جانے پر شدید ردعمل سامنے آنے کے بعد وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) حکام نے وضاحت دی صرف مسافروں کو روکا جا رہا ہے جو مشکوک یا نامکمل دستاویزات کے زریعے بیرون ملک جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ تین برسوں میں تقریباً 29 لاکھ پاکستانی ملک چھوڑ چکے ہیں۔ بیرون ملک نقل مکانی کی بڑی وجوہات میں کم تنخواہیں، سہولیات کی کمی اور نجی تعلیمی اداروں کے بڑھتے ہوئے اخراجات شامل ہیں۔
ایف آئی اے ریکارڈ کے مطابق رواں ماہ صرف لاہور ایئر پورٹ سے مختلف ممالک میں جانے والے دو ہزار سے زائد افراد کو آف لوڈ کیا جا چکا ہے۔
ایف آئی اے لاہور کے ڈائریکٹر کیپٹن ریٹائرڈ علی ضیا نے گذشتہ نومبر کو انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا تھا کہ ’ایف آئی اے کے بارے میں سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے جس میں بیرون ملک جانے والوں کو رشوت نہ دینے پر آف لوڈ کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ ہم صرف ایسے مسافروں کو روک رہے ہیں جو ویزا لے کر دوسرے ممالک جا کر غیر قانونی کاموں یا بھیک مانگ کر ملک کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔‘