امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بدھ کو امیگریشن کے خلاف سخت اقدامات کے تحت ’پاکستان‘ سمیت 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزوں کی درخواستوں پر کارروائی معطل کر دی ہے۔
اس حوالے سے امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے ایکس پر ایک سلسلہ وار پوسٹ کی گئی ہے۔
محکمہ خارجہ کے مطابق یہ معطلی 21 جنوری سے نافذ ہوگی اور اس کا اطلاق صومالیہ، ایران، روس، افغانستان، نائجیریا، یمن، تھائی لینڈ اور برازیل سمیت 75 ممالک کے درخواست گزاروں پر ہوگا۔
تاہم اس فیصلے کا اطلاق وزیٹر ویزوں پر نہیں ہوگا۔
The State Department will pause immigrant visa processing from 75 countries whose migrants take welfare from the American people at unacceptable rates. The freeze will remain active until the U.S. can ensure that new immigrants will not extract wealth from the American people.
— Department of State (@StateDept) January 14, 2026
پاکستان کا نام ان 75 ممالک میں شامل ہے یا نہیں اس حوالے سے تاحال امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے تو کچھ نہیں بتایا گیا۔
تاہم خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس اور فاکس نیوز کی رپورٹ میں شائع کی جانے والی فہرست میں پاکستان کا نام بھی شامل ہے۔
اس حوالے سے پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امیگرنٹ ویزوں کی معطلی سے متعلق میمو، جس کی خبر سب سے پہلے فاکس نیوز نے دی، امریکی سفارت خانوں کو ہدایت دیتا ہے کہ محکمہ اپنی پالیسیوں کا ازسرِ نو جائزہ لینے تک موجودہ قوانین کے تحت ویزے جاری کرنے سے انکار کریں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
محکمہ خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہ ہے کہ ’محکمہ خارجہ ان 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزوں کی کارروائی روک رہا ہے جن کے تارکینِ وطن امریکی عوام کی فلاحی سہولیات سے ناقابلِ قبول حد تک استفادہ کرتے ہیں۔
’یہ معطلی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک امریکہ یہ یقینی نہیں بنا لیتا کہ نئے مہاجرین امریکی عوام کے وسائل پر بوجھ نہیں بنیں گے۔‘
روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے جنوری میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد امیگریشن کے خلاف سخت گیر پالیسیوں پر عمل درآمد تیز کر دیا ہے۔
ان کی انتظامیہ نے بڑے امریکی شہروں میں وفاقی اہلکار تعینات کیے، جس کے نتیجے میں تارکینِ وطن اور بعض امریکی شہریوں کے ساتھ پرتشدد جھڑپیں بھی ہوئیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اب تک 100,000 سے زائد ویزے منسوخ کیے جا چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ویزوں کے اجرا کے لیے مزید سخت پالیسیاں اپنائی گئی ہیں، جن میں سوشل میڈیا کی کڑی جانچ پڑتال اور سکریننگ کے دائرۂ کار میں توسیع شامل ہے۔
گذشتہ سال نومبر میں صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے قریب ایک افغان شہری کی فائرنگ کے واقعے کے بعد، جس میں نیشنل گارڈ کا ایک اہلکار جان سے گیا تھا، تمام ’تیسری دنیا کے ممالک‘ سے مستقل طور پر ہجرت روکنے کا اعلان کرنے کا عندیہ دیا تھا۔