ایران کے ساتھ ممکنہ تنازعے کے پیش نظر قطر میں امریکی فضائی اڈے العدید کی سکیورٹی وارننگ لیول جمعرات کو کم کر دیا گیا ہے اور بدھ کو جاری الرٹ کے تحت عارضی طور پر منتقل کیے گئے طیارے دوبارہ اڈے پر واپس آنا شروع ہو گئے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وہ اہلکار جنہیں گذشتہ روز بیس چھوڑنے کا مشورہ دیا گیا تھا، اب انہیں بھی واپسی کی اجازت دے دی گئی ہے۔
بدھ کو اچانک سکیورٹی صورت حال میں ممکنہ سنگینی کے بعد امریکی عسکری حکام نے قطری ایئر بیس پر اپنے طیاروں اور عملے کی نقل و حرکت محدود کر دی تھی تاہم جمعرات کو صورت حال میں بہتری کے بعد الرٹ کم کر دیا گیا۔
روئٹرز نے امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ کچھ اہلکاروں کو حفاظتی طور پر نکالا گیا تھا مگر اب صورت حال معمول پر آنے لگی ہے۔
ادھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا جمعرات کو ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں کے خلاف ایرانی حکومت کی کارروائیوں پر امریکہ کی درخواست پر ہنگامی اجلاس ہو رہا ہے۔
ایران دسمبر کے اواخر سے احتجاج کی لپیٹ میں ہے۔ احتجاج کی شروعات تو معاشی حالات اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی ریال کی قدر میں ریکارڈ کمی تھی لیکن پھر یہ مطالبات بڑھتے گئے اور نظام کی تبدیلی کا مطالبہ بھی کیا جانے لگا۔
مظاہرے تیزی سے دارالحکومت سے باہر پھیل گئے، ملک کے تقریباً 31 صوبوں میں بدامنی کی اطلاع دی گئی اور اس میں تاجر، طلبہ اور دیگر افراد شامل تھے۔
حکام نے گرفتاریوں، طاقت کے استعمال، انٹرنیٹ اور موبائل نیٹ ورک بند کرنے کر کے اس احتجاج پر قابو پانے کی کوشش کی جس کے بارے میں انسانی حقوق گروپوں کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد احتجاج کی کوریج کو محدود کرنا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکہ کی جانب سے دباؤ بڑھنے کے بعد تہران نے حالات کو قابو کرنے کی کوشش میں نسبتاً نرمی اختیار کی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ ایران میں مظاہرین کو کے خلاف مہلک کریک ڈاؤن بند نہ کیا تو وہ کارروائی کریں گے، جن میں گرفتار مظاہرین کی ممکنہ سزائے موت بھی شامل تھی۔
امریکی ہیومن رائٹس ایکٹسوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق ایران میں ملک گیر احتجاج پر کریک ڈاؤن کے دوران کم از کم 2,615 افراد مارے جا چکے ہیں جو گذشتہ کئی دہائیوں میں ہونے والے کسی بھی احتجاجی سلسلے سے زیادہ اموات ہیں۔
ایران نے جمعرات کی صبح چند گھنٹوں کے لیے اپنی فضائی حدود بغیر وضاحت کے بند کر دیں جبکہ قطر میں ایک اہم امریکی فوجی اڈے پر عملے کو جزوی انخلا کی ہدایات جاری ہوئیں۔ کویت میں امریکی سفارتخانے نے بھی اپنے عملے کو فوجی تنصیبات کے سفر سے وقتی طور پر روک دیا ہے۔
ایران نے اس سے پہلے جون میں اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے دوران فضائی حدود بند کی تھیں۔
ادھر کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، برطانیہ، امریکہ اور یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندے پر مشتمل جی سیون نے ایک مشترکہ بیان میں ایران میں بڑھتی ہوئی اموات اور حکومتی کریک ڈاؤن پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
بیان میں ایرانی فورسز کی جانب سے مظاہرین کے خلاف ’جان بوجھ کر تشدد‘ کی مذمت کی گئی اور خبردار کیا گیا کہ اگر جبر جاری رہا تو مزید پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔
تاہم ترکی نے ایران میں کسی فوجی مداخلت کی مخالفت کی ہے۔
ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فدان نے جمعرات کو استنبول میں صحافیوں کو بتایا: ’ہم ایران میں کسی بھی فوجی مداخلت کے خلاف ہیإ۔ ایران کو اپنے داخلی مسائل سفارتکاری کے ذریعے حل کرنے چاہئیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’موجودہ بے چینی کی وجہ اقتصادی مسائل اور پابندیاں ہیں، نہ کہ حکومت کے خلاف نظریاتی بغاوت۔‘