منڈی بہاؤالدین کے رہائشی جاوید گوندل کا کہنا ہے انہیں ورک ویزا اور ملازمت کے دستاویزات ہونے کے باوجود علامہ اقبال انٹر نیشنل ایئر پورٹ سے امیگریشن اہلکاروں نے دو بار آف لوڈ کردیا جس سے ان کی تین لاکھ روپے کی ٹکٹس ضائع ہوگئیں۔
لاہورسمیت پاکستان کے تمام بڑے ایئر پورٹس پر ویزا اور دیگر سفری دستاویز ہونے کے باوجود شہریوں کو آف لوڈ کیے جانے پر شدید ردعمل سامنے آنے کے بعد وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) حکام نے وضاحت دی صرف مسافروں کو روکا جا رہا ہے جو مشکوک یا نامکمل دستاویزات کے زریعے بیرون ملک جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ تین برسوں میں تقریباً 29 لاکھ پاکستانی ملک چھوڑ چکے ہیں۔ بیرون ملک نقل مکانی کی بڑی وجوہات میں کم تنخواہیں، سہولیات کی کمی اور نجی تعلیمی اداروں کے بڑھتے ہوئے اخراجات شامل ہیں۔
ایف آئی اے ریکارڈ کے مطابق رواں ماہ صرف لاہور ایئر پورٹ سے مختلف ممالک میں جانے والے دو ہزار سے زائد افراد کو آف لوڈ کیا جا چکا ہے۔
ایف آئی اے لاہور کے ڈائریکٹر کیپٹن ریٹائرڈ علی ضیا نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’ایف آئی اے کے بارے میں سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے جس میں بیرون ملک جانے والوں کو رشوت نہ دینے پر آف لوڈ کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ ہم صرف ایسے مسافروں کو روک رہے ہیں جو ویزا لے کر دوسرے ممالک جا کر غیر قانونی کاموں یا بھیک مانگ کر ملک کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔‘
ان شکایات کے پیش نظر وزیر خلہ محسن نقوی نے بھی ہفتے کو اسلام آباد ایئر پورٹ کو دورہ کیا اور ایف آئی اے ڈیسک کا جائزہ لیا۔ وزیر داخلہ نے ہدایات دیں کہ کسی بھی مسافر کو بلا وجہ تنگ نہ کیا جائے صرف دستاویزات کی چھان بین کو یقینی بنایا جائے۔
جاوید گوندل کے بقول: ’ہمارے ضلع سے پانچ میرے دوستوں کے ویزے اور دستاویزات ہونے کے باوجود انہیں آف لوڈ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے پاسپورٹ پر مشکوک ہونے کی مہر لگا دی گئی۔ اب ہم پانچ سال تک سفر نہیں کر سکتے ہمیں کہا جا رہا ہے ہمارا ضلع ریڈ لسٹ میں ہے اس لیے وہ سفر نہیں کر سکتے۔ ایسے حالات میں حکومت خود لوگوں کو بیرون ملک جانے کے لیے غیرقانونی راستے اختیار کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔‘
بیرون ملک نوکری یا سیر کے لیے پہلی بار جانے والوں کے لیے ایئر پورٹس پر قائم ایف آئی اے ڈیسک پر انٹرویو دینا پڑتا ہے۔
ایف آئی اے کے اہلکار علی ضیا کے بقول: ’متعدد ممالک میں ویب سائٹس کے ذریعے نوکریوں کے جعلی لیٹر بنا کر دیے جا رہے ہیں۔ جب ہم چیک کرتے ہیں تو ویزا لیٹر ایسی کمپنی کے نام سے جاری ہوتا ہے جو متعلقہ ملک میں رجسٹرڈ ہی نہیں ہوتی۔ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ مسافر کا سفری ریکارڈ کیا ہے، یہاں وہ کیا کام کرتا ہے، تعلیم نوکری کے مطابق ہے یا نہیں۔ پھر ہم دیگر دستاویزات بھی چیک کرتے ہیں۔‘
تاہم انہوں نے کہا کہ قانونی طریقے اور درست دستاویز رکھنے والے مسافروں کو کوئی نہیں روک رہا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایف آئی اے اسلام آباد کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’مسافروں کو ویزا یا مکمل دستاویزات ہونے کے باوجود آف لوڈ کیا جارہا ہے، جو مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ بہت سے لوگ اپنے جانور، جائیداد یا زیورات بیچ کر روزگار کے لیے بیرونِ ملک جانے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر انہیں درست کاغذات نہیں ملتے تو یہ ان کی غلطی نہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ آف لوڈ کیے گئے مسافروں کے ٹکٹ سمیت تمام اخراجات ریکور کراکر انہیں واپس کیے جائیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ بات درست ہے کہ اوورسیز پاکستانی بیرون ملک سے کروڑوں روپے کے زرمبادلہ بھیج کر ملکی معیشت کا سہارا بنے ہوئے ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ بیرون ملک روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا نظام بہتر بنایا جائے۔‘
ادھر لاہور کے ٹریول ایجنٹ تنویر ملک نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’ہم مختلف ممالک کے لیے ویزا سروس اور ٹکٹ فراہم کرتے ہیں۔ اگر کوئی شخص بیرون ملک جا کر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہوتا ہے تو متعلقہ ملک کی حکومت اور ایف آئی اے کو مکمل اختیار ہے کہ کارروائی کریں۔ اسی طرح جو ٹریول ایجنٹس غیر قانونی طریقوں سے کسی کی بیرون ملک روانگی میں مدد کرتے ہیں، ان کے خلاف بھی کارروائی کی جاتی ہے۔‘
اعداد و شمار کے مطابق 1981 سے اب تک بیرونِ ملک جانے والے پاکستانیوں کی مجموعی تعداد ایک کروڑ 38 لاکھ 90 ہزار تک پہنچ گئی ہے جب کہ صرف 15 ستمبر 2025 تک 28 لاکھ 94 ہزار 645 افراد پاکستان سے بیرون ملک گئے۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے تازہ ترین اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 1981 سے اب تک سب سے زیادہ 7 2 لاکھ سے زائد افراد پنجاب سے بیرون ملک گئے، اس کے بعد خیبر پختونخوا کے 35 لاکھ سے زائد، سندھ کے 12 لاکھ 80 ہزار اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے آٹھ لاکھ 13 ہزار 526 افراد نے روزگار کے لیے بیرون ملک گئے۔